پشاور میں ایف سی چیک پوسٹ پر حملہ
واقعے کی ایف آئی آر نامعلوم شدت پسندوں کے خلاف درج کر لی گئی ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی نقل و حمل کے دوران ایف آر پشاور کے علاقے میں رات بارہ بجے سے صبح نماز فجر تک موبائل فون سروس بھی بند رہے گی۔ فوٹو: فائل
نیم خود مختار قبائلی علاقے ایف آر پشاور میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کی ایک چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے بھاری ہتھیاروں سے حملے کے نتیجے میں چھ اہل کار شہید اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں، اطلاعات کے مطابق حملے میں تین سے چار اہل کار لاپتہ بھی ہوئے ہیں، دوسری جانب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جوابی کارروائی میں بعض حملہ آوروں کو مارنے اور زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے، بھاری ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب شمشتو کیمپ کے قریب ایف سی کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں چھ اہل کار شہید ہوگئے،
ادھر تھانہ ارمڑ میں اس واقعے کی ایف آئی آر نامعلوم شدت پسندوں کے خلاف درج کر لی گئی ہے جب کہ شدت پسندوں کے خلاف پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آپریشن شروع کر دیا ہے، تاہم آخری اطلاعات تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی دوسری جانب ایف آر پشاور اور نواحی علاقوں میں شدت پسندوں کی جانب سے ایف سی کی چیک پوسٹوں پر حملے کے بعد آپریشن کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں جب کہ مضافات میں علاقہ غیر سے متصل سرحدات اور ایف آر پشاور میں مزید چوکیاں و چیک پوسٹیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے'
اس حوالے سے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سیکیورٹی فورسز کی نقل و حمل کے دوران ایف آر پشاور کے علاقہ میں رات بارہ بجے سے صبح نماز فجر تک موبائل فون سروس بھی بند رہے گی جب کہ اس حوالے سے علاقے میں مشتبہ افراد اور شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات پر علاقے میں بڑے آپریشن کا امکان ہے، علاوہ ازیں شمالی وزیرستان کے علاقے ڈانڈے درپہ خیل میں امریکی ڈرون حملے میں 18 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ڈرون طیاروں نے گذشتہ شب ڈانڈے درپہ خیل کے علاقے میں ایک گھر اور گاڑی پر 9 میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں 18 افراد لقمہ اجل بن گئے، حملے کے بعد بھی علاقے میں جاسوس طیاروں کی پروازیں کافی دتر تک جاری رہیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس کا عالم تھا،
اس واقعے پر اگرچہ پاکستانی حکومت نے احتجاج بھی کیا ہے اور ڈرون حملوں کو پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی کے خلاف بھی قرار دیا ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ گذشتہ ماہ 33 دہشت گردی کے واقعات میں 80 افراد جاں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جب کہ انتخابات سے قبل عسکریت پسند رہنماؤں نے مذاکرات کے لیے نواز شریف، مولانا فضل الرحمن اور منور حسن کی ضمانت بھی مانگی تھی اب جب کہ نواز شریف برسر اقتدار آئے ہیں اور مذکورہ دونوں شخصیات میں ایک کی نواز شریف کو حمایت بھی حاصل ہے، دوسری جانب تحریک انصاف کے قائد عمران خان بھی عسکریت پسندوں سے مذاکرات کے حامی چلے آرہے ہیں لیکن باوجود اس کے گذشتہ ایک ماہ سے عسکریت پسندی کی وارداتوں میں اضافہ سوالیہ نشان ہے اور جس نے مذاکرات کے حامی سیاست دانوں کو تذبذب میں مبتلا کر دیا ہے،
دوسری جانب وزیراعظم میاں نواز شریف نے عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی حکمت عملی مرتب کرنے کے حوالے سے 12 جولائی کو پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی آل جماعتی کانفرنس طلب کر لی ہے جس میں ملکی مجموعی امن و امان کی صورت حال، سلامتی سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے، جن میں ڈرون حملوں کا معاملہ بھی شامل ہے،
