دنیا میں سالانہ 15ملین بچے قبل ازوقت پیدا ہوتے ہیںماہرین
دنیا بھر میں گذشتہ20سال میں نوزائیدہ بچوںکی اموات کی شرح میں اضافہ ہوا
قبل ازوقت پیدا ہونے والے بچوں میں ایک ملین سے زائد یا تو پیدائش کے فورا بعد ہی مر جاتے ہیں یا وہ صحت کے مسائل میں گھرے رہتے ہیں۔ فوٹو: فائل
ORAKZAI:
پری میچور برتھ یا قبل ازوقت پیدائش زچگی کے37ویں ہفتے یا اس سے قبل ہونے والی پیدائش کو کہتے ہیں، Save the Childrenکے گلوبل ایویڈنس اینڈ پالیسی کے ڈائریکٹر اور عالمی ادارہ صحت کی مذکورہ تازہ ترین رپورٹ کے معاون مدیرJoy Lawnکا کہنا ہے کہ مقررہ وقت سے بہت پہلے دنیا میں آنے کا عمل گمنام قاتل کی سی حیثیت رکھتا ہے، ڈبیلو ایچ او کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے تین ممالک کو چھوڑ کر ہر ملک میں گذشتہ20سال میں نوزائیدہ بچوںکی اموات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، اس ضمن میں بھارت اور چین دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں دنیا بھر میں قبل ازوقت پیدا ہونے والے بچوں کی کل تعداد کا دو تہائی پیدا ہوتا ہے، طبی ماہرین کہا کہ نوزائیدہ بچوں کی اموات کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ معمر خواتین کی زچگی ہوتی ہے، بڑی عمر کی عورتوں کو اکثر بارآوری کی ادویہ کا استعمال کرنا پڑتا ہے جس کا نتیجہ متعدد اسقاط حمل کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔
قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی ذہنی نشو و نما متاثر اور مستقبل میں صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، عالمی ادارہ صحت کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال 15ملین بچے یا ہر دس میں ایک سے زائد بچے کی پیدائش قبل ازوقت ہوتی ہے، رپورٹ سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ قبل ازوقت پیدا ہونے والے ان بچوں میں ایک ملین سے زائد بچے یا تو پیدائش کے فورا بعد ہی مر جاتے ہیں یا وہ صحت کے مسائل میں گھیرے رہتے ہیں۔
پری میچور برتھ یا قبل ازوقت پیدائش زچگی کے37ویں ہفتے یا اس سے قبل ہونے والی پیدائش کو کہتے ہیں، Save the Childrenکے گلوبل ایویڈنس اینڈ پالیسی کے ڈائریکٹر اور عالمی ادارہ صحت کی مذکورہ تازہ ترین رپورٹ کے معاون مدیرJoy Lawnکا کہنا ہے کہ مقررہ وقت سے بہت پہلے دنیا میں آنے کا عمل گمنام قاتل کی سی حیثیت رکھتا ہے، ڈبیلو ایچ او کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے تین ممالک کو چھوڑ کر ہر ملک میں گذشتہ20سال میں نوزائیدہ بچوںکی اموات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، اس ضمن میں بھارت اور چین دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں دنیا بھر میں قبل ازوقت پیدا ہونے والے بچوں کی کل تعداد کا دو تہائی پیدا ہوتا ہے، طبی ماہرین کہا کہ نوزائیدہ بچوں کی اموات کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ معمر خواتین کی زچگی ہوتی ہے، بڑی عمر کی عورتوں کو اکثر بارآوری کی ادویہ کا استعمال کرنا پڑتا ہے جس کا نتیجہ متعدد اسقاط حمل کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