پاک چین اسٹرٹیجک شراکت داری
دونوں ملک تجارت، سرمایہ کاری،توانائی، زراعت،کان کنی،غذائی تحفظ،ماحولیات، خزانہ اوردیگرشعبوں میں تعاون مضبوط بنائیں گے۔
دونوں ملک تجارت، سرمایہ کاری،توانائی، زراعت،کان کنی،غذائی تحفظ،ماحولیات، خزانہ اوردیگرشعبوں میں تعاون مضبوط بنائیں گے۔ فوٹو: فائل
پاکستان اور عوامی جمہوریہ چین نے جمعہ کو بیجنگ میں اسٹرٹیجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ وژن کے بارے میں40 نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اس مشترکہ اعلامیے میں دونوں ملکوں نے تمام شعبوں میں عملی تعاون کو مزید گہرا کرنے اور علاقائی اور عالمی معاملات پر رابطے اور تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے اولین دورہ چین کے موقع پر جاری ہونے والے اس مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے ایسی پالیسیوں کو فروغ دینے کا عزم کیا ہے جو امن، تعاون کو آگے بڑھائیں، غربت میں کمی آئے، سماجی اور اقتصادی ترقی کو فروغ ملے، لڑائی کے اسباب دور ہوں۔ دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے چینی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم مشرقی ترکستان تحریک کو مشترکہ خطرہ سمجھتے ہیں۔
دونوں ملک تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت، کان کنی، غذائی تحفظ، ماحولیات، خزانہ اور دیگر شعبوں میں تعاون مضبوط بنائیں گے۔ مستقبل قریب میں پاک چین فائبر آپٹک کیبل منصوبے پر بروقت کام شروع کرنے، شاہراہ قراقرم کو اپ گریڈ کرنے، شمسی توانائی اور بائیو ماس توانائی پر تعاون، اقتصادی راہداری کے ساتھ صنعتی پارکوں کی تعمیر کا جائزہ لینے، پاکستان میں ڈیجیٹل ٹیلی ویژن، ٹیرسٹریل ملٹی میڈیا براڈ کاسٹنگ کے لیے بین الحکومتی مشاورت اور وائرلیس براڈ بینڈ ایریا میں تعاون بڑھانے پر توجہ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ 2015ء کو پاک چین دوستانہ تبادلوں کے سال کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔
دونوں ملک جڑواں شہر/ صوبے قائم کرینگے۔ عوامی جمہوریہ چین پاکستان میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹس کی تعداد میں اضافہ کرے گا۔ مسلح افواج کے درمیان اعلیٰ سطح کے دورے جاری رکھنے، انسداد دہشت گردی کے لیے کارروائی کی تربیت بڑھانے، ڈیفنس ٹیکنالوجی اور پیداوار کے شعبے میں تعاون میں مزید اضافہ کرنے پر اتفاق کیا۔ ہتھیاروں کے کنٹرول، تخفیف اور ایٹمی عدم پھیلائو کے اقدامات کے لیے عزم کا اعادہ کیا گیا اور اس یقین کا اظہار کہ عالمی تخفیف اسلحہ کے اقدامات امتیازی نہیں ہونے چاہئیں۔ دونوں ممالک نے خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کی مخالفت کا اعادہ کیا اور کہا، فریقین افغانستان میں امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔
پاک چین مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے سے پہلے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور چینی وزیراعظم لی کی چیانگ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں تجارت اور معیشت کے فروغ اور سرمایہ کاری میں اضافے پر اتفاق کیا گیا ہے اور 8 اہم معاہدوں، سمجھوتوں اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ اس ملاقات میں افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ پاکستان اور چین نے معاشی تعاون کو خطے کے دیگر ممالک تک پھیلانے کے لیے 18 ارب ڈالر کی لاگت سے کاشغر سے گوادر تک اقتصادی راہداری قائم کرنے، 3 سال میں44 کروڑ ڈالر سے کاشغر سے اسلام آباد تک فائبر آپٹک سسٹم بچھانے، تعلیم کے لیے سود سے پاک قرضے دینے کے علاوہ کراچی سے لاہور تک موٹروے سے متعلق مفاہمت کی ایک یاداشت پر دستخط کیے۔
