چیف جسٹس کا دورہ تھر
تھرکا دورہ کرکے چیف جسٹس صاحب نے نہ صرف مظلوم عوام کے زخموں پر مرہم رکھا ہے بلکہ صوبائی حکومت کو بھی احساس دلایا۔
تھرکا دورہ کرکے چیف جسٹس صاحب نے نہ صرف مظلوم عوام کے زخموں پر مرہم رکھا ہے بلکہ صوبائی حکومت کو بھی احساس دلایا۔ فوٹو:فائل
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ تھرمیں صحت اور تعلیم کے حوالے سے مزیدکام کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی سے اسلام کوٹ پہنچے تھے۔ بلاشبہ اس وقت چیف جسٹس شب وروز سسٹم میں پائی جانے والی خرابیوں اور لاقانونیت کو درست کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ جوڈیشیل ایکٹو ازم کے باعث بہت سے عوامی مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
تھر میں خوراک کی کمی اور بہترعلاج ومعالجے کی سہولتوں نہ ہونے کے سبب نومولد وکمسن بچوں کی اموات کی خبریں تسلسل سے میڈیا میں آتی رہی ہیں، جسے ہم ایک انسانی المیے کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کی غفلت کا عملی مظاہرہ بھی قرار دے سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے سول اسپتال مٹھی پہنچ کر وہاں زیر علاج مریضوں کی عیادت کی ، اس موقعے پر سائلین نے انتظامیہ کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے۔
عوامی مسائل کو دیکھنے، پرکھنے اور جانچنے کا جو پیمانہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے مقررکیا ہے یہ ماضی کے پیمانوں سے یکسر مختلف ہے، اب قانون خود چل کر مظلوم کی مدد کو پہنچ رہا ہے اورکھلی آنکھوں سے مسائل کا مشاہدہ بھی کر رہا ہے اور اس کے حل کے لیے بھی کوشاں ہے ۔
تھرکے دورے کے بعد ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ تھر میں صحت کے حوالے سے جو اقدامات کیے جانے چاہییں وہ موجود نہیں ہیں،البتہ اس حوالے سے حکومت سندھ کی کوشش ضرور نظر آئی ہیں ۔ تھرکا دورہ کرکے چیف جسٹس صاحب نے نہ صرف مظلوم عوام کے زخموں پر مرہم رکھا ہے بلکہ صوبائی حکومت کو بھی احساس دلایا ہے کہ وہ انتظامی بدنظمی اورخامیوں کو دورکرکے عوام کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائیں ، تاکہ عوامی مسائل کا بروقت حل نکل سکے۔
تھر میں خوراک کی کمی اور بہترعلاج ومعالجے کی سہولتوں نہ ہونے کے سبب نومولد وکمسن بچوں کی اموات کی خبریں تسلسل سے میڈیا میں آتی رہی ہیں، جسے ہم ایک انسانی المیے کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کی غفلت کا عملی مظاہرہ بھی قرار دے سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے سول اسپتال مٹھی پہنچ کر وہاں زیر علاج مریضوں کی عیادت کی ، اس موقعے پر سائلین نے انتظامیہ کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے۔
عوامی مسائل کو دیکھنے، پرکھنے اور جانچنے کا جو پیمانہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے مقررکیا ہے یہ ماضی کے پیمانوں سے یکسر مختلف ہے، اب قانون خود چل کر مظلوم کی مدد کو پہنچ رہا ہے اورکھلی آنکھوں سے مسائل کا مشاہدہ بھی کر رہا ہے اور اس کے حل کے لیے بھی کوشاں ہے ۔
تھرکے دورے کے بعد ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ تھر میں صحت کے حوالے سے جو اقدامات کیے جانے چاہییں وہ موجود نہیں ہیں،البتہ اس حوالے سے حکومت سندھ کی کوشش ضرور نظر آئی ہیں ۔ تھرکا دورہ کرکے چیف جسٹس صاحب نے نہ صرف مظلوم عوام کے زخموں پر مرہم رکھا ہے بلکہ صوبائی حکومت کو بھی احساس دلایا ہے کہ وہ انتظامی بدنظمی اورخامیوں کو دورکرکے عوام کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائیں ، تاکہ عوامی مسائل کا بروقت حل نکل سکے۔