ادائیگیوں کے باوجود حیدرآباد میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر

بلدیہ اعلی حیدرآبادمیںبعض افسران اس قدرطاقتورہیں کہ وہ ایڈمنسٹریٹرومیونسپل کمشنرکےاحکامات تک خاطرمیں نہیں لاتے.

پرانے ملازمین عید پر بھی تنخواہوں سے محروم، عدم ادائیگی پر کام بند کرنے کی دھمکی۔ فوٹو: فائل

حیدرآباد سٹی میں ٹھیکیداروں کو ادائیگی اور نئے ملازمین کو تنخواہ ملنے کے باوجود شہر کے اکثر علاقوں سے کچرے کے ڈھیر صاف نہیں کیے جا سکے جس کی وجہ سے شہری آج عید کی نماز پڑھنے کے لیے مختلف شاہراہوں پر جمع کچرے کے ڈھیر سے گزریں گے۔

دوسری جانب بلدیاتی افسران کا دعویٰ ہے کہ شہر کی تمام سڑکوں کو کچرے سے پاک کر دیا گیا اور شہری صاف ستھرے ماحول میں نماز عید کے اجتماعات میں شرکت کریں گے۔ ادھر لیاقت کالونی میں تاحال صفائی کی صورتحال بہتر نہیں ہو سکی، مین شاہراہ کی صفائی کے دعوے کے باوجود لیاقت کالونی کے مختلف علاقوں حبیب سینٹر، آئل ملز، سخی پیر روڈ، ٹیکسی اسٹینڈ، فردوس مسجد، پلاٹ نمبر 36، نالے والا روڈ اور دادن شاہ میں پولیس لائین چوک و دیگر علاقوں میں نالیوں اور نالوں سے بہہ کر آنے والا گندا پانی جمع تھا اور جا بجا کچرے کے ڈھیر موجود تھے جبکہ لبرٹی چوک پرنماز عید کی ادائیگی کی وجہ سے سہ پہر بلدیہ کے عملے نے کچرا ہٹا دیے تاہم لبرٹی چوک کے مختلف راستوں پر کچرے کے ڈھیر اسی طرح جمع تھے۔

ادھر پرانے ملازمین نے او زی ٹی شیئر سے تنخواہ نہ دینے اور سیاسی دبائو میں آ کر نئے ملازمین کو تنخواہوں اور ٹھیکیداروں کو مزید لاکھوں روپے کی ادائیگی پر عید کے بعد کام بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عید کے ایک ہفتے بعدانہیں جولائی کی تنخواہ ادا نہ کی گئی تو وہ کام بند کردیں گے تاہم تنخواہوں سے محروم رہ کر بھی وہ عید کے موقع پر لاکھوں شہریوں کو پریشان نہیں کرنا چاہتے، اس لیے صفائی کا کام انجام دے رہے ہیں۔


دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے بلدیاتی افسران کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کے باوجود سیاسی دبائو میں بلدیہ کے ماحول اور شہر میں صحت و صفائی کے نظام کو تباہ کرنے والے بلدیہ کے نصف درجن سے زاید پرانے افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونے دی جا رہی جس میں سے بعض افسران کی ترقیوں کے پروانے بھی جعلی ہونے کا انکشاف ہوا ہے تاہم ایسے افسران کی جانب سے تحقیقات کرنے والے تمام متعلقہ اداروں اور دفاتر کے لوگوں کو بلدیہ کے کھاتے میں ڈیزل اور پیڑول کی فراہمی کے باعث اب تک ان کے خلاف تحقیقات کا کھاتہ نہیں کھل سکا جبکہ افسران کی آپس کی گروپ بندی نے بھی شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

بلدیہ اعلی حیدرآباد میں بعض افسران اس قدر طاقتور ہیں کہ وہ ایڈمنسٹریٹر و میونسپل کمشنر کے احکامات تک خاطر میں نہیں لاتے جس کی وجہ سے انھوں نے بلدیہ کی پراپرٹی نہ صرف اونے پونے کرایے پر دے دی بلکہ پورے شہر کو تجاوزات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ گندے نالوں اور فٹ پاتھوں پر تجوازات کی بھرمار ہے جبکہ اب فٹ پاتھوں پر بڑی تعداد میں سائین بورڈز لگائے جا رہے ہیں جس کی اجازت بلدیہ کے طاقتور افسران، 10 سے 50 ہزار روپے ذاتی فیس لے کر دے رہے ہیں۔

مذکورہ افسران بلدیہ کی املاک کا کرایہ لینے میں فیل ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں ان کی پوسٹوں سے ہٹایا نہیں جاتا کیونکہ وہ سرکاری ریکوری میں بھلے ناکام ہوں لیکن اپنی ریکوری میں وہ ہمیشہ نمبر ون رہتے ہیں۔ بلدیہ اعلی حیدرآباد میں محض چند افسران کی خاطر12 لاکھ سے زائد آبادی کے تعلقہ کے عوام کو پریشانی پر اب تک کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت نے کوئی موثر احتجاج نہیں کیا جس سے تعلقہ سٹی کے عوام خود کو لاوارث سمجھنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

Recommended Stories

Load Next Story