ادھر پنجاب میں شمسی، ونڈ انرجی سمیت مختلف تعمیراتی منصوبوں،2 ہزار میگاواٹ کے کوئلے کے منصوبے پر بھی تعاون کے معاہدے بھی کیے گئے۔ تجارتی تعاون کے فیصلے سے پاکستان کو کروڑوں ڈالر کی چھوٹ مل جائے گی۔ چائنا اوورسیز ولڈنگ کمپنی نے گوادر پورٹ کی تعمیر اور لنک روڈ اور ائیرپورٹ تک رسائی کے لیے سڑکیں بنانے پر رضامندی ظاہر کی ہے، نارینکو کمپنی نے انڈر گرائونڈ میٹرو سسٹم اور ٹرانزٹ اسکیم کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ 8 معاہدوں میں پہلا معاہدہ پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق تقریباً200 کلومیٹر طویل سرنگوں کی تعمیر سمیت18 ارب ڈالر مالیت کا طویل المدت منصوبہ ہے۔
چینی وزیر اعظم نے کہا کہ چین کو اس راہداری میں اسٹرٹیجک دلچسپی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے ہدایت کی کہ لاہور کراچی موٹروے منصوبے کی3 ماہ میں فزیبلٹی اسٹڈی کو حتمی شکل دینے کے بعد منصوبہ ڈھائی سال کے اندر مکمل کیا جائے۔ یہ نہ صرف پاکستان کے لیے ایک بڑا منصوبہ ہے بلکہ اس سے کراچی سے لاہور، ملتان، اسلام آباد اور پشاور جانے والی ٹریفک چند گھنٹوں میں اپنا سفر مکمل کرے گی۔ گوادر کاشغر موٹروے کو کراچی لاہور موٹروے کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف چین کی کمپنی کو تاخیر کا شکار نندی پور پاور پراجیکٹ پر دوبارہ کام کرنے پر رضامند کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ نندی پور سے 450 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔ اسے بھی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دورہ چین سے بڑی اچھی خبریں آئی ہیں۔ پاکستان اس وقت جس قسم کے داخلی اور خارجی حالات سے دوچار ہے اس سے عہدہ برأ ہونے کے لیے چین جیسے طاقتور ملک کے ساتھ اسٹرٹیجک اور مضبوط اقتصادی تعلقات کا ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان اور افغانستان میں جو صورت حال موجود ہے، اس کے اثرات وسط ایشیا اور چین پر مرتب ہو رہے ہیں۔ چین کے صوبے سنکیانگ میں بدامنی اور شورش جاری ہے۔
اس صوبے میں امن کے قیام کے لیے چین کو پاکستان کی ضرورت ہے۔ اسی طرح پاکستان کو جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور افغانستان میں قیام امن کے لیے چین کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کو اپنی معیشت بہتر بنانے اور انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے لیے بھی چین کا تعاون چاہیے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ چینی حکومت نے پاکستان میں وسیع پیمانے پر منصوبے شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور معاہدوں پر دستخط بھی ہو گئے ہیں۔ شاہراہ ریشم کی تعمیر بھی چین کے تعاون سے ہی ممکن ہوئی۔
اب گوادر سے کاشغر تک راہ داری کی تعمیر ایک بہت بڑا کارنامہ ہو گا۔ اس سے پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اسی طرح لاہور سے کراچی تک موٹروے کی تعمیر بھی ایک انقلابی منصوبہ ہے۔ لاہور اسلام آباد موٹروے اور پھر پشاور اسلام آباد موٹروے نے بھی فاصلوں کو بہت کم کیا ہے۔ اسی طرح اگر لاہور سے کراچی موٹروے بن جاتی ہے تو اس سے ملک میں اقتصادی انقلاب آ جائے گا۔
