قحط اور غذائی قلت کی صورتحال لمحہ فکریہ

غذائیت اور خوراک کی کمی سے پاکستانیوں کے اوسط قد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

غذائیت اور خوراک کی کمی سے پاکستانیوں کے اوسط قد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ فوٹو:فائل

ملک میں ہر پندرہ میں سے ایک بچہ غذائی قلت کا شکار ہو جاتا ہے، جب کہ تازہ پانی کی کمی بڑھتی جا رہی ہے، ان وجوہات کی بنا پر ملک میں قحط کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ اس الارمنگ صورتحال سے ہمیں آگاہ کیا ہے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم جامعہ کراچی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری نے۔

دنیا اسپیس ایج میں تو داخل ہو گئی لیکن انسان کے بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں اس وقت دنیا میں غذائی قلت کا شکار اڑتالیس ممالک میں 180 ملین افراد شدید غذائی قلت کی زد پر ہیں، غذائیت اور خوراک کی کمی سے پاکستانیوں کے اوسط قد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

وزارت قومی صحت اور برطانوی ادارے ڈی ایف آئی ڈی کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 6 ماہ سے 23 ماہ تک کے صرف 15 فیصد بچے معیاری خوراک استعمال کر پاتے ہیں جب کہ چھ ماہ سے 23 ماہ کے 85 فیصدبچے معیاری اور مطلوبہ اور توانا خوراک نہیں لے پاتے۔ والدین یا خاندان بچوں کی نشوونما کے لیے درکار ضروری خوراک کے بارے میں بھی لاعلم ہیں، ایسے بچے ناقص غذا کے منفی اثرات کا اپنے بچپن سے لے کر پوری زندگی تک شکار رہتے ہیں۔ پاکستان میں تھر اور دیگر پسماندہ علاقے اس کی واضح مثال قرار دیے جا سکتے ہیں۔


دوسری جانب پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی کم ہو کر 865 کیوبک میٹر ہو چکی ہے، خدشہ ہے کہ 2025ء میں یہ دستیابی 850 کیوبک میٹر تک گر سکتی ہے، پانی کا فی کس استعمال تیس لیٹر یومیہ ہے، بھوک و افلاس کے خاتمے اور بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر پاکستان میں جدید طریقہ زراعت رائج کرنے اور کمرشل فارمنگ کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے تا کہ ملک سے غربت کا خاتمہ ہو سکے۔ کسانوں کو اعلیٰ کوالٹی کے بیج فراہم کرنے کی ضرورت ہے جو شدید ماحولیاتی اثرات سے مطابقت رکھتے ہوں۔

دنیا بھرمیں بائیو ٹیکنالوجی سے پیدا شدہ فصلوں نے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، پائیداری اور موسمیاتی تبدیلی میں اپنا موثر کردار ادا کیا۔ ماہرین تو انتہائی عرق ریزی اور محنت سے غذائی قلت اور قحط سالی کی جانب عوام اور حکومت کی توجہ مبذول کروا رہے ہیں چنانچہ حکومتی سطح پر ایسا اقدامات ہنگامی بنیادوں پر اٹھائے جانے چاہئیں جس سے غذائی قلت کا خاتمہ ہو۔

پانی کے ذخائر تعمیرکرنے کی بھی ہمیں اشد ضرورت ہے۔ جدید سائنسی طریقے اختیارکرنے اور عوام میں میڈیا کے ذریعے شعور اجاگر بیدارکرنے سے ہم اس مسئلے پر قابو پاسکتے ہیں کیونکہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کی بقا کا مسئلہ ہے۔
Load Next Story