عالمی ماحولیاتی کانفرنس پر 200 ممالک کے دستخط
برازیل اور اس کے ہم نوا ممالک مارکیٹ میں نئے ’کاربن کریڈیٹ نظام‘ بنانے پر متفق نہیں ہوئے۔
برازیل اور اس کے ہم نوا ممالک مارکیٹ میں نئے ’کاربن کریڈیٹ نظام‘ بنانے پر متفق نہیں ہوئے۔ فوٹو: سوشل میڈیا
عالمی ماحولیاتی کانفرنس (کوپ) 24 میں دو سو ممالک کے مندوبین نے نئے معاہدے کی منظوری دیتے ہوئے 2015 کے عالمی موسمیاتی معاہدے پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ اس کانفرنس کے اعلامیے کو سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو یوں سمجھا جائے گا کہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آلودگی، مثلاً نامیاتی ایندھن یعنی گیس یا کوئلے کے استعمال کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گیسوں کے اخراج پر قابو پانے کے لیے دنیا کی تمام حکومتوں میں باہمی اتفاق ہو گیا ہے۔
لیکن مسئلہ پھر بھی حل نہیں ہو رہا ہے بلکہ روز بروز سنگین صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے ۔ مشکلات کا آغاز تو جب ہوتا ہے جب تمام ممالک کواس بات پر متفق کرنا ہو کہ موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے '' کس طرح'' نمٹا جائے ۔ 1992 سے اب تک ہر سال تمام فریقوں کے مذاکرات کاروں کے ساتھ اس کانفرنس کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے تاکہ باہمی رضامندی کے ساتھ ایک قابل عمل منصوبہ تشکیل دیا جاسکے۔ تازہ ترین کانفرنس کی مثال لے لیجیے دو سو ممالک کے مندوبین مسلسل کوششوں کے باوجود بھی کوپ 24 کے دوران کئی اہم معاملات پر متفق نہیں ہو پائے۔
ایسے چند موضوعات یہ ہیں۔ برازیل اور اس کے ہم نوا ممالک مارکیٹ میں نئے 'کاربن کریڈیٹ نظام' بنانے پر متفق نہیں ہوئے۔ اب یہ معاملہ مستقبل میں طے کیا جائے گا۔سعودی عرب اور چند دیگر ممالک کو اقوام متحدہ کی موسیمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کی اہم اور تاریخی اہمیت کی حامل رپورٹ میں اخذ کردہ نتائج پر اعتراض تھا۔ اس لیے معاہدے میں اس رپورٹ کی 'بر وقت تکمیل' کی تعریف کرنے پر ہی اکتفا کیا گیا۔حتمی معاہدے میں بحیثیت مجموعی زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے بارے میں الفاظ پر اتفاق نہیں ہو پایا ہے ۔گوکہ امریکا، چین اور یورپی یونین نے اس معاہدے کوکامیاب بنانے کے لیے مشترکہ جدوجہد کا عندیہ دیا ہے ۔
یاد رہے امریکی صدر ٹرمپ پیرس معاہدے سے باہر نکلنے کی دھمکی 2017 میں دے چکے ہیں۔اجلاس میں پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو 3800 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے ۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے اندازوں کے مطابق 2050ء تک بنگلہ دیش اور پاکستان میں ڈھائی ملین سے زائد انسان ایسے مقامات پر زندگی بسر کر رہے ہوں گے جو منفی ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے نہایت خطرناک ہوں گے۔
ہم صحرائے تھر میں کوئلے سے بجلی پیدا کررہے ہیں جوکہ مقامی باسیوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے ۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں دس غیر محفوظ ترین ملکوں میں پاکستان کا شمار ہوتا ہے۔ ہر سال سیلاب آنا ،کئی علاقوں میں عوام کو خشک سالی کا سامنا بھی رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت تباہی اور بربادی کے اس سلسلے کو اب تک روک کیوں نہیں پائی؟ چین کے مندوب کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی اکیسیویں صدی میں عالم انسانیت کی بہت بڑی فتح ہے، ان کی بات کانفرنس کا حاصل قرار دی جاسکتی ہے۔
لیکن مسئلہ پھر بھی حل نہیں ہو رہا ہے بلکہ روز بروز سنگین صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے ۔ مشکلات کا آغاز تو جب ہوتا ہے جب تمام ممالک کواس بات پر متفق کرنا ہو کہ موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے '' کس طرح'' نمٹا جائے ۔ 1992 سے اب تک ہر سال تمام فریقوں کے مذاکرات کاروں کے ساتھ اس کانفرنس کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے تاکہ باہمی رضامندی کے ساتھ ایک قابل عمل منصوبہ تشکیل دیا جاسکے۔ تازہ ترین کانفرنس کی مثال لے لیجیے دو سو ممالک کے مندوبین مسلسل کوششوں کے باوجود بھی کوپ 24 کے دوران کئی اہم معاملات پر متفق نہیں ہو پائے۔
ایسے چند موضوعات یہ ہیں۔ برازیل اور اس کے ہم نوا ممالک مارکیٹ میں نئے 'کاربن کریڈیٹ نظام' بنانے پر متفق نہیں ہوئے۔ اب یہ معاملہ مستقبل میں طے کیا جائے گا۔سعودی عرب اور چند دیگر ممالک کو اقوام متحدہ کی موسیمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کی اہم اور تاریخی اہمیت کی حامل رپورٹ میں اخذ کردہ نتائج پر اعتراض تھا۔ اس لیے معاہدے میں اس رپورٹ کی 'بر وقت تکمیل' کی تعریف کرنے پر ہی اکتفا کیا گیا۔حتمی معاہدے میں بحیثیت مجموعی زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے بارے میں الفاظ پر اتفاق نہیں ہو پایا ہے ۔گوکہ امریکا، چین اور یورپی یونین نے اس معاہدے کوکامیاب بنانے کے لیے مشترکہ جدوجہد کا عندیہ دیا ہے ۔
یاد رہے امریکی صدر ٹرمپ پیرس معاہدے سے باہر نکلنے کی دھمکی 2017 میں دے چکے ہیں۔اجلاس میں پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو 3800 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے ۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے اندازوں کے مطابق 2050ء تک بنگلہ دیش اور پاکستان میں ڈھائی ملین سے زائد انسان ایسے مقامات پر زندگی بسر کر رہے ہوں گے جو منفی ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے نہایت خطرناک ہوں گے۔
ہم صحرائے تھر میں کوئلے سے بجلی پیدا کررہے ہیں جوکہ مقامی باسیوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے ۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں دس غیر محفوظ ترین ملکوں میں پاکستان کا شمار ہوتا ہے۔ ہر سال سیلاب آنا ،کئی علاقوں میں عوام کو خشک سالی کا سامنا بھی رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت تباہی اور بربادی کے اس سلسلے کو اب تک روک کیوں نہیں پائی؟ چین کے مندوب کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی اکیسیویں صدی میں عالم انسانیت کی بہت بڑی فتح ہے، ان کی بات کانفرنس کا حاصل قرار دی جاسکتی ہے۔