پروٹیز پیس اور باؤنس سے گرین کیپس کا دل دہلانے لگے
اب گراؤنڈزمین جانتے ہیں پاکستان کے خلاف ہمیں پرانی طرز کی تیز پچ درکار ہوگی، کوچ
مہمانوںکومیزبان پیس پاور کے ساتھ تلخ ماضی کی یادیں بھی ستائیں گی، گزشتہ5ٹورزمیں صرف2ٹیسٹ فتوحات،ٹیم2013 میں تاریخ کے کم ترین اسکور49پرڈھیرہوئی فوٹو: فائل
پروٹیز پیس اور باؤنس سے گرین کیپس کا دل دہلانے لگے،کوچ اوٹس گبسن کا کہنا ہے کہ گزشتہ سنچورین ٹیسٹ کے پہلے سیشن میں ہی بھارتی اسپنرز کو مدد مل رہی تھی،اب گراؤنڈزمین جانتے ہیں کہ ہم پاکستان کیخلاف پہلے میچ کیلیے پرانی طرز کی تیز پچ چاہتے ہیں، دوسری جانب گرین کیپس کو میزبان پیس پاور کے ساتھ تلخ ماضی کی یادیں بھی ستائیں گی،گزشتہ 5 ٹورز میں صرف 2 ٹیسٹ جیتنے والے گرین کیپس کو ایک بار پھر کٹھن امتحان سے گزرنا ہوگا،یونس خان اور مصباح الحق کی موجودگی کے باوجود 2013 میں ٹیم تاریخ کے کم ترین اسکور49 پر ڈھیر ہوئی، اس بار بوجھ اظہر علی اور اسد شفیق کے کندھوں پر ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور میزبان جنوبی افریقہ کے مابین ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ سنچورین کے سپر اسپورٹس پارک میں 26 دسمبر کو شروع ہوگا، وہاں کی پچ روایتی طور پر پیس اور باؤنس کیلیے مشہور ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے اس کا رویہ تھوڑا تبدیل ہوا گیا،گزشتہ سیزن میں بھارت کیخلاف ٹیسٹ میں پروٹیز نے اگرچہ 135رنز سے فتح حاصل کی لیکن پہلی اننگز میں ہی مہمان اسپنر روی چندرن ایشون 4 وکٹیں لے اڑے تھے،میزبان کھلاڑی پچ سے قطعی طور پر مطمئن نہیں تھے، کپتان فاف ڈوپلیسی نے تو اس کا برملا اظہار بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹریک کی وجہ سے انھیں ہوم کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں ملا،فرسٹ کلاس اور لیگ میچز میں بھی پچز کے سلو ہونے کی شکایات سامنے آئیں، گزشتہ ہفتے سپر اسپورٹس پارک میں ہی ایم ایس ایل میچ میں93رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد ای بی ڈی ویلیئرز نے کہا تھا کہ پچ سلو ہونے کی وجہ سے اسٹروکس کھیلنے میں مشکل پیش آئی۔ اس حوالے سے جنوبی افریقی ٹیم کے کوچ اوٹس گبسن نے کہاکہ سنچورین میں پچز کا رویہ تبدیل ہوا ہے،وہاں عام طور پر چوتھے روز گیند ٹرن ہوتی ہے لیکن بھارت کیخلاف میچ میں پہلے سیشن میں ہی اسپنرز کو مدد مل رہی تھی، اب گراؤنڈمین جانتے ہیں کہ پاکستان کیخلاف ٹیسٹ میچ کیلیے ہم کیا چاہتے ہیں، پرانی طرز کی روایتی پچ ہونی چاہیے جس پر پیس اور باؤنس دونوں موجود ہوں۔
یاد رہے کہ سپر اسپورٹس پارک میں پاکستان نے سب سے بڑا اسکور 313 وہاں2007 میں کھیلے گئے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بنایا تھا،اس میچ میں پروٹیز 7وکٹ سے سرخرو ہوئے تھے۔ مجموعی طور پر بھی گرین کیپس کی جنوبی افریقہ میں کارکردگی اچھی نہیں رہی، ماضی میں کئی نامی گرامی کرکٹرز کی خدمات حاصل ہونے کے باوجود ٹیم مشکلات کا شکار نظر آتی رہی، اس کا اندازہ ماضی کے ریکارڈ سے لگایا جا سکتا ہے، گزشتہ 5 ٹورز میں گرین کیپس نے 12میچز میں سے صرف2 جیتے، 9 میں مات ہوئی، ایک مقابلہ ڈرا ہوا، پاکستان کی جنوبی افریقہ میں پہلی کامیابی 1998 میں تھی، دوسری اور آخری 2007 میں حاصل ہوئی، گرین کیپس نے گزشتہ ٹور 2013 میں کیا جس میں پروٹیز نے مہمانوں کو 3-0سے کلین سوئپ کر کے گھر بھیجا تھا۔
