تاریخ میں پہلی بار پیٹرولیم کوک اور کوئلے کی کارگو ہینڈلنگ
پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینلز لمیٹڈ نے ہینڈلنگ ریکارڈ 17 گھنٹے میں مکمل کی۔
6 ماہ میں 3.2 ملین ٹن کوئلے اور کلنکر کی ہینڈلنگ کی گئی، سی ای او شارق صدیقی۔ فوٹو: فائل
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینلز لمیٹڈ نے پیٹرولیم کوک اور کوئلے کی کارگو ہینڈلنگ کی ہے جو اس نوعیت کی پہلی ہینڈلنگ ہے۔
پی آئی بی ٹی کے بیان کے مطابق ایم وی زونگ یو 89 جہاز پورٹ قاسم پر 10 دسمبر شام 4 بجے پہنچا تھا جو پی آئی بی ٹی پر اپنی نوعیت کے اعتبار سے مشکل ترین پیٹ کوک کنسائنمنٹ تھی اور عام کوئلے کے مقابلے میں بڑا جہاز ہونے کی وجہ سے زیادہ دشوار ہوتی ہے تاہم اس کی کامیابی کے ساتھ ہینڈلنگ کی گئی۔ کارگو کی سے کوئلے کی منتقلی کا عمل تمام تر ماحولیاتی معیارات کے مطابق 11 دسمبر کی صبح مکمل کرلیا گیا۔
سی ای او، پی آئی بی ٹی، شارق صدیقی نے کہا کہ پی آئی بی ٹی کے جدید ٹرمینل پر گزشتہ مالی سال میں 2.7 ملین ٹن کوئلے اور کلنکر کی ہینڈلنگ کی گئی تھی جبکہ رواں مالی سال میں پہلے6 ماہ میں ہی کارکردگی کو مزید بہتر بناتے ہوئے 3.2 ملین ٹن کوئلے اور کلنکر کی ہینڈلنگ کرلی گئی ہے۔
شارق صدیقی نے بتایا کہ ہمارے مکمل جدید میکینیکل ٹرمینل پر 60 ہزار ٹن کوئلے کی 30 گھنٹوں میں ہینڈلنگ کرلی جاتی ہے اور یہ کراچی پورٹ سے تین گنا زیادہ بہتر کارکردگی ہے جس سے درآمدکنندگان کے اخراجات اور وقت میں بڑی کمی واقع ہوتی ہے۔
پی آئی بی ٹی کے بیان کے مطابق ایم وی زونگ یو 89 جہاز پورٹ قاسم پر 10 دسمبر شام 4 بجے پہنچا تھا جو پی آئی بی ٹی پر اپنی نوعیت کے اعتبار سے مشکل ترین پیٹ کوک کنسائنمنٹ تھی اور عام کوئلے کے مقابلے میں بڑا جہاز ہونے کی وجہ سے زیادہ دشوار ہوتی ہے تاہم اس کی کامیابی کے ساتھ ہینڈلنگ کی گئی۔ کارگو کی سے کوئلے کی منتقلی کا عمل تمام تر ماحولیاتی معیارات کے مطابق 11 دسمبر کی صبح مکمل کرلیا گیا۔
سی ای او، پی آئی بی ٹی، شارق صدیقی نے کہا کہ پی آئی بی ٹی کے جدید ٹرمینل پر گزشتہ مالی سال میں 2.7 ملین ٹن کوئلے اور کلنکر کی ہینڈلنگ کی گئی تھی جبکہ رواں مالی سال میں پہلے6 ماہ میں ہی کارکردگی کو مزید بہتر بناتے ہوئے 3.2 ملین ٹن کوئلے اور کلنکر کی ہینڈلنگ کرلی گئی ہے۔
شارق صدیقی نے بتایا کہ ہمارے مکمل جدید میکینیکل ٹرمینل پر 60 ہزار ٹن کوئلے کی 30 گھنٹوں میں ہینڈلنگ کرلی جاتی ہے اور یہ کراچی پورٹ سے تین گنا زیادہ بہتر کارکردگی ہے جس سے درآمدکنندگان کے اخراجات اور وقت میں بڑی کمی واقع ہوتی ہے۔