بلیک منی کو چینلائز کرنے کی ضرورت ہے محسن رانجھا
ہم نے آئی ایم ایف سے جان چھڑانے کی کوشش ہی نہیں کی ، احسن رشید ، جان اچکزئی.
پاکستان جیسا ملک ڈیفالٹ کرے تو تمام کام رک جاتے ہیں، ڈاکٹر اشفاق ،لائیو ود طلعت میں گفتگو. فوٹو : فائل
(ن) لیگ کے رہنما محسن شاہنواز رانجھا نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
اگر آئی ایم ایف کے پاس نہ جاتے تو حالات اور سنگین ہو جاتے ۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام لائیو ود طلعت میں میزبان طلعت حسین سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ ایگری کلچرل ٹیکس وفاق کا ایشو نہیں ہے، اٹھارہویں ترمیم کے بعد یہ کام صوبوں کو کرنا چاہیے۔ ہمارے ہاں بلیک منی کو چینلائز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ترجمان جان اچکزئی نے تجویز دی کہ ہمیں ڈیفالٹ کر جانا چاہیے۔ عالمی اداروں سے کہنا چاہیے کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، ہم نہیں دے سکتے۔ ہمیں ٹیکسز لینا چاہئیں لیکن غریب پر نہیں امیروں پر بھی ٹیکس لگانا چاہیے۔
تجزیہ کار ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا کہ پچھلی حکومت نے چالاکی کی اور وہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں گئے لیکن ہم جس نہج پر پہنچ چکے تھے وہاں سے آئی ایم ایف کا ہی راستہ نکلتا تھا۔ ٹی وی پر بیٹھ کر بات کرنا بہت آسان ہوتا ہے جب پاکستان جیسا ملک ڈیفالٹ کرتا ہے تو پھر تمام کام رک جاتے ہیں۔ امپورٹ ایکسپورٹ رک جاتی ہے، کوئی بھی بینک ایل سی نہیں کھولتا۔ دسمبر تک 2 ملین ڈالر دینے ہیں جبکہ ہمارے ریزروز 4 ملین ہیں اور 2 ملین سے ملک نہیں چلتا۔ پی ٹی آئی کے رہنما احسن رشید نے کہا کہ ہم نے آئی ایم ایف سے جان چھڑانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ اگر ہم چاہتے تو کوئی اور راستہ اختیار کر سکتے تھے۔ ہمیں عوام سے سچ بول کر عوام سے تعاون کی درخواست کرنی چاہئے تھی۔ غریب کے ساتھ ساتھ امیر سے بھی ٹیکس لینا ہوگا۔
اگر آئی ایم ایف کے پاس نہ جاتے تو حالات اور سنگین ہو جاتے ۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام لائیو ود طلعت میں میزبان طلعت حسین سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ ایگری کلچرل ٹیکس وفاق کا ایشو نہیں ہے، اٹھارہویں ترمیم کے بعد یہ کام صوبوں کو کرنا چاہیے۔ ہمارے ہاں بلیک منی کو چینلائز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ترجمان جان اچکزئی نے تجویز دی کہ ہمیں ڈیفالٹ کر جانا چاہیے۔ عالمی اداروں سے کہنا چاہیے کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، ہم نہیں دے سکتے۔ ہمیں ٹیکسز لینا چاہئیں لیکن غریب پر نہیں امیروں پر بھی ٹیکس لگانا چاہیے۔
تجزیہ کار ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا کہ پچھلی حکومت نے چالاکی کی اور وہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں گئے لیکن ہم جس نہج پر پہنچ چکے تھے وہاں سے آئی ایم ایف کا ہی راستہ نکلتا تھا۔ ٹی وی پر بیٹھ کر بات کرنا بہت آسان ہوتا ہے جب پاکستان جیسا ملک ڈیفالٹ کرتا ہے تو پھر تمام کام رک جاتے ہیں۔ امپورٹ ایکسپورٹ رک جاتی ہے، کوئی بھی بینک ایل سی نہیں کھولتا۔ دسمبر تک 2 ملین ڈالر دینے ہیں جبکہ ہمارے ریزروز 4 ملین ہیں اور 2 ملین سے ملک نہیں چلتا۔ پی ٹی آئی کے رہنما احسن رشید نے کہا کہ ہم نے آئی ایم ایف سے جان چھڑانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ اگر ہم چاہتے تو کوئی اور راستہ اختیار کر سکتے تھے۔ ہمیں عوام سے سچ بول کر عوام سے تعاون کی درخواست کرنی چاہئے تھی۔ غریب کے ساتھ ساتھ امیر سے بھی ٹیکس لینا ہوگا۔