بلٹ ٹرین کے منصوبے بھی پایہ تکمیل تک پہنچ جاتے ہیں تو اس ملک کے عوام کے درمیان بہت سی غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی اوراقتصادی سرگرمیوں میں بھی بے پناہ تیزی آئے گی۔ چین پاکستان میں پہلے بھی کئی اہم منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ اب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ پاک چین مشترکہ اعلامیے میں جن اہداف کا ذکر کیا گیا ہے اگر وہ اپنی معینہ مدت میں حاصل ہو جاتے ہیں تو اس سے پاکستان میں ترقی وخوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔
وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے اولین دورہ چین کے موقع پر جاری ہونے والے اس مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے ایسی پالیسیوں کو فروغ دینے کا عزم کیا ہے جو امن، تعاون کو آگے بڑھائیں، غربت میں کمی آئے، سماجی اور اقتصادی ترقی کو فروغ ملے، لڑائی کے اسباب دور ہوں۔ دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے چینی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم مشرقی ترکستان تحریک کو مشترکہ خطرہ سمجھتے ہیں۔
دونوں ملک تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت، کان کنی، غذائی تحفظ، ماحولیات، خزانہ اور دیگر شعبوں میں تعاون مضبوط بنائیں گے۔ مستقبل قریب میں پاک چین فائبر آپٹک کیبل منصوبے پر بروقت کام شروع کرنے، شاہراہ قراقرم کو اپ گریڈ کرنے، شمسی توانائی اور بائیو ماس توانائی پر تعاون، اقتصادی راہداری کے ساتھ صنعتی پارکوں کی تعمیر کا جائزہ لینے، پاکستان میں ڈیجیٹل ٹیلی ویژن، ٹیرسٹریل ملٹی میڈیا براڈ کاسٹنگ کے لیے بین الحکومتی مشاورت اور وائرلیس براڈ بینڈ ایریا میں تعاون بڑھانے پر توجہ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ 2015ء کو پاک چین دوستانہ تبادلوں کے سال کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔
دونوں ملک جڑواں شہر/ صوبے قائم کرینگے۔ عوامی جمہوریہ چین پاکستان میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹس کی تعداد میں اضافہ کرے گا۔ مسلح افواج کے درمیان اعلیٰ سطح کے دورے جاری رکھنے، انسداد دہشت گردی کے لیے کارروائی کی تربیت بڑھانے، ڈیفنس ٹیکنالوجی اور پیداوار کے شعبے میں تعاون میں مزید اضافہ کرنے پر اتفاق کیا۔ ہتھیاروں کے کنٹرول، تخفیف اور ایٹمی عدم پھیلائو کے اقدامات کے لیے عزم کا اعادہ کیا گیا اور اس یقین کا اظہار کہ عالمی تخفیف اسلحہ کے اقدامات امتیازی نہیں ہونے چاہئیں۔ دونوں ممالک نے خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کی مخالفت کا اعادہ کیا اور کہا، فریقین افغانستان میں امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔
پاک چین مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے سے پہلے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور چینی وزیراعظم لی کی چیانگ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں تجارت اور معیشت کے فروغ اور سرمایہ کاری میں اضافے پر اتفاق کیا گیا ہے اور 8 اہم معاہدوں، سمجھوتوں اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ اس ملاقات میں افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ پاکستان اور چین نے معاشی تعاون کو خطے کے دیگر ممالک تک پھیلانے کے لیے 18 ارب ڈالر کی لاگت سے کاشغر سے گوادر تک اقتصادی راہداری قائم کرنے، 3 سال میں44 کروڑ ڈالر سے کاشغر سے اسلام آباد تک فائبر آپٹک سسٹم بچھانے، تعلیم کے لیے سود سے پاک قرضے دینے کے علاوہ کراچی سے لاہور تک موٹروے سے متعلق مفاہمت کی ایک یاداشت پر دستخط کیے۔
