ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ میں ترامیم تجاویزطلب

ٹرانسپورٹرزکاکردارنہ رکھاگیاتوکراس بارڈرٹرانزیکشن میں مشکلات...

پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے قائم مقام صدر انجینئرداروخان نے کہا کہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے سے متعلق اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کو دور کیا جائے اور معاہدے میں ضروری ترامیم کی جائیں۔ فوٹو: ایکسپریس

پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ 2010 میں اصلاحات کے لیے پاک افغان جوائنٹ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ٹرانزٹ کاروبار سے براہ راست منسلک تاجروں سے یکم ستمبر2012 تک تجاویز طلب کرلی ہیں جس پر غور کے لیے ماہ ستمبر کے دوران ہی پی اے جے سی سی آئی کا اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کیا جائے گا، اجلاس میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر پاکستان اور افغانستان کے تاجروں کے تحفظات دور کرنے سے متعلق سفارشات مرتب کی جائیں گی اور دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان باہمی تجارت کے فروغ کے لیے سرحدی سہولتوں کا جائزہ لیا جائے گا۔


پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے قائم مقام صدر انجینئرداروخان نے اس ضمن میں ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تجارت کے فروغ کیلیے ضروری ہے کہ نئے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے سے متعلق اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کو فوری طور پر دور کیا جائے اور شفاف تجارت کے تقاضوں کو مدنظررکھتے ہوئے معاہدے میں ضروری ترامیم کی جائیں۔ انجینئرداروخان نے بتایا کہ معاہدے میں جب تک مقامی اسٹیک ہولڈرز کے کردار کو شامل نہیں کیا جائے گا اس وقت تک نہ تو دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان روابط کا فروغ ممکن ہے اور نہ ہی تجارت میںاضافہ ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ2010 میں پاکستانی ٹرانسپورٹ سیکٹر کے مفادات کو نظرانداز کیا گیا ہے حالانکہ چمن اور خیبرپختونخوا کے یہی مقامی ٹرانسپورٹرز گزشتہ50 سال سے ٹرانزٹ کاروبار سے منسلک ہیں، جب تک معاہدے میں مقامی ٹرانسپورٹرز کے کردار کو شامل نہیں کیا جائے گا اس وقت تک کراس بارڈر ٹرانزیکشن میں مشکلات پیش آئیں گی۔
Load Next Story