پاکستان کو معاشی اصلاحات کا امریکی مشورہ
موجودہ پاکستانی حکومت ملک کو درپیش اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔
موجودہ پاکستانی حکومت ملک کو درپیش اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ فوٹو: فائل
لاہور:
امریکی محکمہ خزانہ کے انڈر سیکریٹری برائے بین الاقوامی امورڈیوڈ ملپاس نے ایوانِ نمائندگان کی ایک کمیٹی میں عالمی مالیاتی اداروں سے متعلق سماعت کے دوران کہا کہ پاکستان کو اقتصادی طور پر ناکام ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے، امریکا کے لیے یہ بات اہم ہے کہ پاکستان اپنی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے دوررس اصلاحات کرے، امریکا اس بات کی بھی پوری کوشش کرے گا کہ پاکستان عالمی مالیاتی فنڈ سے ملنے والے ممکنہ قرض کی رقم چین سے حاصل کیے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال نہ کرے۔
امریکی عہدیدار کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان نے بیرونی ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے نمٹنے کی نیت سے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے مجوزہ بیل آؤٹ پیکیج کے لیے رجوع کر رکھا ہے۔
امریکی ایوان میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر فنانشل سروسز کمیٹی کی سماعت کے دوران مختلف امریکی قانون سازوں نے اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے قرض کو سی پیک کے لیے چین سے لیے گئے 60 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کے لیے استعمال کر سکتا ہے، اسی طرح کچھ قانون سازوں نے تشویش ظاہر کی تھی کہ پاکستان کو درپیش اقتصادی چیلنجز کے لیے چین کی جانب سے دیا جانے والا بڑا قرضہ ذمے دار ہے۔
موجودہ پاکستانی حکومت ملک کو درپیش اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے، حکومت کے اقتصادی بزرجمہر یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ وہ ملکی معاشی نظام میں اصلاحات کے ذریعے اقتصادی بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن جب صورت حال سنبھلتی نظر نہ آئی تو یہ کہا جانے لگا کہ قرضوں کی ادائیگیوں میں توازن پیدا کرنے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانا ہی پڑے گا۔
اگر پاکستان آئی ایم ایف سے قرضہ لیتا ہے تو اس پر عائد قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق جون 2019ء تک یہ قرضہ 90 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، اس قرض میں سی پیک کے لیے چین سے لیا گیا قرضہ بھی شامل ہے۔ حالیہ دنوں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قیمت میں کمی سے غیرملکی قرضوں میں ازخود کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
اب امریکی حکام کو یہ تشویش لاحق ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے لیا گیا قرضہ چین سے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ پاکستان اس وقت مشکل صورت حال سے دوچار ہے۔ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ پاکستان کے بارے میں عالمی سطح پر اقتصادی طور پر ناکامی کا جو تاثر دیا جا رہا ہے اس کے خاتمے کے لیے معاشی نظام کو بہتر بنایا جائے۔ امید ہے پاکستان کی پرعزم حکومت ان مسائل پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گی۔
امریکی محکمہ خزانہ کے انڈر سیکریٹری برائے بین الاقوامی امورڈیوڈ ملپاس نے ایوانِ نمائندگان کی ایک کمیٹی میں عالمی مالیاتی اداروں سے متعلق سماعت کے دوران کہا کہ پاکستان کو اقتصادی طور پر ناکام ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے، امریکا کے لیے یہ بات اہم ہے کہ پاکستان اپنی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے دوررس اصلاحات کرے، امریکا اس بات کی بھی پوری کوشش کرے گا کہ پاکستان عالمی مالیاتی فنڈ سے ملنے والے ممکنہ قرض کی رقم چین سے حاصل کیے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال نہ کرے۔
امریکی عہدیدار کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان نے بیرونی ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے نمٹنے کی نیت سے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے مجوزہ بیل آؤٹ پیکیج کے لیے رجوع کر رکھا ہے۔
امریکی ایوان میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر فنانشل سروسز کمیٹی کی سماعت کے دوران مختلف امریکی قانون سازوں نے اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے قرض کو سی پیک کے لیے چین سے لیے گئے 60 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کے لیے استعمال کر سکتا ہے، اسی طرح کچھ قانون سازوں نے تشویش ظاہر کی تھی کہ پاکستان کو درپیش اقتصادی چیلنجز کے لیے چین کی جانب سے دیا جانے والا بڑا قرضہ ذمے دار ہے۔
موجودہ پاکستانی حکومت ملک کو درپیش اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے، حکومت کے اقتصادی بزرجمہر یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ وہ ملکی معاشی نظام میں اصلاحات کے ذریعے اقتصادی بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن جب صورت حال سنبھلتی نظر نہ آئی تو یہ کہا جانے لگا کہ قرضوں کی ادائیگیوں میں توازن پیدا کرنے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانا ہی پڑے گا۔
اگر پاکستان آئی ایم ایف سے قرضہ لیتا ہے تو اس پر عائد قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق جون 2019ء تک یہ قرضہ 90 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، اس قرض میں سی پیک کے لیے چین سے لیا گیا قرضہ بھی شامل ہے۔ حالیہ دنوں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قیمت میں کمی سے غیرملکی قرضوں میں ازخود کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
اب امریکی حکام کو یہ تشویش لاحق ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے لیا گیا قرضہ چین سے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ پاکستان اس وقت مشکل صورت حال سے دوچار ہے۔ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ پاکستان کے بارے میں عالمی سطح پر اقتصادی طور پر ناکامی کا جو تاثر دیا جا رہا ہے اس کے خاتمے کے لیے معاشی نظام کو بہتر بنایا جائے۔ امید ہے پاکستان کی پرعزم حکومت ان مسائل پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گی۔