مصر میں خانہ جنگی کا خطرہ
مصری صدر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے مصر کے حالات سنگین کشیدگی کا شکار ہوچلے ہیں
مصری صدر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے مصر کے حالات سنگین کشیدگی کا شکار ہوچلے ہیں. فوٹو: رائٹرز
KARACHI:
مصری صدر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے مصر کے حالات سنگین کشیدگی کا شکار ہوچلے ہیں جس سے ملک میں خانہ جنگی چھڑنے کے خدشات بڑھتے جارہے ہیں۔ اسلام پسند صدر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف مصر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں شدت اختیار کرگئی ہیں جب کہ جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 60 اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں، حملوں میں 10 سیکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے۔ مرسی برطرفی کا جشن منانے والے دو افراد کو معزول صدر مرسی کے حامیوں نے پانچ منزلہ عمارت سے نیچے گرادیا، جس واقعے کی مبینہ ویڈیو بھی منظرعام پر آگئی ہے۔
مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ امریکا کے دفتر خارجہ کی ترجمان جین پساکی نے اپنے بیان میں کہا ہم تمام مصری رہنماؤں پر زور دیتے ہیں کہ وہ طاقت کے استعمال کی حوصلہ شکنی کریں اور اپنے حامیوں کو تشدد سے روکیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ مظاہرین کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ امریکی سینیٹر جان مک کین نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا مصری فوج کو دی جانے والی امداد معطل کردے۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے بھی خبردار کیا ہے کہ معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان تنازعے سے ملک میں خانہ جنگی چھڑنے کاخطرہ ہے۔ جب کہ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے فوجی اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر کی فوج کے پاس صدر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے سوا کوئی دوسری چوائس نہیں تھی۔
اپوزیشن لیڈر اور اقوم متحدہ کی ایٹمی ایجنسی کے سابق سربراہ محمد البرادعی کو عبوری وزیراعظم مقرر کرنے کا اعلان واپس لے لیا گیا ہے، مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے کہا ہے کہ محمد البرادعی کو عبوری وزیراعظم مقررنہیں کیا گیا ہے، واضح رہے کہ گزشتہ روز اپوزیشن لیڈر البرادعی کو عبوری وزیراعظم بنانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ادھر مصری ایوان صدر کے عبوری ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ اخوان المسلمون آیندہ انتخابات میں حصہ لے سکے گی، ملک میں مرسی کے حق میں جاری احتجاج کی لہر کو روکنے کے لیے عبوری صدارتی ترجمان نے یہ بیان دے کر اخوان المسلون کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے تاکہ کشیدگی کوختم کیا جاسکے، ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم ہر ایک کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہتے ہیں کیونکہ ہرکوئی مصری قوم کاحصہ ہے۔
دریں اثنا قاہرہ کی عدالت میں سابق مصری صدر حسنی مبارک کے خلاف مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کے الزام میں کیس کی سماعت ہوئی، حسنی مبارک کے وکلا نے صحت جرم سے انکارکیا۔ مصری کئی دہائیوں سے فوجی آمریت سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ حسنی مبارک کی رخصت اور ان پر چلنے والے مقدمے سے مصری عوام کی اکثریت خوش تھی لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اپنے مسائل کا حل بھی چاہتے تھے۔ مصر نے اپنی ہزاروں برس پرانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک حقیقی جمہوری نظام میں سانس لی تھی اور اس کی بجا طور پر یہی خواہش تھی کہ وہ آزادانہ سانس لیتی رہے لیکن مرسی کی مجبوری یہ تھی کہ وہ ایک مخصوص مذہبی سوچ رکھتے تھے جس کے ڈانڈے تاریخ میں پیوست تھے۔
بلاشبہ اخوان المسلمین نے مصر کی غریب اور نچلے متوسط طبقے کی بستیوں میں بہت سے فلاحی کام کیے لیکن مصر میں سوشلسٹ اور سیکولر بنیادوں پر آگے بڑھنے والے متوسط اور اعلیٰ طبقے کی زندگیوں میں اخوان المسلمون کے سخت رویوں کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ صدر مرسی ایک اعتدال پسند رویہ اپنا کر اس طبقے کو اپنے ساتھ ملا سکتے تھے لیکن وقت اب بھی ہاتھ سے نہیں گیا۔ خانہ جنگی کسی بھی ملک کی بقا کے لیے سم قاتل ہے۔ مصری عوام کو اپنے تمام تر اختلافات ختم کرتے ہوئے ملک کی سلامتی کے لیے فیصلے کرنا ہوں گے۔