جوہانسبرگ ٹیسٹ میں تو پاکستان ٹیم اپنی تاریخ کے کم ترین اسکور49 پر ڈھیر ہو گئی تھی، اس وقت بیٹنگ لائن میں یونس خان اور مصباح الحق جیسے تجربہ کار بیٹسمین بھی موجود تھے، دونوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد بطور سینئر توقعات کا بوجھ اٹھانے کی ذمہ داری اظہر علی اور اسد شفیق کے کندھوں پر آ پڑی،البتہ ان کی کارکردگی میں بھی تسلسل کا فقدان ہے، اپنی پسندیدہ یو اے ای کی کنڈیشنز میں نیوزی لینڈ کو زیر نہ کر پانے والی پاکستان ٹیم اور خاص طور پر بیٹنگ لائن سے شائقین کو زیادہ توقعات وابستہ نہیں ہیں، کپتان سرفراز احمد جنوبی افریقی کنڈیشنز میں مثبت کرکٹ کو ہی مشکلات کا حل سمجھتے اور کھلاڑیوں سے بے خوف کرکٹ کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور میزبان جنوبی افریقہ کے مابین ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ سنچورین کے سپر اسپورٹس پارک میں 26 دسمبر کو شروع ہوگا، وہاں کی پچ روایتی طور پر پیس اور باؤنس کیلیے مشہور ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے اس کا رویہ تھوڑا تبدیل ہوا گیا،گزشتہ سیزن میں بھارت کیخلاف ٹیسٹ میں پروٹیز نے اگرچہ 135رنز سے فتح حاصل کی لیکن پہلی اننگز میں ہی مہمان اسپنر روی چندرن ایشون 4 وکٹیں لے اڑے تھے،میزبان کھلاڑی پچ سے قطعی طور پر مطمئن نہیں تھے، کپتان فاف ڈوپلیسی نے تو اس کا برملا اظہار بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹریک کی وجہ سے انھیں ہوم کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں ملا،فرسٹ کلاس اور لیگ میچز میں بھی پچز کے سلو ہونے کی شکایات سامنے آئیں، گزشتہ ہفتے سپر اسپورٹس پارک میں ہی ایم ایس ایل میچ میں93رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد ای بی ڈی ویلیئرز نے کہا تھا کہ پچ سلو ہونے کی وجہ سے اسٹروکس کھیلنے میں مشکل پیش آئی۔ اس حوالے سے جنوبی افریقی ٹیم کے کوچ اوٹس گبسن نے کہاکہ سنچورین میں پچز کا رویہ تبدیل ہوا ہے،وہاں عام طور پر چوتھے روز گیند ٹرن ہوتی ہے لیکن بھارت کیخلاف میچ میں پہلے سیشن میں ہی اسپنرز کو مدد مل رہی تھی، اب گراؤنڈمین جانتے ہیں کہ پاکستان کیخلاف ٹیسٹ میچ کیلیے ہم کیا چاہتے ہیں، پرانی طرز کی روایتی پچ ہونی چاہیے جس پر پیس اور باؤنس دونوں موجود ہوں۔
یاد رہے کہ سپر اسپورٹس پارک میں پاکستان نے سب سے بڑا اسکور 313 وہاں2007 میں کھیلے گئے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بنایا تھا،اس میچ میں پروٹیز 7وکٹ سے سرخرو ہوئے تھے۔ مجموعی طور پر بھی گرین کیپس کی جنوبی افریقہ میں کارکردگی اچھی نہیں رہی، ماضی میں کئی نامی گرامی کرکٹرز کی خدمات حاصل ہونے کے باوجود ٹیم مشکلات کا شکار نظر آتی رہی، اس کا اندازہ ماضی کے ریکارڈ سے لگایا جا سکتا ہے، گزشتہ 5 ٹورز میں گرین کیپس نے 12میچز میں سے صرف2 جیتے، 9 میں مات ہوئی، ایک مقابلہ ڈرا ہوا، پاکستان کی جنوبی افریقہ میں پہلی کامیابی 1998 میں تھی، دوسری اور آخری 2007 میں حاصل ہوئی، گرین کیپس نے گزشتہ ٹور 2013 میں کیا جس میں پروٹیز نے مہمانوں کو 3-0سے کلین سوئپ کر کے گھر بھیجا تھا۔
جوہانسبرگ ٹیسٹ میں تو پاکستان ٹیم اپنی تاریخ کے کم ترین اسکور49 پر ڈھیر ہو گئی تھی، اس وقت بیٹنگ لائن میں یونس خان اور مصباح الحق جیسے تجربہ کار بیٹسمین بھی موجود تھے، دونوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد بطور سینئر توقعات کا بوجھ اٹھانے کی ذمہ داری اظہر علی اور اسد شفیق کے کندھوں پر آ پڑی،البتہ ان کی کارکردگی میں بھی تسلسل کا فقدان ہے، اپنی پسندیدہ یو اے ای کی کنڈیشنز میں نیوزی لینڈ کو زیر نہ کر پانے والی پاکستان ٹیم اور خاص طور پر بیٹنگ لائن سے شائقین کو زیادہ توقعات وابستہ نہیں ہیں، کپتان سرفراز احمد جنوبی افریقی کنڈیشنز میں مثبت کرکٹ کو ہی مشکلات کا حل سمجھتے اور کھلاڑیوں سے بے خوف کرکٹ کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