سرگودھا یونیورسٹی لاہور کیمپس کے سی ای او کا ہتھکڑی میں انتقال
مہذب معاشرے میں درس و تدریس کے شعبے سے تعلق رکھنے والوں کو خصوصی عزت و تکریم دی جاتی ہے۔
مہذب معاشرے میں درس و تدریس کے شعبے سے تعلق رکھنے والوں کو خصوصی عزت و تکریم دی جاتی ہے۔ فوٹو: فائل
ابھی پنجاب یونیورسٹی کے سابق وی سی ڈاکٹر مجاہد کامران اور یونیورسٹی کے دیگر معزز اساتذہ کی ہتھکڑی لگی تصاویر کے اخبارات میں اشاعت نے لوگوں کے دل دہلا دیے تھے مگر اب اس سے کہیں زیادہ لرزہ خیز صورت حال منظر عام پر آئی ہے جب نیب کے زیر تفتیش سرگودھا یونیورسٹی لاہور کیمپس کے سی ای اومیاں محمد جاوید کی ہتھکڑیاں لگی لاش کی تصویر منظر عام پر آئی' اس درد ناک منظر نے ہر دیکھنے اور سننے والے کو دکھی کر دیا۔
محمد جاوید نیب کے ملزم تھے اور انھیں تفتیش کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر کیمپ جیل منتقل کیا گیا تھا، میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اگلے روز ان کی جیل میں طبیعت خراب ہوئی، جیل انتظامیہ کے بقول انھیں سروسز اسپتال منتقل کیا جہاں وہ کچھ دیر زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئے، ابتدائی رپورٹ کے مطابق موت ہارٹ اٹیک کے باعث ہوئی ہے۔ البتہ پوسٹمارٹم رپورٹ کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آئیں گے' بتایا گیا ہے کہ نیب نے انھیں سرگودھا یونیورسٹی کا لاہور میں غیر قانونی کیمپس قائم کے کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
مہذب معاشرے میں درس و تدریس کے شعبے سے تعلق رکھنے والوں کو خصوصی عزت و تکریم دی جاتی ہے چہ جائیکہ ان کی اس طرح تذلیل کی جائے جس طرح ہمارے یہاں ہوتی ہے۔ نیب لاہور کی جانب سے سرگودھا یونیورسٹی, لاہور کیمپس کے سی ای او میاں جاوید احمد کی حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے وفات کے معاملہ پر حقائق واضع کرتے ہوئے کہا گیا ہے احتساب عدالت لاہور نے مرحوم جاوید احمد کو اکتوبر 2018ء میں ہی جوڈیشل ریمانڈ پر بھجوا دیا تھا۔
کیمپ جیل لاہور حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو اپنی تحویل میں لیتے وقت مرحوم کی صحت کے حوالے سے باقاعدہ تصدیق کی تھی کہ وہ نیب لاہور سے صحتمند حالت میں منتقل کیے گئے ہیں تاہم کیمپ جیل حکام نے دل میں تکلیف کیوجہ سے مرحوم کو فوری اسپتال منتقل کیا، گویا وہ نیب کی حراست کے دوران فوت نہیں ہوئے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر پروفیسر جاوید کے انتقال کے بعد کی تصاویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔
نیب کے ملزم میاں جاوید کی جیل میں ہلاکت کے معاملے پر سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین مصطفی نواز نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی نیب اور آئی جیل پنجاب کو سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں طلب کر لیا ہے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو اس سارے معاملے کی جراتمندی سے تحقیقات کرنی چاہیے اور کسی قسم کی مصلحت کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے۔ سینیٹ کو کرپشن کی ایک واضح تعریف متعین کرنی چاہیے تا کہ ادارے بھی جوابدہی کے عمل کا سامنا کریں۔
محمد جاوید نیب کے ملزم تھے اور انھیں تفتیش کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر کیمپ جیل منتقل کیا گیا تھا، میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اگلے روز ان کی جیل میں طبیعت خراب ہوئی، جیل انتظامیہ کے بقول انھیں سروسز اسپتال منتقل کیا جہاں وہ کچھ دیر زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئے، ابتدائی رپورٹ کے مطابق موت ہارٹ اٹیک کے باعث ہوئی ہے۔ البتہ پوسٹمارٹم رپورٹ کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آئیں گے' بتایا گیا ہے کہ نیب نے انھیں سرگودھا یونیورسٹی کا لاہور میں غیر قانونی کیمپس قائم کے کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
مہذب معاشرے میں درس و تدریس کے شعبے سے تعلق رکھنے والوں کو خصوصی عزت و تکریم دی جاتی ہے چہ جائیکہ ان کی اس طرح تذلیل کی جائے جس طرح ہمارے یہاں ہوتی ہے۔ نیب لاہور کی جانب سے سرگودھا یونیورسٹی, لاہور کیمپس کے سی ای او میاں جاوید احمد کی حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے وفات کے معاملہ پر حقائق واضع کرتے ہوئے کہا گیا ہے احتساب عدالت لاہور نے مرحوم جاوید احمد کو اکتوبر 2018ء میں ہی جوڈیشل ریمانڈ پر بھجوا دیا تھا۔
کیمپ جیل لاہور حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو اپنی تحویل میں لیتے وقت مرحوم کی صحت کے حوالے سے باقاعدہ تصدیق کی تھی کہ وہ نیب لاہور سے صحتمند حالت میں منتقل کیے گئے ہیں تاہم کیمپ جیل حکام نے دل میں تکلیف کیوجہ سے مرحوم کو فوری اسپتال منتقل کیا، گویا وہ نیب کی حراست کے دوران فوت نہیں ہوئے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر پروفیسر جاوید کے انتقال کے بعد کی تصاویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔
نیب کے ملزم میاں جاوید کی جیل میں ہلاکت کے معاملے پر سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین مصطفی نواز نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی نیب اور آئی جیل پنجاب کو سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں طلب کر لیا ہے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو اس سارے معاملے کی جراتمندی سے تحقیقات کرنی چاہیے اور کسی قسم کی مصلحت کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے۔ سینیٹ کو کرپشن کی ایک واضح تعریف متعین کرنی چاہیے تا کہ ادارے بھی جوابدہی کے عمل کا سامنا کریں۔