اس کے علاوہ جاری دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک قومی حکمت عملی بھی مرتب کی جائے گی لیکن یہاں سوال اٹھتا ہے کہ یہ پہلی اے پی سی تو نہیں اس سے قبل بھی اس سبیل کی کوششیں کی جا چکی ہیں جس کے نتائج و اثرات تاحال دھندلاہٹ کا شکار ہیں، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دہشت گردی کی عفریت پر قابو پانے کے لیے سری لنکا میں تامل ناڈو کے خلاف اپنائی جانے والی پالیسی سے سبق لینا چاہیے اور اس ضمن میں دو ٹوک اور فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہیے۔
ادھر تھانہ ارمڑ میں اس واقعے کی ایف آئی آر نامعلوم شدت پسندوں کے خلاف درج کر لی گئی ہے جب کہ شدت پسندوں کے خلاف پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آپریشن شروع کر دیا ہے، تاہم آخری اطلاعات تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی دوسری جانب ایف آر پشاور اور نواحی علاقوں میں شدت پسندوں کی جانب سے ایف سی کی چیک پوسٹوں پر حملے کے بعد آپریشن کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں جب کہ مضافات میں علاقہ غیر سے متصل سرحدات اور ایف آر پشاور میں مزید چوکیاں و چیک پوسٹیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے'
اس حوالے سے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سیکیورٹی فورسز کی نقل و حمل کے دوران ایف آر پشاور کے علاقہ میں رات بارہ بجے سے صبح نماز فجر تک موبائل فون سروس بھی بند رہے گی جب کہ اس حوالے سے علاقے میں مشتبہ افراد اور شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات پر علاقے میں بڑے آپریشن کا امکان ہے، علاوہ ازیں شمالی وزیرستان کے علاقے ڈانڈے درپہ خیل میں امریکی ڈرون حملے میں 18 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ڈرون طیاروں نے گذشتہ شب ڈانڈے درپہ خیل کے علاقے میں ایک گھر اور گاڑی پر 9 میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں 18 افراد لقمہ اجل بن گئے، حملے کے بعد بھی علاقے میں جاسوس طیاروں کی پروازیں کافی دتر تک جاری رہیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس کا عالم تھا،
اس واقعے پر اگرچہ پاکستانی حکومت نے احتجاج بھی کیا ہے اور ڈرون حملوں کو پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی کے خلاف بھی قرار دیا ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ گذشتہ ماہ 33 دہشت گردی کے واقعات میں 80 افراد جاں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جب کہ انتخابات سے قبل عسکریت پسند رہنماؤں نے مذاکرات کے لیے نواز شریف، مولانا فضل الرحمن اور منور حسن کی ضمانت بھی مانگی تھی اب جب کہ نواز شریف برسر اقتدار آئے ہیں اور مذکورہ دونوں شخصیات میں ایک کی نواز شریف کو حمایت بھی حاصل ہے، دوسری جانب تحریک انصاف کے قائد عمران خان بھی عسکریت پسندوں سے مذاکرات کے حامی چلے آرہے ہیں لیکن باوجود اس کے گذشتہ ایک ماہ سے عسکریت پسندی کی وارداتوں میں اضافہ سوالیہ نشان ہے اور جس نے مذاکرات کے حامی سیاست دانوں کو تذبذب میں مبتلا کر دیا ہے،
دوسری جانب وزیراعظم میاں نواز شریف نے عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی حکمت عملی مرتب کرنے کے حوالے سے 12 جولائی کو پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی آل جماعتی کانفرنس طلب کر لی ہے جس میں ملکی مجموعی امن و امان کی صورت حال، سلامتی سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے، جن میں ڈرون حملوں کا معاملہ بھی شامل ہے،
اس کے علاوہ جاری دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک قومی حکمت عملی بھی مرتب کی جائے گی لیکن یہاں سوال اٹھتا ہے کہ یہ پہلی اے پی سی تو نہیں اس سے قبل بھی اس سبیل کی کوششیں کی جا چکی ہیں جس کے نتائج و اثرات تاحال دھندلاہٹ کا شکار ہیں، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دہشت گردی کی عفریت پر قابو پانے کے لیے سری لنکا میں تامل ناڈو کے خلاف اپنائی جانے والی پالیسی سے سبق لینا چاہیے اور اس ضمن میں دو ٹوک اور فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہیے۔