تنخواہوں کی عدم ادائیگی بلدیاتی اساتذہ کا سوک سینٹر پر دھرنا
سیکڑوں اساتذہ کا 2 ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر سوک سینٹر کے باہر احتجاج
گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے ،نوبت فاقوں تک پہنچ گئی،رمضان کی آمد ہے ہمارے پاس سحر و افطار کیلیے رقم نہیں،اساتذہ اور عملے کی دہائی،دھرنے سے ٹریفک جام ہوگیا ۔ فوٹو : فائل
بلدیاتی اسکولوں کے اساتذہ اور ملازمین نے دوماہ سے تنخواہوں کے عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج کا آغاز کردیا ہے اورکراچی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے بلدیاتی اسکولوں کے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کوتنخواہیں نہ ملنے کے خلاف گزشتہ روز سیکڑوں اساتذہ اورملازمین نے سوک سینٹرکے باہر اور عمارت میں شدید احتجاج کیا ۔
سوک سینٹرکے باہراحتجاج کے سبب اطراف کی سڑکوں پرکئی کلومیٹر تک بدترین ٹریفک جام ہوگیا جبکہ احتجاج کے دوران مظاہرین نے سوک سینٹر ہنگامہ آرائی کی بلدیہ عظمیٰ کراچی کے شعبہ مالیات کے دفاتر کے شیشے توڑدیے اورفرنیچر باہر پھینک دیا، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تحت بلدیاتی اسکولوں کے اساتذہ اور ملازمین جمعرات کوسوک سینٹرکے باہر جمع ہوئے اورکئی گھنٹے تک سوک سینٹر کے باہر دھرنا دیا اساتذہ دو ماہ سے تنخواہیں جاری نہ ہونے کے خلاف احتجاج کررہے تھے اس موقع پر اساتذہ نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں تنخواہوں کی فوری ادائیگی کے مطالبات درج تھے ملازمین کا کہنا تھا کہ ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے ہیں گھروں میں فاقوں کی نوبت ہے وہ بلدیہ عظمیٰ کے اسکولوں میں ڈیوٹی پوری دیانت داری سے انجام دے رہے ہیں ۔
تاہم بلدیہ عظمیٰ انھیں تنخواہیں جاری نہیں کررہی رمضان المبارک کی آمد ہے لیکن ان کے پاس سحرو افطارکے انتظام کے لیے بھی رقم نہیں ہے ،اساتذہ نے اس موقع پر شدید نعرے بازی کی اورتنخواہوں کے فوری اجرا کامطالبہ کیا، چند مظاہرین دھرنے سے نکل کرسوک سینٹر میں گھس گئے اور پانچویں منزل پر کراچی میونسپل کارپویشن کے مالیاتی دفاتر میں ہنگامہ آرائی کرکے دفاترکے شیشے توڑدیے اور فرنیچر ودفتری سامان پھینک دیا اس دوران شیشہ ٹوٹنے سے احتجاج کرنے والاایک ملازم زخمی ہوگیا، احتجاجی ملازمین میں خواتین اساتذہ کی بھی بڑی تعداد شامل تھی جوتنخواہیں جاری کرنے کامطالبہ کررہی تھی،اساتذہ کے سوک سینٹرکے باہر دھرنے کے سبب جیل چورنگی سے نیپاچورنگی جبکہ نیشنل اسٹڈیم سے لیاقت آباد تک بدترین ٹریفک جام رہا اورگاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں ٹریفک جام کے سبب شہریوں کو دشواری کاسامناکرنا پڑا ۔
سوک سینٹرکے باہراحتجاج کے سبب اطراف کی سڑکوں پرکئی کلومیٹر تک بدترین ٹریفک جام ہوگیا جبکہ احتجاج کے دوران مظاہرین نے سوک سینٹر ہنگامہ آرائی کی بلدیہ عظمیٰ کراچی کے شعبہ مالیات کے دفاتر کے شیشے توڑدیے اورفرنیچر باہر پھینک دیا، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تحت بلدیاتی اسکولوں کے اساتذہ اور ملازمین جمعرات کوسوک سینٹرکے باہر جمع ہوئے اورکئی گھنٹے تک سوک سینٹر کے باہر دھرنا دیا اساتذہ دو ماہ سے تنخواہیں جاری نہ ہونے کے خلاف احتجاج کررہے تھے اس موقع پر اساتذہ نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں تنخواہوں کی فوری ادائیگی کے مطالبات درج تھے ملازمین کا کہنا تھا کہ ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے ہیں گھروں میں فاقوں کی نوبت ہے وہ بلدیہ عظمیٰ کے اسکولوں میں ڈیوٹی پوری دیانت داری سے انجام دے رہے ہیں ۔
تاہم بلدیہ عظمیٰ انھیں تنخواہیں جاری نہیں کررہی رمضان المبارک کی آمد ہے لیکن ان کے پاس سحرو افطارکے انتظام کے لیے بھی رقم نہیں ہے ،اساتذہ نے اس موقع پر شدید نعرے بازی کی اورتنخواہوں کے فوری اجرا کامطالبہ کیا، چند مظاہرین دھرنے سے نکل کرسوک سینٹر میں گھس گئے اور پانچویں منزل پر کراچی میونسپل کارپویشن کے مالیاتی دفاتر میں ہنگامہ آرائی کرکے دفاترکے شیشے توڑدیے اور فرنیچر ودفتری سامان پھینک دیا اس دوران شیشہ ٹوٹنے سے احتجاج کرنے والاایک ملازم زخمی ہوگیا، احتجاجی ملازمین میں خواتین اساتذہ کی بھی بڑی تعداد شامل تھی جوتنخواہیں جاری کرنے کامطالبہ کررہی تھی،اساتذہ کے سوک سینٹرکے باہر دھرنے کے سبب جیل چورنگی سے نیپاچورنگی جبکہ نیشنل اسٹڈیم سے لیاقت آباد تک بدترین ٹریفک جام رہا اورگاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں ٹریفک جام کے سبب شہریوں کو دشواری کاسامناکرنا پڑا ۔