زرمبادلہ ذخائر میں خطرناک حد تک کمی 3 ارب ڈالر رہ گئے

سہارا دینے کیلیے ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر دبئی کی اوپن مارکیٹ سے خریدنے پر غور

سہارا دینے کیلیے ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر دبئی کی اوپن مارکیٹ سے خریدنے پر غور۔ فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک کے زیر ملکیت زرمبادلہ کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی کا انکشاف' غیر ملکی زرمبادلہ کے حقیقی ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے۔

وفاقی حکومت کا زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کیلئے ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر دبئی کی اوپن مارکیٹ سے خریدنے پر غور' اسٹیٹ بینک نے 3 ارب ڈالر پہلے ہی 10 فیصد مارک اپ کی شرح پر کمرشل بینکوں سے عارضی طور پر لے رکھے ہیں۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر جوکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے 6 ارب 96 لاکھ ڈالر بتائے جارہے ہیں حقیقت میں اس سے کہیں کم ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بینک کے زیر ملکیت غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی ملکیت 3 ارب ڈالر سے بھی کم ہوچکی ہے اور یہ مسلسل کم ہورہے ہیں۔




ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے 3 ارب ڈالر کمرشل بینکوں سے سہ ماہی 10 فیصد مارک اپ شرح پر لے رکھے ہیں جو تقریباً ڈیڑھ سال قبل عارضی طور پر 3 ماہ کیلیے حاصل کیے گئے تھے مگر تاحال واپس نہیں کیے گئے جبکہ اسٹیٹ بینک اس پر 10 فیصد مارک اپ (سہ ماہی) ادا کررہا ہے۔ دوسری جانب اقتصادی ماہرین کے خیال میں 3 ارب ڈالر زرمبادلہ کے ذخائر محض ایک سے ڈیڑھ ماہ کی درآمدات کیلیے کافی ہیں اور کسی ملک کے پاس چھ ماہ کی درآمدات کے مساوی زرمبادلہ کے ذخائر ہونا ضروری ہیں۔ قابل اعتماد ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کیلیے ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر اوپن مارکیٹ سے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے جوکہ دبئی کی زری مارکیٹ سے خریدے جائیں گے۔
Load Next Story