طالبان کے مبینہ خط سے رینجرزکی کارروائی پر سوالیہ نشان
رینجرزکراچی میں موجودگی کاجوازبنائے رکھنے کیلیے اوچھے ہتھکنڈوں پراترآئی،شہریوںکاردعمل
کراچی:رینجرز کی جانب سے منگھوپیر میں کارروائی کے دوران برآمد کیا گیا اسلحہ اور وہ دھمکی آمیز خط جس کے آخر میں ’’کالعدم تحریک طالبان پاکستان ‘‘درج ہے۔ فوٹو: ایکسپریس
شہر میں امن و امان قائم اور برقرار رکھنے کے لیے رینجرز کو برسوں قبل شہر میں بلایاگیا تھا۔
حالیہ برسوں میں رینجرز کی جانب سے شہرمیں چھاپہ مار کارروائیوں میں تیزی آگئی لیکن یہ کارروائیاں اب اصل جرائم پیشہ افراد کے خلاف نہیں رہیں بلکہ محض کاغذی کارروائیاں اورشہر میں اپنی موجودگی کا جوازبنائے رکھنے کے لیے رہ گئی ہیں۔ گزشتہ روز منگھوپیر میں رینجرز کے کئی گھنٹے طویل آپریشن کا بھانڈا پھوٹ گیا جس میں تحریک طالبان کی جانب سے ایک خط دکھایا گیالیکن اس خط میں تحریک طالبان کو '' کالعدم '' لکھا گیا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ کوئی بھی تنظیم یاادارہ جب حکومت وقت کی جانب سے کالعدم قراردیاجائے توکم از کم وہ تنظیم خوداپنے آپ کو''کالعدم''نہیں لکھتی۔
جمعے کو رینجرز حکام نے منگھوپیر کے علاقے سلطان آباد میں طویل آپریشن کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے آپریشن کے بعد حراست میں لیے گئے افراد اوراسلحے کو پیش کیا،اسی دوران ایک خط بھی دکھایا گیا جس میں خواتین کو بازاروں میں نکلنے سے منع کیا گیا ، اس خط کے بارے میں دعویٰ کیاگیا کہ یہ خط تحریک طالبان کی جانب سے ہے لیکن مذکورہ خط پرتحریر شدہ الفاظ '' کالعدم تحریک طالبان ''رینجرز کا منہ چڑاتے نظر آرہے ہیں۔سوال یہ پیداہوتاہے کہ اگر مذکورہ خط واقعی طالبان نے تحریر کیا تھاتوانھوں نے اپنے آپ کوہی ''کالعدم'' کیسے لکھ دیا ،اس خط کو میڈیا کے سامنے پیش کیے جانے سے ہی رینجرزکی کارروائی کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے اورنہ صرف یہ بلکہ شہر بھر میں رینجرز کے چھاپوں پر سوالیہ نشان لگ گیاہے ،شہریوں کا کہنا ہے کہ رینجرزشہر قائد میں اپنی موجودگی کا جواز بنائے رکھنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے ۔
حالیہ برسوں میں رینجرز کی جانب سے شہرمیں چھاپہ مار کارروائیوں میں تیزی آگئی لیکن یہ کارروائیاں اب اصل جرائم پیشہ افراد کے خلاف نہیں رہیں بلکہ محض کاغذی کارروائیاں اورشہر میں اپنی موجودگی کا جوازبنائے رکھنے کے لیے رہ گئی ہیں۔ گزشتہ روز منگھوپیر میں رینجرز کے کئی گھنٹے طویل آپریشن کا بھانڈا پھوٹ گیا جس میں تحریک طالبان کی جانب سے ایک خط دکھایا گیالیکن اس خط میں تحریک طالبان کو '' کالعدم '' لکھا گیا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ کوئی بھی تنظیم یاادارہ جب حکومت وقت کی جانب سے کالعدم قراردیاجائے توکم از کم وہ تنظیم خوداپنے آپ کو''کالعدم''نہیں لکھتی۔
جمعے کو رینجرز حکام نے منگھوپیر کے علاقے سلطان آباد میں طویل آپریشن کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے آپریشن کے بعد حراست میں لیے گئے افراد اوراسلحے کو پیش کیا،اسی دوران ایک خط بھی دکھایا گیا جس میں خواتین کو بازاروں میں نکلنے سے منع کیا گیا ، اس خط کے بارے میں دعویٰ کیاگیا کہ یہ خط تحریک طالبان کی جانب سے ہے لیکن مذکورہ خط پرتحریر شدہ الفاظ '' کالعدم تحریک طالبان ''رینجرز کا منہ چڑاتے نظر آرہے ہیں۔سوال یہ پیداہوتاہے کہ اگر مذکورہ خط واقعی طالبان نے تحریر کیا تھاتوانھوں نے اپنے آپ کوہی ''کالعدم'' کیسے لکھ دیا ،اس خط کو میڈیا کے سامنے پیش کیے جانے سے ہی رینجرزکی کارروائی کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے اورنہ صرف یہ بلکہ شہر بھر میں رینجرز کے چھاپوں پر سوالیہ نشان لگ گیاہے ،شہریوں کا کہنا ہے کہ رینجرزشہر قائد میں اپنی موجودگی کا جواز بنائے رکھنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے ۔