مصری صدر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے مصر کے حالات سنگین کشیدگی کا شکار ہوچلے ہیں جس سے ملک میں خانہ جنگی چھڑنے کے خدشات بڑھتے جارہے ہیں۔ اسلام پسند صدر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف مصر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں شدت اختیار کرگئی ہیں جب کہ جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 60 اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں، حملوں میں 10 سیکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے۔ مرسی برطرفی کا جشن منانے والے دو افراد کو معزول صدر مرسی کے حامیوں نے پانچ منزلہ عمارت سے نیچے گرادیا، جس واقعے کی مبینہ ویڈیو بھی منظرعام پر آگئی ہے۔
مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ امریکا کے دفتر خارجہ کی ترجمان جین پساکی نے اپنے بیان میں کہا ہم تمام مصری رہنماؤں پر زور دیتے ہیں کہ وہ طاقت کے استعمال کی حوصلہ شکنی کریں اور اپنے حامیوں کو تشدد سے روکیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ مظاہرین کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ امریکی سینیٹر جان مک کین نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا مصری فوج کو دی جانے والی امداد معطل کردے۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے بھی خبردار کیا ہے کہ معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان تنازعے سے ملک میں خانہ جنگی چھڑنے کاخطرہ ہے۔ جب کہ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے فوجی اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر کی فوج کے پاس صدر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے سوا کوئی دوسری چوائس نہیں تھی۔
اپوزیشن لیڈر اور اقوم متحدہ کی ایٹمی ایجنسی کے سابق سربراہ محمد البرادعی کو عبوری وزیراعظم مقرر کرنے کا اعلان واپس لے لیا گیا ہے، مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے کہا ہے کہ محمد البرادعی کو عبوری وزیراعظم مقررنہیں کیا گیا ہے، واضح رہے کہ گزشتہ روز اپوزیشن لیڈر البرادعی کو عبوری وزیراعظم بنانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ادھر مصری ایوان صدر کے عبوری ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ اخوان المسلمون آیندہ انتخابات میں حصہ لے سکے گی، ملک میں مرسی کے حق میں جاری احتجاج کی لہر کو روکنے کے لیے عبوری صدارتی ترجمان نے یہ بیان دے کر اخوان المسلون کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے تاکہ کشیدگی کوختم کیا جاسکے، ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم ہر ایک کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہتے ہیں کیونکہ ہرکوئی مصری قوم کاحصہ ہے۔
دریں اثنا قاہرہ کی عدالت میں سابق مصری صدر حسنی مبارک کے خلاف مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کے الزام میں کیس کی سماعت ہوئی، حسنی مبارک کے وکلا نے صحت جرم سے انکارکیا۔ مصری کئی دہائیوں سے فوجی آمریت سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ حسنی مبارک کی رخصت اور ان پر چلنے والے مقدمے سے مصری عوام کی اکثریت خوش تھی لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اپنے مسائل کا حل بھی چاہتے تھے۔ مصر نے اپنی ہزاروں برس پرانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک حقیقی جمہوری نظام میں سانس لی تھی اور اس کی بجا طور پر یہی خواہش تھی کہ وہ آزادانہ سانس لیتی رہے لیکن مرسی کی مجبوری یہ تھی کہ وہ ایک مخصوص مذہبی سوچ رکھتے تھے جس کے ڈانڈے تاریخ میں پیوست تھے۔
بلاشبہ اخوان المسلمین نے مصر کی غریب اور نچلے متوسط طبقے کی بستیوں میں بہت سے فلاحی کام کیے لیکن مصر میں سوشلسٹ اور سیکولر بنیادوں پر آگے بڑھنے والے متوسط اور اعلیٰ طبقے کی زندگیوں میں اخوان المسلمون کے سخت رویوں کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ صدر مرسی ایک اعتدال پسند رویہ اپنا کر اس طبقے کو اپنے ساتھ ملا سکتے تھے لیکن وقت اب بھی ہاتھ سے نہیں گیا۔ خانہ جنگی کسی بھی ملک کی بقا کے لیے سم قاتل ہے۔ مصری عوام کو اپنے تمام تر اختلافات ختم کرتے ہوئے ملک کی سلامتی کے لیے فیصلے کرنا ہوں گے۔