سری لنکا کو آلو اور پیاز کی برآمد میں 50 فیصد کمی کا خدشہ

بھارت سے تجارتی حجم بڑھنے کے باعث سری لنکاکی پاکستان سے تجارت محدود، ایکسپورٹرز

سری لنکا پاکستان کیلیے آلو پیازکی اہم منڈی ہے سالانہ 60سے 70ہزار ٹن آلو اور 40سے 45ہزار ٹن پیاز سری لنکا برآمد کی جاتی ہے. اے ایف پی

سری لنکانے پاکستان کیساتھ آزادتجارت کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہوئے آلو اور پیاز کی درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے کے بجائے مزیداضافہ کردیاہے جس سے سری لنکاکو پاکستان سے آلواور پیاز کی برآمد میں50فیصدتک کمی کا خدشہ ہے،برآمد کنندگان کے مطابق پاکستان سے 40 فیصد آلو،پیاز سری لنکاکو ایکسپورٹ کیاجاتا ہے، پاکستان اور سری لنکا کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے کے تحت سری لنکا کی مصنوعات پر ڈیوٹی ختم کی جاچکی ہے تاہم سری لنکانے پاکستانی مصنوعات پر اب بھی درآمدی ڈیوٹی عائد کررکھی ہے۔

سری لنکا نے گزشتہ ہفتے پیاز پر درآمدی ڈیوٹی 25روپے کلو سے بڑھا کر 50روپے کلو اور آلو پر درآمدی ڈیوٹی 10روپے سے بڑھا کر 30روپے کلو کردی ہے،سری لنکا کی جانب سے ڈیوٹی میں اضافہ نہ صرف پاکستان سری لنکا کے درمیان ہونے والے آزاد تجار ت کے معاہدے بلکہ ڈبلیو ٹی او قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے اور سری لنکا کی درآمدی پالیسیوں میں وقتاً فوقتاً ڈیوٹیوں میںتبدیلی معمول بن چکی ہے،پاکستان میں بلوچستان کی پیاز مقامی کھپت پوری کرنے جبکہ سندھ کی فصل مقامی کھپت کے ساتھ ایکسپورٹ کیلیے بھی استعمال کی جاتی ہے جو 2ماہ بعد مارکیٹ میںآجائیگی۔


اس وقت پاکستان میں بمپر آلوکی فصل موجودہے تاہم روس کی جانب سے پاکستانی آلو کی درآمد میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہے جبکہ سری لنکا کی جانب سے درآمدی ڈیوٹی میں اضافے سے سری لنکا کی مارکیٹ میں پاکستان کا مارکیٹ شیئر برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ برآمد کنندگان کے مطابق سری لنکا کی جانب سے پاکستانی آلو پیاز پر ڈیوٹی میں اضافے سے صرف پیاز کی ایکسپورٹ میں 50فیصد تک کمی ہوگی اور مجموعی طور پر 6لاکھ ڈالر کا نقصان ہوگا اسی طرح آلو کی ایکسپورٹ میں بھی نمایاں کمی سے نقصان کا سامنا ہے۔

سری لنکا اور پاکستان کا باہمی تجارتی حجم 350ملین ڈالر تک محدود ہے تاہم سری لنکا اور بھارت کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے کے بعد باہمی تجارت تیزی سے فروغ پارہی ہے اورسری لنکابھارت کاباہمی تجارتی حجم 4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے،سری لنکا پاکستان کیلیے آلو پیازکی اہم منڈی ہے سالانہ 60سے 70ہزار ٹن آلو اور 40سے 45ہزار ٹن پیاز سری لنکا برآمد کی جاتی ہے جبکہ بھارت میں پیاز کی قلت کی صورت میں پاکستان سری لنکا کے ساتھ بھارت کی بھی طلب پوری کرتا ہے،پاکستان سے ملائشیا، مڈل ایسٹ اور خلیجی ریاستوں کو بھی پیاز برآمد کی جاتی ہے۔

ایکسپورٹرز کے مطابق مقامی سطح پر آلو کو محفوظ کرنے کیلیے کولڈاسٹوریج نہ ہونے کی وجہ سے ایکسپورٹ نہ ہونے کی صورت میں آلو کی بمپر فصل کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے ایکسپورٹرز نے حکومت پر زوردیا ہے کہ سری لنکا سے سفارتی سطح پر رابطہ کرکے فوری طور پر پاکستانی مصنوعات پر عائد ڈیوٹی ختم کرائی جائے۔
Load Next Story