پی اے سی کی سربراہی پر اتفاق
اپوزیشن نے یقین دلایا ہے کہ وہ حکومت گرانے یا کسی قسم کی محاذ آرائی کا حصہ نہیں بنے گی۔
اپوزیشن نے یقین دلایا ہے کہ وہ حکومت گرانے یا کسی قسم کی محاذ آرائی کا حصہ نہیں بنے گی۔ فوٹو: فائل
کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے! حکومت مان گئی کہ قائدحزب اختلاف شہباز شریف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کی سربراہی کریں گے جو آئینی ضرورت اور روایت بھی تھی مگر پیداشدہ بے سمت پارلیمانی کشمکش میں سیاستدان یہ بھول گئے کہ پارلیمنٹ کا بنیادی کام قانون سازی ہے ، بلیم گیم نہیں، پی اے سی کے حوالے سے پارلیمنٹ کے 123دن ضایع کر دیے گئے۔
جمعرات کو اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ اگر اپوزیشن ضد پر قائم ہے تو حکومت پیچھے ہٹ جاتی ہے۔
اپوزیشن لیڈر نیب کیسز سے دو چار ہیں، انھیں جس پر اعتماد ہو اس کا نام لیں حکومت مان جائے گی، تاہم یہ خوش آیند پیش رفت یا بقول ایاز صادق مثبت یوٹرن ہے، یوں حکومت اور اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانے پر اتفاق کرکے ڈیڈ لاک کا خوش اسلوبی سے خاتمہ کیا۔ فیصلہ کے مطابق لیگی منصوبوں کا آڈٹ خصوصی کمیٹی کریگی۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جمہوریت اور پارلیمانی نظام کی آئینی ضرورت ہے، یہ کوئی نیا تجربہ نہ تھا جب کہ حکومت اوراپوزیشن میں جاری رسہ کشی اور پنجہ آزمائی کی جگہ جمہوری اسپرٹ ، روادارانہ سیاست کو فتح نصیب ہوئی، اکاؤنٹس کمیٹی کا درجہ و رتبہ کسی عدلیہ کے برابر نہیں، نہ اس کی سفارشات پر ہر قیمت پر عملدرآمد کی حکومت پابند ہے، یہ درحقیقت داخلی احتساب اور کرپشن کے سدباب ، عوام سے متعلق منصوبوں کی تکمیل میں مکمل شفافیت، خورد برد کی روک تھام اور بے قاعدگیوں پر چارج شیٹ جاری کرنے کا انٹرنل ادارہ جاتی میکنزم ہے، اس سے حزب اختلاف کو وزرا، ان کے محکموں اور بیوروکریسی پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔
لیکن حکومت اس بات پر اڑی رہی کہ اپوزیشن شہباز شریف کے بجائے کوئی اور نام دے کیونکہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب نیب کو مقدمات میں مطلوب اور پابند سلاسل ہیں، مگر اس نکتے کو فراموش کیا گیا کہ وہ ایک بڑی جماعت کے منتخب صدر بھی ہیں، بہر حال پی اے سی کا معمہ حل کرکے حکومت اور اپوزیشن سردست ایک پیج پر آگئے ہیں، ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم، اپوزیشن سے ہونے والی مشاورت سے متعلق وزیراعظم کو آگاہ کرے گی جو اس حوالے سے جلد حتمی فیصلہ کریں گے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ فیصلہ بھی ہوا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی ذیلی کمیٹی بنائی جائے گی جس کا چیئرمین حکومت کے کسی نمایندے کو بنایا جائے گا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکومت نے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا۔ ایوان میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اظہار خیال کرتے ہوئے شاہ محمود کی بات سے اختلاف کیا، ان کا کہنا تھا نیب اور پی ٹی آئی کا چولی دامن کا ساتھ ہے، احتساب کا عمل اپوزیشن کے خلاف دن رات جاری ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ پاکستان کے مفاد میں ایک قدم آگے بڑھنے کو تیار ہیں۔اب حکومتی ٹیم، اپوزیشن سے ہونے والی مشاورت سے متعلق وزیراعظم کو آگاہ کرے گی جو اس حوالے سے حتمی فیصلہ کریں گے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ فیصلہ بھی ہوا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی ذیلی کمیٹی بنائی جائے گی جس کا چیئرمین حکومت کے کسی نمایندے کو بنایا جائے گا۔ یہاں اس بات کا اعادہ بے حد ضروری ہے کہ پارلیمنٹ جمہوریت کی شہ رگ ہے، حکومت قانون سازی پر مکمل توجہ دے ، قانون سازی ہوگی تو جمہوری نظام اور تبدیلی کے نعرہ پر اقتدار میں آنے والی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے ایجنڈے کو مکمل کرسکے گی ، قائمہ کمیٹیاں وجود میں آئیں گی تو پارلیمنٹ فنکشنل ہوگی، تلخیاں بڑھانے کا وقت نہیں، مفاہمانہ اور روادارانہ جذبہ سے کام لینا چاہیے۔
اپوزیشن نے یقین دلایا ہے کہ وہ حکومت گرانے یا کسی قسم کی محاذ آرائی کا حصہ نہیں بنے گی۔ یہ یقین دہانی صائب ہے اس لیے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران (ن) لیگی رکن سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈرجاری نہ ہونے پر اپوزیشن کو واک آؤٹ کے بجائے بامعنی بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔ اصل مسئلہ ایوان کے تقدس اور پارلیمانی روایات کی پاسداری کا ہے۔دنیا کے ایک ممتاز پارلیمنٹیرین کا کہنا ہے کہ مجھے علامت بنائے جانے پر کوئی اعتراض نہیں مگر میں یادگار monument بننا پسند نہیں کرونگا کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ کبوتر ان کا کیا حشر کرتے ہیں۔
