وزیراعظم پاکستان کا کامیاب دورہ چین

دورہ چین کامیاب رہا‘ گوادر کاشغر راہداری منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتے ہیں، نواز شریف

دورہ چین کامیاب رہا‘ گوادر کاشغر راہداری منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتے ہیں، نواز شریف. فوٹو: اے ایف پی

KARACHI:
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے چین میں گوانگ ژو میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے سیکریٹری جنرل اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا دورہ چین کامیاب رہا' گوادر کاشغر راہداری منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتے ہیں' یہ منصوبہ خطے میں گیم بدل دے گا۔ گوادر کو ہانگ کانگ اور دبئی کی طرح فری پورٹ بنائیں گے۔

میاں محمد نواز شریف وزیراعظم بننے کے بعد پاکستان کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے بھرپور طور پر کوشاں ہیں۔ پاکستان کو اس وقت کئی طرح کے چیلنجز درپیش ہیں' ایک جانب توانائی کا بحران ہے تو دوسری جانب دہشت گردی کا عفریت ہے۔پاکستان کے جو معاشی حالات ہیں وہ تنہا ان سے نہیں نمٹ سکتا لہٰذا پاکستان کو اس بحران سے نکالنے کے تناظر میں وزیراعظم نواز شریف نے دوست ملک چین سے مدد لینے کے لیے اس کا دورہ کیا ہے۔ چین نے بھی دوستی نبھاتے ہوئے پاکستان کو مایوس نہیں کیا اور ثابت کیا کہ دونوں کی دوستی ہمالیہ سے بھی بلند ہے۔

دونوں ملکوں نے تمام شعبوں میں عملی تعاون کو مزید گہرا کرنے' علاقائی اور عالمی معاملات پر رابطے اور تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین میں جو معاہدے اور اعلانات ہوئے' انھیں سامنے رکھا جائے تو وزیراعظم کا یہ دورہ انتہائی کامیاب رہا ہے۔ گوادر پاکستان کی اہم بندرگاہ ہے یہی وجہ ہے کہ اپنی اہمیت کے سبب یہ عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، اس کی سالمیت' بقا اور عوامی ترقی کے منصوبوں میں چین نے بھرپور تعاون کیا ہے۔

اس نے دیگر عالمی قوتوں کے مقابل پاکستان کے اندرونی معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی اور نہ کبھی اسے کمزور کرنے کی کسی سازش کا حصہ بنا' اسی تناظر میں پاکستان نے چین کو قابل اعتماد دوست سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ نہ صرف بہت سے ترقیاتی منصوبے تشکیل دیے ہیں بلکہ گوادر بندر گاہ کا کنٹرول بھی چین کو دے دیا ہے۔ دونوں ممالک نے معاشی تعاون کو خطے کے دیگر ممالک تک پھیلانے کے لیے 18 ارب ڈالر کی لاگت سے کاشغر سے گوادر تک راہداری منصوبہ تشکیل دیا ہے۔

اس منصوبے سے جہاں چین کو تجارتی سہولتیں حاصل ہوں گی وہاں پاکستان کے میں بھی خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گا، گوادر پاکستان کی ترقی کا گیٹ وے ہے، فری پورٹ بننے سے یہاں تجارتی سرگرمیوں میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہو گا جس سے گوادر یقیناً ہانگ کانگ اور دبئی کی طرز پر ترقی کر جائے گا ۔ وزیراعظم نواز شریف نے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ خطے میں گیم بدل دے گا۔ پاکستان چین کے تعاون سے اپنے خطے میں معاشی انقلاب لانے کے لیے کوشاں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور مثالی تعلقات ہیں۔ وزیراعظم نے بھی چین کے دورے میں ان تعلقات کی مضبوطی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمالیہ سے بلند اور شہد سے زیادہ میٹھے ہیں۔


موجودہ پاکستانی حکومت معاشی انقلاب لانے کے لیے دن رات تو ایک کیے ہوئے ہے مگر اس کی راہ میں دو بڑی رکاوٹیں توانائی کا بحران اور دہشت گردی ہیں۔ توانائی کے بحران نے ملک کی معاشی سرگرمیوں کو کمزور کر دیا اور اس کی ترقی کے سفر کو انتہائی متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف حکومت کی بھرپور توجہ توانائی کے بحران پر قابو پانے پر ہے۔ اگر سابق حکومت توانائی بحران حل کرنے کی جانب بھرپور توجہ دیتی تو آج وہ نوبت نہ آتی جس کا پوری قوم کو سامنا ہے۔

وزیراعظم نے اپنے دورہ چین کے دوران شمسی توانائی' بائیو ماس توانائی اور 2 ہزار میگاواٹ کے کوئلے کے منصوبے پر بھی تعاون کے معاہدے کیے۔ حکومت جس انداز میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں کوشاں ہے اس سے عیاں ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گی مگر اس کا اصل مقابلہ دہشت گردی کے عفریت سے ہے جس نے نہ صرف اندرون ملک بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے بلکہ بیرون ملک بھی پاکستان کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ دیامر کے واقعے نے پوری دنیا کی توجہ پاکستان کی طرف مرکوز کر دی اور دہشت گردی کے حوالے سے ہر ملک انگلی اٹھانے لگا۔

چینی صدر نے بھی وزیراعظم نواز شریف سے کہا کہ ہمارے لوگوں کا تحفظ کیا جائے۔ گلگت میں چینی کوہ پیماؤں کی ہلاکت کے واقعے نے پاکستان کو انتہائی مشکل میں ڈال دیا۔ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ تمام جماعتیں مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کریں۔وزیراعظم کو بھی اس مسئلے کی سنجیدگی کا بخوبی ادراک ہے۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ امن و امان کے قیام کے لیے تمام ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ توانائی کے بحران اور امن و امان کی صورتحال کو ٹھیک کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے رائے لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے کو تمام سیاسی جماعتوں کے سامنے پیش کریں گے۔

انھوں نے بگڑے ہوئے ملکی معاملات کو صحیح راہ پر لانے کے لیے اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ اس وقت مشکل دور ہے اس لیے کچھ مشکل فیصلے بھی کرنا پڑیں گے' اگر مشکل فیصلے نہیں کریں گے تو معاملات مزید بگڑیں گے۔ جب معاملات بگڑ جائیں تو سخت فیصلے کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ اگر بروقت فیصلے نہ کیے جائیں تو یہ معاملات اس قدر بگڑ جاتے ہیں کہ انھیں راہ راست پر لانا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں ضرورت وسائل کے بہتر استعمال کی ہے۔

اس وقت چین کے ساتھ پاکستان کی تجارت 12 ارب ڈالر ہے جب کہ چین کی بھارت کے ساتھ 60 سے 70 ارب ڈالر کی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے اس فرق کو کم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے مگر یہ فرق ختم کرنے کے لیے پاکستان کو بھی اندرون ملک بہت سی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ امن و امان کی حالت کو بہتر بنانا ہوگا۔ توانائی کا بحران تو حل ہو جائے گا اگر امن و امان کی حالت بہتر نہ ہوئی تو اس دوران کی جانے والی تمام کاوشیں توقع کے مطابق بار آور نہ ہو سکیں گی۔
Load Next Story