متوسط طبقے کی ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری چنگ چی رکشے خرید لیے

کراچی میں چنگ چی رکشوں کی تعداد 23 ہزار 700 تک پہنچ گئی ،اب تک تقریباً 2 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے

رکشوں کی رجسٹریشن اور روٹ پرمٹ کا اجرا کیاجائے ،ٹیکس دینے کو تیار ہیں،ضلع وسطی کے علاقوں میں زیادہ رکشے چل رہے ہیں،ابرار حسین. فوٹو عائشہ میر

کراچی میں بڑی پبلک ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری کا عمل کم ہوجانے کے باعث متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے روزگار کے حصول کے لیے چنگ چی رکشوں کی خریداری پر اپنا سرمایہ لگانا شروع کردیا۔

کراچی میں چنگ چی رکشوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اب ان کی تعداد بڑھ کر 23 ہزار 700 تک پہنچ گئی ہے اور چنگ چی رکشے میں متوسط طبقے کی جانب سے اب تک تقریباً 2 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے، کراچی میں بڑی بسوں، منی بسوں اور کوچز کی تعداد میں روز بروز کمی کے سبب چنگ چی رکشوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، اب یہ رکشے شہر کی مرکزی شاہراہوں پر بغیر روٹ پرمٹ اور رجسٹریشن کے کھلے عام چل رہے ہیں، بڑی پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث رکشے عوام کی سواری کے لیے مجبوری بنتے جارہے ہیں،مختلف مقامات کے 100 زائد روٹس پر چنگ چی رکشے چلائے جارہے ہیں، رات کے اوقات میں بسیں اور منی بسیں جلد بند ہوجانے کے باعث عوام کو سفری سہولت فراہم کرنے میں چنگ چی رکشے اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

حکومت کی عدم توجہ اور بڑی پبلک ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری کا عمل کم ہوجانے کے بعد کراچی اب رکشوں کا شہر کہلانا شروع ہوگیا اور شہر میں جگہ جگہ چنگ چی رکشوں کے غیر قانونی اسٹاپس کے باعث اہم شاہراہوں پرٹریفک جام ہونا معمول بن گیا ہے، اس صورتحال پر چنگ چی رکشا اینڈ سی این جی ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما ابرار حسین نے بتایا ہے کہ کراچی میں چنگ چی رکشوں کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے،متوسط طبقے کے بعد اب بڑے ٹرانسپورٹروں نے بھی چنگ چی رکشوں کاروبار میں سرمایہ کاری شروع کردی، انھوں نے کہا کہ کراچی میں ماہانہ100 سے زائد چنگ چی رکشے خریدے جارہے ہیں جس کی وجہ سے ان رکشوں کی قیمتوں میں10 سے15 ہزار روپے کا اضافہ ہوگیا۔




انھوں نے بتایا کہ چنگ چی رکشہ پہلے 75 سے 80 ہزار میں مل جا تا تھا لیکن اس کی مانگ میں اضافہ ہونے کے باعث اس کی قیمت 90 سے 95 ہزار تک چا پہنچی ہے، ابرار حسین نے بتایا کہ کراچی میں سب سے زیادہ یہ رکشے ضلع وسطی کے علاقوں میں چلائے جارہے ہیں جہاں ان کے اسٹاپ کی تعداد 60 سے زائد ہے، انھوں نے بتایا کہ ضلع جنوبی اور ضلع شرقی کے 35 فیصد علاقوں میں یہ رکشے چل رہے ہیں، ایک چنگ چی رکشہ کی مکمل تیاری میں 3 سے 4 روز لگ جاتے ہیں،انھوں نے بتایا کہ اس کاروبار سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کا روزگار وابستہ ہے، ان رکشوں کی رجسٹریشن اور روٹ پرمٹ کا اجرا کرنا حکومت کی ذمے داری ہے ، ہم اس پر حکومت کو ٹیکس دینے کو تیار ہیں۔

دوسری جانب چنگ چی رکشے شہر کی اہم شاہراہوں ایم اے جناح روڈ، برنس روڈ، شارع پاکستان، یونیورسٹی روڈ، کورنگی روڈ، صدر سمیت دیگر پر بلا روک ٹوک چلائے جارہے ہیں، ایک چنگ چی رکشے کے مالک کا روزانہ منافع تمام اخراجات نکال کر 500 سے700 روپے ہے جبکہ شہر میں چلنے والے ان رکشوں میں60 فیصد ٹھیکیداری نظام پر چلائے جا رہے ہیں اور اس نظام کے تحت رکشہ چلانے والا ڈرائیور مالک کو ماہانہ 5 سے 6 ہزار روپے ادا کرتا ہے جبکہ اس میں آنیوالے تمام اخراجات ڈرائیور خود برداشت کرتا ہے ۔
Load Next Story