دہشت گردی کے خلاف عزم صمیم کی ضرورت
آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کی کامیابی سے دہشت گردوں کا بڑے پیمانے پرخاتمہ ہوا اورملک میں امن وامان کی فضا قائم ہوئی۔
آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کی کامیابی سے دہشت گردوں کا بڑے پیمانے پرخاتمہ ہوا اورملک میں امن وامان کی فضا قائم ہوئی۔ فوٹو : فائل
آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کو 4سال مکمل ہو گئے' اس حوالے سے برسی کے موقعے پر ملک بھر میں دعائیہ تقاریب' تعزیتی سیمینارز کا انعقاد اور عام شہریوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے یاد گار شہداء پر فاتحہ خوانی اور شمعیں روشن کر کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔
16دسمبر 2014ء کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں نے حملہ کر کے 100سے زائد معصوم اور بے گناہ طلبا کو شہید کر دیا تھا، اس کے علاوہ اسکول کی پرنسپل' اساتذہ اور دیگر عملہ بھی ان ننھے پودوں کو بچاتے ہوئے دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے تھے۔
اس سانحے میں 144شہادتوں نے پھولوں کے شہر پشاور ہی نہیں بلکہ پورے ملک کو آہوں اور سسکیوں میں ڈبو دیا تھا۔صدر مملکت عارف علوی نے یوم شہدا اے پی ایس کے موقعے پر اپنے پیغام میں کہا کہ قوم پاک فوج سمیت تمام سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی معترف ہے' قوم اے پی ایس کے شہدا اور ان کے لواحقین کی قربانی ہمیشہ یاد رکھے گی' معصوم طلبہ اور اساتذہ کی قربانی نے قوم کو بیدار اور متحد کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ 16 دسمبر کا دن ہمیں تاریخ کے سیاہ دن کی یاد دلاتا ہے جب دہشت گردوں نے انسانیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بچوں کو نشانہ بنایا اور پوری قوم کوغم میں مبتلا کر دیا تاہم اس واقعہ نے قوم میں دہشت گردی کے خلاف وحدت کو جنم دیا اور افواج پاکستان نے قوم کی حمایت سے دہشت گردوں کو شکست دے کر انجام تک پہنچا دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے آرمی پبلک اسکول کے شہداء، ان کے والدین اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم نے ہمیشہ بہادری سے چیلنجوں کا مقابلہ کیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے بھاری قیمت ادا کی، پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے ہمیں متحد اور پر عزم رہنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی اصل منزل امن خوشحالی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم ایک پر عزم قوم ہیں، ہمارے دشمن کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، قومیں جدوجہد اور یقین محکم سے کامیاب ہوتی ہیں، امن خوشحالی کے اہداف حاصل کرکے رہیں گے۔
آج سے 4سال قبل آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے سے 100سے زائد طلباء کی شہادت نے پوری قوم کو رلا دیا تھا' اس سانحے نے ریاستی اداروں اور قوم کو ایک سوچ اور ایک فکر پر متحد کر دیا کہ ملکی سلامتی اور امن و امان کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا جائے اور ملک کے مستقبل کو تاباں اور محفوظ بنانے کے لیے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جدوجہد کو جاری رکھا جائے۔
عسکری اور سیاسی قیادت نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا اور شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے محفوظ اور مضبوط ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر اس علاقے کو ان کے تسلط سے آزاد کرا لیا' اس آپریشن میں پاک فوج نے قربانیاں دے کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ ملکی سلامتی اور بقا کے لیے پرعزم ہے اور کوئی وطن دشمن قوت اسے شکست نہیں دے سکتی' اس کے بعد مختلف علاقوں میں چھپے ہوئے وطن دشمن عناصر کے خلاف آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا۔
آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کی کامیابی سے دہشت گردوں کا بڑے پیمانے پر خاتمہ ہوا اور ملک میں امن و امان کی فضا قائم ہوئی۔ وقتی طور پر دب جانے والی دہشت گرد قوتیں ایک عرصے بعد پھر سے اپنے گھناؤنے کھیل میں سرگرم ہیں۔ وقتاً فوقتاً بلوچستان' خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیاں اس امر کی غماز ہیں کہ اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں قوم نے ہزاروں جانوں کی قربانی دینے کے علاوہ بے انتہا معاشی نقصانات اٹھائے ہیں' قوم نے بہادری سے دہشت گردی کے چیلنج کا مقابلہ کیا اور کامیابی کے لیے بھاری قیمت چکائی اور ابھی تک قوم یہ قیمت ادا کر رہی ہے۔ آج بھی دہشت گردی کا عفریت سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں اور شہریوں پر حملہ آور ہے۔
عسکری اور سیاسی قیادت پرعزم ہے کہ وہ دشمن کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی اور شہادتوں اور قربانی کے اس سفر میں یقین محکم سے کامیابی حاصل کریں گے اور امن و خوشحالی کے لیے انھوں نے جو اہداف طے کر رکھے ہیں انھیں ہر صورت حاصل کریں گے۔ سانحہ اے پی ایس آرمی پبلک اسکول کی یاد منا کر قوم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں دی گئی عظیم قربانیوں کوکبھی فراموش نہیں کرے گی اور ملکی امن کو یقینی بنانے کے لیے وہ آج بھی پرعزم ہے۔
دہشت گردی کا عفریت ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے بلکہ رنگ بدل کر نئے روپ میں سامنے آنے کی کوشش کررہا ہے۔ ان کے پشت پناہ اور ہنڈلرز بھی دبک کر بیٹھے ہیں اور موقعے کی تاک میں ہیں۔ابھی ان کی مالی لائف لائن ختم نہیں ہوئی، ان کی نظریاتی کمیں گاہیں بھی قائم ہیں جہاں نئے ذہن تیار ہورہے ہیں۔
غیرملکی طاقتوں کے ساتھ بھی ان کے روابط کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ ارباب اختیار بھی اس حقیقت سے یقیناً آگاہ ہوں گے ، اس لیے ابھی اس جنگ کا اختتام ہونا باقی ہے۔دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انتہاپسندی پر مبنی بیانیہ کا سدباب بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے طویل المدتی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔یعنی تعلیمی نصاب اور تعلیمی نظام میں تبدیلی لائی جائے۔ وزارت تعلیم میں جدید ذہن کے لوگوں کو لایا جائے تاکہ ماضی کے مسائل سے چھٹکارہ پایا جاسکے، جب تک اس پر کام نہیں کیا جاتا، دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے لیکن اس کے لیے عزم صمیم کی ضرورت ہے۔
16دسمبر 2014ء کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں نے حملہ کر کے 100سے زائد معصوم اور بے گناہ طلبا کو شہید کر دیا تھا، اس کے علاوہ اسکول کی پرنسپل' اساتذہ اور دیگر عملہ بھی ان ننھے پودوں کو بچاتے ہوئے دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے تھے۔
اس سانحے میں 144شہادتوں نے پھولوں کے شہر پشاور ہی نہیں بلکہ پورے ملک کو آہوں اور سسکیوں میں ڈبو دیا تھا۔صدر مملکت عارف علوی نے یوم شہدا اے پی ایس کے موقعے پر اپنے پیغام میں کہا کہ قوم پاک فوج سمیت تمام سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی معترف ہے' قوم اے پی ایس کے شہدا اور ان کے لواحقین کی قربانی ہمیشہ یاد رکھے گی' معصوم طلبہ اور اساتذہ کی قربانی نے قوم کو بیدار اور متحد کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ 16 دسمبر کا دن ہمیں تاریخ کے سیاہ دن کی یاد دلاتا ہے جب دہشت گردوں نے انسانیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بچوں کو نشانہ بنایا اور پوری قوم کوغم میں مبتلا کر دیا تاہم اس واقعہ نے قوم میں دہشت گردی کے خلاف وحدت کو جنم دیا اور افواج پاکستان نے قوم کی حمایت سے دہشت گردوں کو شکست دے کر انجام تک پہنچا دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے آرمی پبلک اسکول کے شہداء، ان کے والدین اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم نے ہمیشہ بہادری سے چیلنجوں کا مقابلہ کیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے بھاری قیمت ادا کی، پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے ہمیں متحد اور پر عزم رہنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی اصل منزل امن خوشحالی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم ایک پر عزم قوم ہیں، ہمارے دشمن کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، قومیں جدوجہد اور یقین محکم سے کامیاب ہوتی ہیں، امن خوشحالی کے اہداف حاصل کرکے رہیں گے۔
