پولیس بھتے کی پرچی بھیجنے والوں کا سراغ نہیں لگا سکی
مقدمہ بھی درج نہیں کیا گیا، کپڑے کے تاجرسے 10لاکھ روپے بھتہ طلب کیا گیا تھا
پولیس کی جانب سے کلاتھ ہاؤس کے باہر پولیس اہلکار کو تعنیات کردیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود متاثرہ تاجر سمیت علاقے کے دیگر تاجروں میں خوف وہراس پایا جاتا ہے۔فوٹو: فائل
پھلیلی پولیس ایک ہفتہ گزرجانے کے باوجود تاجر کو بھتے کی پرچی بھیجنے والے بھتہ خوروں کا تاحال سراغ نہیں لگا سکی ہے تو دوسری طرف پولیس بھتہ پرچی کے حوالے سے کوئی مقدمہ بھی درج نہیں کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق تھانہ پھلیلی کے علاقے میں حال میں کپڑے کا کاروبار شروع کرنے والے ایک تاجر کے کلاتھ ہاؤس میں موٹرسائیکل پر سوار 2نامعلوم افراد آئے اور دکان پر موجود تاجر کے بیٹے کو ایک پرچی دی جس پر سرخ کلر کے پین سے ایک موبائل فون نمبر تحریر تھا جبکہ پرچی دینے والے ملزم نے تاجر کے بیٹے کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس نمبرپر لازمی رابطہ کرے، جس کے بعد دکان کے مالک تاجر نے مذکورہ فون نمبرپررابطہ کیا تو اس سے10لاکھ روپے بھتہ طلب کیا گیا، جب انجمن تاجران کا اجلاس ہوا تو اس معاملے سمیت تاجروں سے ہونے والی لوٹ مار کے دیگرواقعات پر تاجررہنماؤں نے سخت موقف اختیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے احتجاج بھی کیا تاہم ایس ایس پی حیدرآباد کی جانب سے اس واقعے سمیت بدامنی ولوٹ مار کے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کی یقین دہانی کے بعد تاجروں نے عارضی طورپر خاموشی اختیار کرلی۔
تاجر رہنماؤں نے ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے پولیس سے رابطہ کیا لیکن پھلیلی پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے حوالے سے روایتی ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے متاثرہ تاجر کی جانب سے مقدمہ درج کرانے کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے اس کی حوصلہ شکنی کی جس کے باعث مذکورہ واقعے کا تاحال مقدمہ بھی درج نہیں ہوسکا۔بعد ازاں پھیلیلی پولیس کے ایس ایچ او نے ایس ایس پی آفس کے باہر تاجر رہنماؤں نے ملاقات میں ایک پرچہ دیکھاتے ہوئے دعوٰی کیا کہ انھوں نے نمبر اور لوکیشن بھی ٹریس کرلیا ہے اور وہ چند گھنٹوں کے اندر ملزم کوگرفتارکرلیں گے لیکن 3 روز گزرجانے کے باوجود پولیس اس معاملے میں معمولی سے بھی پیش رفت نہیں کرسکی ہے۔
پولیس کی جانب سے کلاتھ ہاؤس کے باہر پولیس اہلکار کو تعنیات کردیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود متاثرہ تاجر سمیت علاقے کے دیگر تاجروں میں خوف وہراس پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب سے ذرائع کاکہناہے کہ سٹی کالج روڈ پر واقع مارکیٹوں میں کاروبار کرنے والے 2 اورتاجروں کو بھی بھتے کی پرچیاں ملی ہیںلیکن اس حوالے سے تاجروں کی تنظیم انجمن تاجران سٹی کالج روڈ اورپھلیلی پولیس دونوں ہی لاعلمی کا اظہار کررہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق تھانہ پھلیلی کے علاقے میں حال میں کپڑے کا کاروبار شروع کرنے والے ایک تاجر کے کلاتھ ہاؤس میں موٹرسائیکل پر سوار 2نامعلوم افراد آئے اور دکان پر موجود تاجر کے بیٹے کو ایک پرچی دی جس پر سرخ کلر کے پین سے ایک موبائل فون نمبر تحریر تھا جبکہ پرچی دینے والے ملزم نے تاجر کے بیٹے کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس نمبرپر لازمی رابطہ کرے، جس کے بعد دکان کے مالک تاجر نے مذکورہ فون نمبرپررابطہ کیا تو اس سے10لاکھ روپے بھتہ طلب کیا گیا، جب انجمن تاجران کا اجلاس ہوا تو اس معاملے سمیت تاجروں سے ہونے والی لوٹ مار کے دیگرواقعات پر تاجررہنماؤں نے سخت موقف اختیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے احتجاج بھی کیا تاہم ایس ایس پی حیدرآباد کی جانب سے اس واقعے سمیت بدامنی ولوٹ مار کے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کی یقین دہانی کے بعد تاجروں نے عارضی طورپر خاموشی اختیار کرلی۔
تاجر رہنماؤں نے ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے پولیس سے رابطہ کیا لیکن پھلیلی پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے حوالے سے روایتی ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے متاثرہ تاجر کی جانب سے مقدمہ درج کرانے کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے اس کی حوصلہ شکنی کی جس کے باعث مذکورہ واقعے کا تاحال مقدمہ بھی درج نہیں ہوسکا۔بعد ازاں پھیلیلی پولیس کے ایس ایچ او نے ایس ایس پی آفس کے باہر تاجر رہنماؤں نے ملاقات میں ایک پرچہ دیکھاتے ہوئے دعوٰی کیا کہ انھوں نے نمبر اور لوکیشن بھی ٹریس کرلیا ہے اور وہ چند گھنٹوں کے اندر ملزم کوگرفتارکرلیں گے لیکن 3 روز گزرجانے کے باوجود پولیس اس معاملے میں معمولی سے بھی پیش رفت نہیں کرسکی ہے۔
پولیس کی جانب سے کلاتھ ہاؤس کے باہر پولیس اہلکار کو تعنیات کردیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود متاثرہ تاجر سمیت علاقے کے دیگر تاجروں میں خوف وہراس پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب سے ذرائع کاکہناہے کہ سٹی کالج روڈ پر واقع مارکیٹوں میں کاروبار کرنے والے 2 اورتاجروں کو بھی بھتے کی پرچیاں ملی ہیںلیکن اس حوالے سے تاجروں کی تنظیم انجمن تاجران سٹی کالج روڈ اورپھلیلی پولیس دونوں ہی لاعلمی کا اظہار کررہی ہیں۔