کاشغر تا گوادر شاہراہ پاکستان کی ہتھیلی پر قسمت کی روشن لکیر ثابت ہوگی شہباز شریف

بجلی کے منصوبے سابق حکمرانوں کی بدعنوانی کے باعث تاخیر کا شکار ہوئے، ہماری حکومت نے غیرسنجیدہ رویے کا خاتمہ کردیا۔

فوٹو: فائل

لاہور:
وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ چینی وزیراعظم سے وزیراعظم پاکستان نوازشریف کی ملاقات اپنے نتائج کے اعتبار سے تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔

بیجنگ میں پاکستانی شہریوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دونوں رہنمائوں کی ملاقات کے دوران پاکستان میں انرجی کے بحران کے خاتمے کیلیے باہمی تعاون پر مبنی کئی اہم فیصلے کیے گئے تاہم اس ملاقات کا سب سے اہم فیصلہ کاشغر سے گوادر تک 2 ہزار کلومیٹر طویل شاہراہ کی تعمیر ہے جسے اکنامک کوریڈور کا نام دیا گیا ہے۔ یہ شاہراہ پاکستان کی ہتھیلی پر قسمت کی روشن لکیر ثابت ہوگی۔ میں سمجھتا ہوں کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پاک چینی دوستی کا اتنا بڑا عملی مظاہرہ دیکھنے میں آئے گا، اس منصوبے کا اجرا خطے میں معاشی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، پاکستان میں کم از کم 35 صنعتوں کو فروغ ملے گا اور لاکھوں ہنرمند اور غیرہنرمند افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔




قبل ازیں شہبازشریف نے انرجی کی پیداوار سے متعلق مختلف چینی کمپنیوں کے سربراہوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان میں ن لیگ کی حکومت کے قیام کے بعد قومی اہمیت کے منصوبوں کے بارے میں غیرسنجیدہ رویے کا خاتمہ ہو چکا ہے، اس ضمن میں نیلم جہلم پروجیکٹ اور نندی پور پاور پلانٹ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، ان دونوں منصوبوں پر ہونے والی افسوسناک تاخیر نے پاکستان کو کئی ارب روپے کا نقصان پہنچایا لیکن اب ان دونوں منصوبوں کی تکمیل کے سفر کا آغاز تیزی سے کر دیا گیا ہے۔ نندی پور پاور پروجیکٹ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ایک دردناک داستان ہے لیکن اب ہم نے اپنی کوششوں کے ذریعے اس کو خوبصورت موڑ دے دیا ہے۔ بعد ازاں شنگھائی پہنچنے کے بعد پاکستانی سفارتخانے کے زیراہتمام اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے چینی سرمایہ کاروں کی میزبانی میں خود کروں گا۔
Load Next Story