ادھر پنجاب میں شمسی، ونڈ انرجی سمیت مختلف تعمیراتی منصوبوں،2 ہزار میگاواٹ کے کوئلے کے منصوبے پر بھی تعاون کے معاہدے بھی کیے گئے۔ تجارتی تعاون کے فیصلے سے پاکستان کو کروڑوں ڈالر کی چھوٹ مل جائے گی۔ چائنا اوورسیز ولڈنگ کمپنی نے گوادر پورٹ کی تعمیر اور لنک روڈ اور ائیرپورٹ تک رسائی کے لیے سڑکیں بنانے پر رضامندی ظاہر کی ہے، نارینکو کمپنی نے انڈر گرائونڈ میٹرو سسٹم اور ٹرانزٹ اسکیم کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ 8 معاہدوں میں پہلا معاہدہ پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق تقریباً200 کلومیٹر طویل سرنگوں کی تعمیر سمیت18 ارب ڈالر مالیت کا طویل المدت منصوبہ ہے۔
چینی وزیر اعظم نے کہا کہ چین کو اس راہداری میں اسٹرٹیجک دلچسپی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے ہدایت کی کہ لاہور کراچی موٹروے منصوبے کی3 ماہ میں فزیبلٹی اسٹڈی کو حتمی شکل دینے کے بعد منصوبہ ڈھائی سال کے اندر مکمل کیا جائے۔ یہ نہ صرف پاکستان کے لیے ایک بڑا منصوبہ ہے بلکہ اس سے کراچی سے لاہور، ملتان، اسلام آباد اور پشاور جانے والی ٹریفک چند گھنٹوں میں اپنا سفر مکمل کرے گی۔ گوادر کاشغر موٹروے کو کراچی لاہور موٹروے کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف چین کی کمپنی کو تاخیر کا شکار نندی پور پاور پراجیکٹ پر دوبارہ کام کرنے پر رضامند کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ نندی پور سے 450 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔ اسے بھی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دورہ چین سے بڑی اچھی خبریں آئی ہیں۔ پاکستان اس وقت جس قسم کے داخلی اور خارجی حالات سے دوچار ہے اس سے عہدہ برأ ہونے کے لیے چین جیسے طاقتور ملک کے ساتھ اسٹرٹیجک اور مضبوط اقتصادی تعلقات کا ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان اور افغانستان میں جو صورت حال موجود ہے، اس کے اثرات وسط ایشیا اور چین پر مرتب ہو رہے ہیں۔ چین کے صوبے سنکیانگ میں بدامنی اور شورش جاری ہے۔
اس صوبے میں امن کے قیام کے لیے چین کو پاکستان کی ضرورت ہے۔ اسی طرح پاکستان کو جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور افغانستان میں قیام امن کے لیے چین کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کو اپنی معیشت بہتر بنانے اور انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے لیے بھی چین کا تعاون چاہیے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ چینی حکومت نے پاکستان میں وسیع پیمانے پر منصوبے شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور معاہدوں پر دستخط بھی ہو گئے ہیں۔ شاہراہ ریشم کی تعمیر بھی چین کے تعاون سے ہی ممکن ہوئی۔
اب گوادر سے کاشغر تک راہ داری کی تعمیر ایک بہت بڑا کارنامہ ہو گا۔ اس سے پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اسی طرح لاہور سے کراچی تک موٹروے کی تعمیر بھی ایک انقلابی منصوبہ ہے۔ لاہور اسلام آباد موٹروے اور پھر پشاور اسلام آباد موٹروے نے بھی فاصلوں کو بہت کم کیا ہے۔ اسی طرح اگر لاہور سے کراچی موٹروے بن جاتی ہے تو اس سے ملک میں اقتصادی انقلاب آ جائے گا۔
بلٹ ٹرین کے منصوبے بھی پایہ تکمیل تک پہنچ جاتے ہیں تو اس ملک کے عوام کے درمیان بہت سی غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی اوراقتصادی سرگرمیوں میں بھی بے پناہ تیزی آئے گی۔ چین پاکستان میں پہلے بھی کئی اہم منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ اب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ پاک چین مشترکہ اعلامیے میں جن اہداف کا ذکر کیا گیا ہے اگر وہ اپنی معینہ مدت میں حاصل ہو جاتے ہیں تو اس سے پاکستان میں ترقی وخوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