لہٰذا پارلیمنٹ کے تعمیراتی حسن سے زیادہ اہمیت اس ایوان کے منتخب ارکان کی عوامی فلاح و بہبود کے لیے فکر انگیز تقاریر ، قابل عمل قانون سازی اور جمہوری رویوں اور سنجیدگی سے عوام کی خدمت کرنے کی ہے۔
جمعرات کو اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ اگر اپوزیشن ضد پر قائم ہے تو حکومت پیچھے ہٹ جاتی ہے۔
اپوزیشن لیڈر نیب کیسز سے دو چار ہیں، انھیں جس پر اعتماد ہو اس کا نام لیں حکومت مان جائے گی، تاہم یہ خوش آیند پیش رفت یا بقول ایاز صادق مثبت یوٹرن ہے، یوں حکومت اور اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانے پر اتفاق کرکے ڈیڈ لاک کا خوش اسلوبی سے خاتمہ کیا۔ فیصلہ کے مطابق لیگی منصوبوں کا آڈٹ خصوصی کمیٹی کریگی۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جمہوریت اور پارلیمانی نظام کی آئینی ضرورت ہے، یہ کوئی نیا تجربہ نہ تھا جب کہ حکومت اوراپوزیشن میں جاری رسہ کشی اور پنجہ آزمائی کی جگہ جمہوری اسپرٹ ، روادارانہ سیاست کو فتح نصیب ہوئی، اکاؤنٹس کمیٹی کا درجہ و رتبہ کسی عدلیہ کے برابر نہیں، نہ اس کی سفارشات پر ہر قیمت پر عملدرآمد کی حکومت پابند ہے، یہ درحقیقت داخلی احتساب اور کرپشن کے سدباب ، عوام سے متعلق منصوبوں کی تکمیل میں مکمل شفافیت، خورد برد کی روک تھام اور بے قاعدگیوں پر چارج شیٹ جاری کرنے کا انٹرنل ادارہ جاتی میکنزم ہے، اس سے حزب اختلاف کو وزرا، ان کے محکموں اور بیوروکریسی پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔
لیکن حکومت اس بات پر اڑی رہی کہ اپوزیشن شہباز شریف کے بجائے کوئی اور نام دے کیونکہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب نیب کو مقدمات میں مطلوب اور پابند سلاسل ہیں، مگر اس نکتے کو فراموش کیا گیا کہ وہ ایک بڑی جماعت کے منتخب صدر بھی ہیں، بہر حال پی اے سی کا معمہ حل کرکے حکومت اور اپوزیشن سردست ایک پیج پر آگئے ہیں، ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم، اپوزیشن سے ہونے والی مشاورت سے متعلق وزیراعظم کو آگاہ کرے گی جو اس حوالے سے جلد حتمی فیصلہ کریں گے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ فیصلہ بھی ہوا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی ذیلی کمیٹی بنائی جائے گی جس کا چیئرمین حکومت کے کسی نمایندے کو بنایا جائے گا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکومت نے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا۔ ایوان میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اظہار خیال کرتے ہوئے شاہ محمود کی بات سے اختلاف کیا، ان کا کہنا تھا نیب اور پی ٹی آئی کا چولی دامن کا ساتھ ہے، احتساب کا عمل اپوزیشن کے خلاف دن رات جاری ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ پاکستان کے مفاد میں ایک قدم آگے بڑھنے کو تیار ہیں۔اب حکومتی ٹیم، اپوزیشن سے ہونے والی مشاورت سے متعلق وزیراعظم کو آگاہ کرے گی جو اس حوالے سے حتمی فیصلہ کریں گے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ فیصلہ بھی ہوا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی ذیلی کمیٹی بنائی جائے گی جس کا چیئرمین حکومت کے کسی نمایندے کو بنایا جائے گا۔ یہاں اس بات کا اعادہ بے حد ضروری ہے کہ پارلیمنٹ جمہوریت کی شہ رگ ہے، حکومت قانون سازی پر مکمل توجہ دے ، قانون سازی ہوگی تو جمہوری نظام اور تبدیلی کے نعرہ پر اقتدار میں آنے والی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے ایجنڈے کو مکمل کرسکے گی ، قائمہ کمیٹیاں وجود میں آئیں گی تو پارلیمنٹ فنکشنل ہوگی، تلخیاں بڑھانے کا وقت نہیں، مفاہمانہ اور روادارانہ جذبہ سے کام لینا چاہیے۔
اپوزیشن نے یقین دلایا ہے کہ وہ حکومت گرانے یا کسی قسم کی محاذ آرائی کا حصہ نہیں بنے گی۔ یہ یقین دہانی صائب ہے اس لیے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران (ن) لیگی رکن سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈرجاری نہ ہونے پر اپوزیشن کو واک آؤٹ کے بجائے بامعنی بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔ اصل مسئلہ ایوان کے تقدس اور پارلیمانی روایات کی پاسداری کا ہے۔دنیا کے ایک ممتاز پارلیمنٹیرین کا کہنا ہے کہ مجھے علامت بنائے جانے پر کوئی اعتراض نہیں مگر میں یادگار monument بننا پسند نہیں کرونگا کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ کبوتر ان کا کیا حشر کرتے ہیں۔
لہٰذا پارلیمنٹ کے تعمیراتی حسن سے زیادہ اہمیت اس ایوان کے منتخب ارکان کی عوامی فلاح و بہبود کے لیے فکر انگیز تقاریر ، قابل عمل قانون سازی اور جمہوری رویوں اور سنجیدگی سے عوام کی خدمت کرنے کی ہے۔