آج سے 4سال قبل آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے سے 100سے زائد طلباء کی شہادت نے پوری قوم کو رلا دیا تھا' اس سانحے نے ریاستی اداروں اور قوم کو ایک سوچ اور ایک فکر پر متحد کر دیا کہ ملکی سلامتی اور امن و امان کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا جائے اور ملک کے مستقبل کو تاباں اور محفوظ بنانے کے لیے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جدوجہد کو جاری رکھا جائے۔
عسکری اور سیاسی قیادت نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا اور شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے محفوظ اور مضبوط ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر اس علاقے کو ان کے تسلط سے آزاد کرا لیا' اس آپریشن میں پاک فوج نے قربانیاں دے کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ ملکی سلامتی اور بقا کے لیے پرعزم ہے اور کوئی وطن دشمن قوت اسے شکست نہیں دے سکتی' اس کے بعد مختلف علاقوں میں چھپے ہوئے وطن دشمن عناصر کے خلاف آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا۔
آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کی کامیابی سے دہشت گردوں کا بڑے پیمانے پر خاتمہ ہوا اور ملک میں امن و امان کی فضا قائم ہوئی۔ وقتی طور پر دب جانے والی دہشت گرد قوتیں ایک عرصے بعد پھر سے اپنے گھناؤنے کھیل میں سرگرم ہیں۔ وقتاً فوقتاً بلوچستان' خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیاں اس امر کی غماز ہیں کہ اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں قوم نے ہزاروں جانوں کی قربانی دینے کے علاوہ بے انتہا معاشی نقصانات اٹھائے ہیں' قوم نے بہادری سے دہشت گردی کے چیلنج کا مقابلہ کیا اور کامیابی کے لیے بھاری قیمت چکائی اور ابھی تک قوم یہ قیمت ادا کر رہی ہے۔ آج بھی دہشت گردی کا عفریت سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں اور شہریوں پر حملہ آور ہے۔
عسکری اور سیاسی قیادت پرعزم ہے کہ وہ دشمن کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی اور شہادتوں اور قربانی کے اس سفر میں یقین محکم سے کامیابی حاصل کریں گے اور امن و خوشحالی کے لیے انھوں نے جو اہداف طے کر رکھے ہیں انھیں ہر صورت حاصل کریں گے۔ سانحہ اے پی ایس آرمی پبلک اسکول کی یاد منا کر قوم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں دی گئی عظیم قربانیوں کوکبھی فراموش نہیں کرے گی اور ملکی امن کو یقینی بنانے کے لیے وہ آج بھی پرعزم ہے۔
دہشت گردی کا عفریت ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے بلکہ رنگ بدل کر نئے روپ میں سامنے آنے کی کوشش کررہا ہے۔ ان کے پشت پناہ اور ہنڈلرز بھی دبک کر بیٹھے ہیں اور موقعے کی تاک میں ہیں۔ابھی ان کی مالی لائف لائن ختم نہیں ہوئی، ان کی نظریاتی کمیں گاہیں بھی قائم ہیں جہاں نئے ذہن تیار ہورہے ہیں۔
غیرملکی طاقتوں کے ساتھ بھی ان کے روابط کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ ارباب اختیار بھی اس حقیقت سے یقیناً آگاہ ہوں گے ، اس لیے ابھی اس جنگ کا اختتام ہونا باقی ہے۔دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انتہاپسندی پر مبنی بیانیہ کا سدباب بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے طویل المدتی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔یعنی تعلیمی نصاب اور تعلیمی نظام میں تبدیلی لائی جائے۔ وزارت تعلیم میں جدید ذہن کے لوگوں کو لایا جائے تاکہ ماضی کے مسائل سے چھٹکارہ پایا جاسکے، جب تک اس پر کام نہیں کیا جاتا، دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے لیکن اس کے لیے عزم صمیم کی ضرورت ہے۔