متحدہ عرب امارات میں افغان امن مذاکرات کا آغاز

پاکستان پہلے بھی امن کے لیے کوشش کرتا رہا ہے اور اب بھی کررہا ہے۔

پاکستان پہلے بھی امن کے لیے کوشش کرتا رہا ہے اور اب بھی کررہا ہے۔ فوٹو : فائل

امریکا نے باالٓاخر اس حقیقت کو تسلیم کر لیا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی مدد کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہو سکتی چنانچہ تازہ صورت حال کے مطابق افغانستان میں جنگ کے سیاسی حل کے لیے پاکستان کی کوششوں سے متحدہ عرب امارات میں افغان طالبان اورامریکی حکام کے درمیان مذاکراتی عمل کا آغاز گزشتہ روز سے ہو گیا۔اس خطے کے تناظر میں یہ بڑی اہم پیش رفت ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دبئی مذاکرات میں سعودی عرب، پاکستان اور متحدہ عرب ا مارات کے حکام بھی حصہ لیں گے۔ دبئی میں امن مذاکرات طویل سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

وزارت خارجہ پاکستان کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے امن مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری اور دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ پاکستان بھی افغانستان میں دیرپا امن کا خواہاں ہے۔ دبئی میں ہونے والے امن مذاکرات سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ اب افغانستان میں قیام امن کی کوئی راہ نکل آئے گی ، اگر افغانستان میں امن قائم ہوجاتا ہے تو اس سے سارے خطے میں امن کی فضا سازگار ہو جائے گی۔


افغان طالبان کا مذاکرات کی میز تک آنا ایک بڑا بریک تھرو ہے' گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک مراسلے کے ذریعے پاکستان سے افغانستان میں قیام امن کے لیے مدد کی درخواست کی تھی' اسی دوران زلمے خلیل زاد بھی پاکستان کے دورے پر آئے تھے، اب ان کوششوں کا نتیجہ دبئی مذاکرات کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ لیکن ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ اگر امن دشمن قوتیں کسی نہ کسی بہانے مذاکرات کو ناکام بنانے کے لیے کوئی حربہ اختیار کر سکتی ہیں جیسے پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور ڈرون حملے میں کسی طالبان لیڈر کو ہلاک کر کے مذاکرات کی بازی پلٹ جاتی رہی ہے۔

فریقین کے پاس اچھا موقع ہے اور انھیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ سب سے زیادہ زیادہ ذمے داری افغان طالبان کی قیادت اور امریکا پر عائد ہوتی ہے کہ حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور امن کی راہ اختیار کریں ۔ ضد اور انا کے چکر میں تباہی کا کھیل جاری رہے گا۔پاکستان پہلے بھی امن کے لیے کوشش کرتا رہا ہے اور اب بھی کررہا ہے، چین بھی اس مقصد کے لیے ہر ممکن تعاون کررہا ہے جب کہ متحدہ عرب امارات کا تعاون بھی ساتھ ہے، اس لیے امن کا یہ موقع ضایع نہیں ہونا چاہیے۔

 
Load Next Story