تھرپارکرآفت زدہ قرار خریف کے تمام ٹیکسز بھی معاف
بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے قحط کی صورتحال بھی پیدا ہوچکی ہے، حلیم عادل شیخ
وزیر اعلیٰ کے مشیر حلیم عادل شیخ پریس کلب میں پریس کانفر نس سے خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس
وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر ریلیف حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ان کی سفارش پر5دیہہ کے علاوہ پورے تھرپارکر کو آفت زدہ قرار دیدیا ہے، انھوں نے کہا کہ تاریخ میں ایسا نہیں ہوا جس تیز رفتاری سے حکومتی اقدامات اٹھائے گے ہیں اس میں وزیر اعلیٰ سندھ مبارکباد کے مستحق ہیں، حکومتی واجبات اور خریف 2012کے تمام ٹیکسز معاف کر دیے گئے ہیں، 1968سے 2007 تک 12مرتبہ تھر پارکر کو آفت زدہ قرار دیا گیا، عالمی برادری بزنس کمیونٹی، این جی اوز اور سول سوسائٹی تھرپارکر کے متاثرین کی مدد کے لیے ہمارا ساتھ دے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے اتوار کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انھوں نے کہا انھوں نے اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام نے وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کی اور تھرپارکر کی صورتحال سے آگاہ کیا، انھوں نے کہا کہ ہم نے وزیر اعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا کہ تھر پارکر کی 95 فیصد آبادی گوٹھوں میں ہے جس میں کل گوٹھ 2325 ہیں، تھر پارکر کی کل آبادی 14 لاکھ ہے، بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے قحط کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے، عید سے قبل پورے تھرپارکر میں محکمہ ریلیف کے امدادی کیمپوں نے اپنا کام شروع کردیا۔
عید کے بعد متاثرین کے امدادی کاموں کی نگرانی خود کرونگا، حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ضلع تھر پاکر کو 1968میں پہلی بار قحط زدہ قرار دیا گیا اور آخری مر تبہ 2007 کے بعد آج 19اگست 2012کو ا سے پھر سے قحط زدہ قرار دیا جا رہا ہے، تھر پاکر کے علاقہ مکین اپنے مال مویشیوں کو لیکر بیراجی علاقوں کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہیں حکومت سندھ ان کی نقل مکانی اور محفوظ مقامات کی جانب منتقلی میں ہر ممکن اقدام اٹھا رہی ہے، حکومت سندھ کی سروے ٹیموں نے 22 ہزار کلومیٹر پر محیط تھر پارکر کو قحط زدہ علاقہ قرار دے دیا ہے، حلیم عادل شیخ نے کہا کہ محکمہ ریلیف شدید بارشوں کی پیشن گوئی پر جس طریقے سے دن رات اپنا کام کر رہی تھی بالکل اسی طرح ہم پہلے سے بڑھ کر متاثرہ لوگوں کے لیے اپنی خدمات کا عمل جاری رکھیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے اتوار کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انھوں نے کہا انھوں نے اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام نے وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کی اور تھرپارکر کی صورتحال سے آگاہ کیا، انھوں نے کہا کہ ہم نے وزیر اعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا کہ تھر پارکر کی 95 فیصد آبادی گوٹھوں میں ہے جس میں کل گوٹھ 2325 ہیں، تھر پارکر کی کل آبادی 14 لاکھ ہے، بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے قحط کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے، عید سے قبل پورے تھرپارکر میں محکمہ ریلیف کے امدادی کیمپوں نے اپنا کام شروع کردیا۔
عید کے بعد متاثرین کے امدادی کاموں کی نگرانی خود کرونگا، حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ضلع تھر پاکر کو 1968میں پہلی بار قحط زدہ قرار دیا گیا اور آخری مر تبہ 2007 کے بعد آج 19اگست 2012کو ا سے پھر سے قحط زدہ قرار دیا جا رہا ہے، تھر پاکر کے علاقہ مکین اپنے مال مویشیوں کو لیکر بیراجی علاقوں کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہیں حکومت سندھ ان کی نقل مکانی اور محفوظ مقامات کی جانب منتقلی میں ہر ممکن اقدام اٹھا رہی ہے، حکومت سندھ کی سروے ٹیموں نے 22 ہزار کلومیٹر پر محیط تھر پارکر کو قحط زدہ علاقہ قرار دے دیا ہے، حلیم عادل شیخ نے کہا کہ محکمہ ریلیف شدید بارشوں کی پیشن گوئی پر جس طریقے سے دن رات اپنا کام کر رہی تھی بالکل اسی طرح ہم پہلے سے بڑھ کر متاثرہ لوگوں کے لیے اپنی خدمات کا عمل جاری رکھیں گے۔