ایمرجنگ کپ قوانین سے لاعلمی پاکستانی ٹیم کو لے ڈوبی
مینجمنٹ نے گروپ چیمپئن بننے کا سمجھ لیا مگر سیمی فائنل میں بھارت سے مقابلہ ہوگیا۔
مینجمنٹ نے گروپ چیمپئن بننے کا سمجھ لیامگرسیمی فائنل میں بھارت سے مقابلہ ہوگیا۔ فوٹو: فائل
ایشین ایمرجنگ کپ میں قوانین سے لاعلمی پاکستانی ٹیم کو لے ڈوبی۔
ٹیم مینجمنٹ کی قوانین سے عدم واقفیت اے سی سی ایمرجنگ کپ سے گرین شرٹس کے اخراج کی وجہ بنی،ذرائع نے بتایاکہ کوچ اعجاز احمد جونیئر اور منیجر کرنل (ر) نوشاد علی نے پلیئنگ کنڈیشنز کوغور سے پڑھنا مناسب نہ سمجھا، یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش کیخلاف آخری میچ کو آسان تصور کیا گیا۔
مینجمنٹ کا خیال تھا کہ اگر ہار بھی گئے تو بھی پوائنٹس حریف کے برابر اور رن ریٹ زیادہ ہی رہے گا جس کی وجہ سے گروپ چیمپئن بن جائیں گے۔ یوں سیمی فائنل میں بھارت کے بجائے دوسرے پول کی نمبر ٹو ٹیم سے مقابلہ ہوگا۔
یو اے ای کیخلاف ناقابل شکست سنچری بنانے والے صاحبزادہ فرحان کو بھی بنگلہ دیش سے میچ میں ریسٹ دے دیا گیا، ٹیم کو اس مقابلے میں شکست ہوئی مگر یکساں چار پوائنٹس اور بہتر رن ریٹ نے بظاہر گروپ میں سب سے اوپر ہی رکھا، البتہ اس ٹورنامنٹ کی پلیئنگ کنڈیشنز کے مطابق یکساں پوائنٹس پر ابتدائی دونوں ٹیموں میں سے جس نے باہمی میچ جیتا اسے نمبر ون تصور کیا جاتا، اس طرح بنگلہ دیش کا دوسرے گروپ کی نمبر ٹو ٹیم سری لنکا سے سیمی فائنل میں مقابلہ ہوا۔
پاکستان کو سرفہرست بھارت سے ٹکرانا پڑا، دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش سے ہارنے کے باوجود ٹیم مینجمنٹ کو یہ نہیں پتا تھا کہ وہ گروپ میں دوسرے نمبر پر رہے۔
پریس کانفرنس میں کپتان محمد رضوان نے بھی پہلی پوزیشن کا ذکر کیا، بعد میں پی سی بی انٹرنیشنل کرکٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک آفیشل نے بتایا تو ٹیم حیران رہ گئی، سب سری لنکا سے مقابلے کا ذہن بنائے بیٹھے تھے لیکن ساری پلاننگ دھری رہ گئی اور بھارت سے میچ پڑ گیا، جس میں 7 وکٹ کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایونٹ میں کوچ اعجاز جونیئر کا کردار محدود رہا اور کپتان رضوان ہی بیشتر فیصلے کرتے رہے، کھلاڑیوں کی پوزیشنز میں متواتر تبدیلیوں سے بھی کارکردگی پر فرق پڑا۔
ٹیم مینجمنٹ کی قوانین سے عدم واقفیت اے سی سی ایمرجنگ کپ سے گرین شرٹس کے اخراج کی وجہ بنی،ذرائع نے بتایاکہ کوچ اعجاز احمد جونیئر اور منیجر کرنل (ر) نوشاد علی نے پلیئنگ کنڈیشنز کوغور سے پڑھنا مناسب نہ سمجھا، یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش کیخلاف آخری میچ کو آسان تصور کیا گیا۔
مینجمنٹ کا خیال تھا کہ اگر ہار بھی گئے تو بھی پوائنٹس حریف کے برابر اور رن ریٹ زیادہ ہی رہے گا جس کی وجہ سے گروپ چیمپئن بن جائیں گے۔ یوں سیمی فائنل میں بھارت کے بجائے دوسرے پول کی نمبر ٹو ٹیم سے مقابلہ ہوگا۔
یو اے ای کیخلاف ناقابل شکست سنچری بنانے والے صاحبزادہ فرحان کو بھی بنگلہ دیش سے میچ میں ریسٹ دے دیا گیا، ٹیم کو اس مقابلے میں شکست ہوئی مگر یکساں چار پوائنٹس اور بہتر رن ریٹ نے بظاہر گروپ میں سب سے اوپر ہی رکھا، البتہ اس ٹورنامنٹ کی پلیئنگ کنڈیشنز کے مطابق یکساں پوائنٹس پر ابتدائی دونوں ٹیموں میں سے جس نے باہمی میچ جیتا اسے نمبر ون تصور کیا جاتا، اس طرح بنگلہ دیش کا دوسرے گروپ کی نمبر ٹو ٹیم سری لنکا سے سیمی فائنل میں مقابلہ ہوا۔
پاکستان کو سرفہرست بھارت سے ٹکرانا پڑا، دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش سے ہارنے کے باوجود ٹیم مینجمنٹ کو یہ نہیں پتا تھا کہ وہ گروپ میں دوسرے نمبر پر رہے۔
پریس کانفرنس میں کپتان محمد رضوان نے بھی پہلی پوزیشن کا ذکر کیا، بعد میں پی سی بی انٹرنیشنل کرکٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک آفیشل نے بتایا تو ٹیم حیران رہ گئی، سب سری لنکا سے مقابلے کا ذہن بنائے بیٹھے تھے لیکن ساری پلاننگ دھری رہ گئی اور بھارت سے میچ پڑ گیا، جس میں 7 وکٹ کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایونٹ میں کوچ اعجاز جونیئر کا کردار محدود رہا اور کپتان رضوان ہی بیشتر فیصلے کرتے رہے، کھلاڑیوں کی پوزیشنز میں متواتر تبدیلیوں سے بھی کارکردگی پر فرق پڑا۔