بلدیہ عظمیٰ شعبہ انجینئرنگ میں بدعنوانیوں کا انکشاف
کروڑوں روپے کی بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں میں مبینہ طور پر شعبے کے اعلیٰ افسران ملوث ہیں.
جب سے محکمہ انجینئرنگ میں نیاز سومرو کو ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز کیا گیا ہے تب سے سنگین بے قاعدگیاں اور بدعنوانیاں تسلسل کے ساتھ سامنے آرہی ہیں، ذرائع۔ فوٹو: فائل
بلدیہ عظمیٰ کے میونسپل کمشنر متانت علی خان نے ادارے کے شعبہ انجینئرنگ میں ہونے والی کروڑوں روپے کی بدعوانیوں اور بے ضابطگیوں کا سراغ لگالیا جس میں مبینہ طور پر شعبے کے اعلیٰ افسران ملوث ہیں۔
باخبر ذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے ایکسپریس کو بتایا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کے میونسپل کمشنر نے محکمہ انجینئرنگ میں ہونے والی سنگین بے قاعدگیوں پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمے کے ڈائریکٹر جنرل کو انتباہ کیا ہے کہ وہ بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں سے باز رہیں کیونکہ ان کے پاس تسلسل کے ساتھ ایسی فائلیں آئی ہیں جس میں کروڑوں روپے کی بے قاعدگیاں ہیں جس سے واضح طور پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس معاملے میں محکمے کے اعلیٰ افسران شامل ہیں ، ذرائع نے بتایا کہ میونسپل کمشنر نے گزشتہ روز بھی کم وبیش ڈیڑھ کروڑ روپے کے ایک ٹھیکے کا سراغ لگایا ہے جس میں محکمے کے افسران میونسپل کمشنر کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اس ٹھکیدار کو ادائیگی کرنا چاہتے تھے جبکہ اس ٹھیکدار کی پاکستان انجینئرنگ کونسل میں رجسٹریشن تک نہیں تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ جب سے محکمہ انجینئرنگ میں نیاز سومرو کو ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز کیا گیا ہے اس کے بعد سے محکمے میں ہونے والی سنگین بے قاعدگیاں اور بدعنوانیاں تسلسل کے ساتھ سامنے آرہی ہیں اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ساری بے قاعدگیاں میونسپل کمشنر ہی پکڑ رہے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ اصل معاملہ یہ ہے کہ نیاز سومرو محکمے کے ایک جونیئرافسر ہیں ان کی تعیناتی کے بعد سے محکمے میں ایک بغاوت جیسی فضا ہے اور سینئر افسران کسی طور پر ان کو اپنا سربراہ تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں۔،
ذرائع نے بتایا کہ انہی سینئر افسران نے آج کل میونسپل کمشنر کو رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کررکھی ہیں، یہ افسران محکمہ انجینئرنگ کی فائلوں میں ہونے والی تکنیکی بے قاعدگیاں جن کو پکڑ نا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے ان کی میونسپل کمشنر کے سامنے نشاندہی کررہے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ میونسپل کمشنر جب ان فائلوں پر مختلف اعتراضات لگاکر یہ فائلیں ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز کو بھجواتے ہیں تو اس کے بعد سے وہ فائلیں غائب ہوجاتی ہیں پھر واپس نہیں آتیں، ذرائع نے بتایا کہ میونسپل کمشنر کی طرف سے سخت رویہ اختیار کیے جانے کے باعث ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز سخت پریشان ہیں ۔
باخبر ذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے ایکسپریس کو بتایا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کے میونسپل کمشنر نے محکمہ انجینئرنگ میں ہونے والی سنگین بے قاعدگیوں پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمے کے ڈائریکٹر جنرل کو انتباہ کیا ہے کہ وہ بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں سے باز رہیں کیونکہ ان کے پاس تسلسل کے ساتھ ایسی فائلیں آئی ہیں جس میں کروڑوں روپے کی بے قاعدگیاں ہیں جس سے واضح طور پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس معاملے میں محکمے کے اعلیٰ افسران شامل ہیں ، ذرائع نے بتایا کہ میونسپل کمشنر نے گزشتہ روز بھی کم وبیش ڈیڑھ کروڑ روپے کے ایک ٹھیکے کا سراغ لگایا ہے جس میں محکمے کے افسران میونسپل کمشنر کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اس ٹھکیدار کو ادائیگی کرنا چاہتے تھے جبکہ اس ٹھیکدار کی پاکستان انجینئرنگ کونسل میں رجسٹریشن تک نہیں تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ جب سے محکمہ انجینئرنگ میں نیاز سومرو کو ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز کیا گیا ہے اس کے بعد سے محکمے میں ہونے والی سنگین بے قاعدگیاں اور بدعنوانیاں تسلسل کے ساتھ سامنے آرہی ہیں اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ساری بے قاعدگیاں میونسپل کمشنر ہی پکڑ رہے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ اصل معاملہ یہ ہے کہ نیاز سومرو محکمے کے ایک جونیئرافسر ہیں ان کی تعیناتی کے بعد سے محکمے میں ایک بغاوت جیسی فضا ہے اور سینئر افسران کسی طور پر ان کو اپنا سربراہ تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں۔،
ذرائع نے بتایا کہ انہی سینئر افسران نے آج کل میونسپل کمشنر کو رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کررکھی ہیں، یہ افسران محکمہ انجینئرنگ کی فائلوں میں ہونے والی تکنیکی بے قاعدگیاں جن کو پکڑ نا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے ان کی میونسپل کمشنر کے سامنے نشاندہی کررہے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ میونسپل کمشنر جب ان فائلوں پر مختلف اعتراضات لگاکر یہ فائلیں ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز کو بھجواتے ہیں تو اس کے بعد سے وہ فائلیں غائب ہوجاتی ہیں پھر واپس نہیں آتیں، ذرائع نے بتایا کہ میونسپل کمشنر کی طرف سے سخت رویہ اختیار کیے جانے کے باعث ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز سخت پریشان ہیں ۔