2020تک دودھ کے استعمال میں30فیصداضافہ متوقع
پاکستان میںبھی ڈیری فارمنگ کے شعبے میںسرمایہ کاری میںاضافہ ہورہاہے،اظہرعلی سید
پاکستان میںبھی ڈیری فارمنگ کے شعبے میںسرمایہ کاری میںاضافہ ہورہاہے،اظہرعلی سید۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
سال 2010سے 2020 کے دوران دودھ اورڈیری منصوعات کے استعمال میں 30فیصداضافہ ہوجائے گا،ٹیٹراپیک کی رپورٹ کے مطابق اس دوران دنیاکے ہر خطے میںڈیری مصنوعات کی طلب میں اضافہ ہوگا،سال 2010میں ڈیری کی مائع مصنوعات کی مانگ 270ارب لیٹرزتھی جو 2020میں بڑھ کر 370ارب لیٹرزتک پہنچ جائیگی۔
ٹیٹرا پیک پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹراظہر علی سیدنے کہاہے کہ درمیانے طبقے کی ترقی،شہری آبادیوں میں اضافہ، صارفین کی خریداری کی عادات کی تبدیلی اورپیک دودھ کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہواہے، انھوںنے کہاکہ پاکستان میںبھی پیک کیے گئے دودھ کی کھپت میںگزشتہ چند سالوں کے دوران نمایاںاضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور پاکستان میں غیر ملکی ادارے ،صنعتکار، تاجر، سمندرپار پاکستانی اور زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ افراد ڈیری فارمنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
انھوںنے کہاکہ ملک میںڈیری فارمنگ کا شعبہ دن بدن ترقی کی منازل طے کر رہا ہے اور ڈیری مصنوعات کی طلب میں ہونے والے مسلسل اضافہ نے ڈیری کے کاروبار کومزید منافع بخش بنادیا ہے،انھوںنے کہاکہ اس وقت ملک میںپیک دودھ کاکاروبار کرنے والے 20 ادارے کام کر رہے ہیں جبکہ 10تعمیراتی مراحل میں ہیں۔
انھوںنے بتایا کہ ملک میں 30مویشیوں والے ڈیری فارمزکی تعداد 30ہزارسے زائدہے جبکہ زیادہ تر دودھ گھریلواستعمال میں صرف ہوجاتا ہے،صرف 30 فیصددودھ مارکیٹ میںفروخت ہوتا ہے اور اس میں سے 3.5فیصددودھ پراسیس کیاجاتا ہے جبکہ 96.5 فیصدکھلے اورکچے دودھ کا کاروبار کیا جاتا ہے۔ انھوںنے کہاکہ کچا دودھ 3 سے 4 گھنٹے کے بعدخراب ہوجاتاہے جبکہ پراسیس کیاگیا دودھ 3 ماہ تک قابل استعمال ہوتاہے۔
سال 2010سے 2020 کے دوران دودھ اورڈیری منصوعات کے استعمال میں 30فیصداضافہ ہوجائے گا،ٹیٹراپیک کی رپورٹ کے مطابق اس دوران دنیاکے ہر خطے میںڈیری مصنوعات کی طلب میں اضافہ ہوگا،سال 2010میں ڈیری کی مائع مصنوعات کی مانگ 270ارب لیٹرزتھی جو 2020میں بڑھ کر 370ارب لیٹرزتک پہنچ جائیگی۔
ٹیٹرا پیک پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹراظہر علی سیدنے کہاہے کہ درمیانے طبقے کی ترقی،شہری آبادیوں میں اضافہ، صارفین کی خریداری کی عادات کی تبدیلی اورپیک دودھ کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہواہے، انھوںنے کہاکہ پاکستان میںبھی پیک کیے گئے دودھ کی کھپت میںگزشتہ چند سالوں کے دوران نمایاںاضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور پاکستان میں غیر ملکی ادارے ،صنعتکار، تاجر، سمندرپار پاکستانی اور زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ افراد ڈیری فارمنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
انھوںنے کہاکہ ملک میںڈیری فارمنگ کا شعبہ دن بدن ترقی کی منازل طے کر رہا ہے اور ڈیری مصنوعات کی طلب میں ہونے والے مسلسل اضافہ نے ڈیری کے کاروبار کومزید منافع بخش بنادیا ہے،انھوںنے کہاکہ اس وقت ملک میںپیک دودھ کاکاروبار کرنے والے 20 ادارے کام کر رہے ہیں جبکہ 10تعمیراتی مراحل میں ہیں۔
انھوںنے بتایا کہ ملک میں 30مویشیوں والے ڈیری فارمزکی تعداد 30ہزارسے زائدہے جبکہ زیادہ تر دودھ گھریلواستعمال میں صرف ہوجاتا ہے،صرف 30 فیصددودھ مارکیٹ میںفروخت ہوتا ہے اور اس میں سے 3.5فیصددودھ پراسیس کیاجاتا ہے جبکہ 96.5 فیصدکھلے اورکچے دودھ کا کاروبار کیا جاتا ہے۔ انھوںنے کہاکہ کچا دودھ 3 سے 4 گھنٹے کے بعدخراب ہوجاتاہے جبکہ پراسیس کیاگیا دودھ 3 ماہ تک قابل استعمال ہوتاہے۔