کراچی شرپسندوں کے نرغے میں

کراچی جن بھیانک عذابوں میں گھرا ہوا ہے ان میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ وصولی، لینڈ گریبنگ، منشیات کا...

zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

HYDERABAD:
کراچی جن بھیانک عذابوں میں گھرا ہوا ہے ان میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ وصولی، لینڈ گریبنگ، منشیات کا کاروبار، ہتھیاروں کی فروخت، بینک ڈکیتیاں وغیرہ شامل ہیں، ان خوفناک جرائم نے 2 کروڑ کے لگ بھگ شہریوں کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ اس حوالے سے سب سے بڑا جرم بے لگام اربنائزیشن ہے۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں نے محض اپنے سیاسی مفادات کی خاطر کراچی کی پرامن آبادی کو اس طرح غیر متوازن کرکے رکھ دیا ہے کہ کسی منصوبہ بندی کے بغیر عمل میں آنے والی اربنائزیشن نے کراچی کو جرائم کے اڈے میں بدل دیا ہے۔ دنیا کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی پسماندہ علاقوں سے صنعتی شہروں کی طرف نقل آبادی کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن ان شہروں کے حکمران باہر سے آنے والوں کے لیے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت رہائش اور روزگار کا انتظام کرتے ہیں جن شہروں میں رہائش اور روزگار جیسی بنیادی ضرورتوں کا انتظام کیے بغیر پسماندہ علاقوں سے نقل آبادی کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، وہاں غیر قانونی کچی آبادیوں، لینڈ مافیا اور جرائم کی بھرمار ایک فطری امر ہوتا ہے۔ سندھ کے بادشاہ لوگوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ''کراچی سب کا شہر ہے'' جیسے بیانات دے کر کراچی کی آبادی کو غیر متوازن کردیا جس کی وجہ سے یہ بے لگام اربنائزیشن نے کراچی کو جرائم کے اڈے میں بدل دیا ۔

اس شہر میں عام اندازوں اور سروے کے مطابق 20 لاکھ سے زیادہ مختلف ملکوں سے آنے والے تارکین وطن رہتے ہیں، کراچی کی کرپٹ انتظامیہ نے ان تارکین وطن کو شناختی کارڈ، پاسپورٹ سمیت وہ تمام دستاویزات مہیا کردیں۔ تارکین وطن نے ایزی منی حاصل کرنے کے لیے مجرموں کے گروہ تشکیل دے دیے جو شہر میں مختلف سنگین جرائم میں اضافے کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ سیاستدانوں کی مفاد پرستی کا عالم یہ ہے کہ محض ان تارکین وطن کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ان کی بستیوں میں جاکر انھیں یقین دلاتے ہیں کہ وہ ان کے ''شہری حقوق'' کا تحفظ کریں گے۔ حال ہی میں سعودی عرب نے لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کو جن میں پاکستانی بھی شامل ہیں بے دخل کردیا، کیا ہمارے حکمرانوں میں ایسی جرأت ہے؟

پسماندہ صوبوں سے کراچی آنے والوں کی بھاری اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہے جو دن رات محنت کرکے اپنے بچوں کو پالتے ہیں، ان کا کسی جرائم پیشہ گروہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن ان میں ایک گروہ ان لوگوں کا بھی ہے جو منشیات کی تجارت میں ملوث ہے۔ یہ گروہ منشیات دوسرے ملکوں کو اسمگل کرنے کے لیے کراچی کو استعمال کرتے ہیں اور یہ گروہ اس لیے محفوظ طریقے سے اپنی تجارت کو جاری رکھے ہوئے ہیں کہ انتظامیہ ان کی سرپرستی کرتی ہے۔ یہ مافیا اپنی بے پناہ دولت کی وجہ سے کراچی کی سیاست میں بھی مداخلت کرتی ہے۔ اسی طرح روس کے افغانستان سے واپس جانے کے بعد ملک میں ہتھیاروں کی جو بھرمار ہوئی وہ ایک منظم کاروبار کی شکل اختیار کرگئی، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج گھر گھر ہتھیار ہیں اور ہتھیار فروخت کرنے کے اڈوں سے جرائم پیشہ افراد کو آسانی سے ہتھیار مل جاتے ہیں، حتیٰ کہ ہتھیار کرائے پر بھی دستیاب ہیں، منشیات اور ہتھیار کے کاروبار میں ایک ہی نسل کے مجرم شامل ہیں۔


کراچی میں پسماندہ صوبوں سے نقل آبادی کا سلسلہ چونکہ تاہنوز جاری ہے جس کی وجہ سے لینڈ مافیا ایک خطرناک شکل میں ابھر کر آگئی۔ اس حوالے سے ایک المیہ یہ ہے کہ دوسرے صوبوں سے آنے والے معززین نے سیاست میں نہ صرف شمولیت حاصل کی بلکہ سیاست کو مستحکم کرنے کے لیے دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح اپنے مسلح ونگ تشکیل دیے اور کراچی کی قتل وغارت گری میں یہ مسلح ونگ بھی موثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے بعض حکمراں جماعتوں نے بھی اپنے حریفوں کو بلیک میل کرنے کے لیے بعض بدنام علاقوں کے مسلح گروہوں کی سرپرستی شروع کردی۔ لیاری اس کی بدترین مثال ہے۔جہاں وحشتیں ناچ رہی ہیں۔حکمران طبقات کی سرپرستی کی وجہ سے مسلح گروہ آزادی کے ساتھ کراچی کا امن تباہ کرنے اور عروس البلاد کی مانگ اجاڑنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

کراچی کو منی پاکستان، معاشی حب، صنعت و تجارت کا مرکز کہا جاتا ہے، جہاں ہر روز اربوں کھربوں کا کاروبار ہوتا ہے۔ انگریز ہندوستان کو سرخ چڑیا کہتے تھے اور اس سونے کی چڑیا پر قبضہ کرنے کے لیے انھوں نے سو سو جتن کیے۔ ہمارے اہل سیاست کراچی کو سونے کی چڑیا کہتے ہیں اور کراچی میں جو جنگ جاری ہے اس میں کراچی پر قبضہ بنیادی محرک ہے۔ کہا جاتا ہے محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے سو کراچی کی جنگ اس المناک مرحلے پر اسی لیے پہنچی ہے کہ سیاستدان سیاست میں بھی سب کچھ جائز ہے کے فارمولے پر عمل پیرا ہیں۔ کراچی میں ایزی منی کا دوسرا طریقہ اغوا برائے تاوان ہے، یہ جرم اس قدر عام اور آسان بن گیا ہے کہ کسی بھی وقت کسی بھی مقام سے مجرم جسے چاہے جب چاہے اغوا کرلیتے ہیں اور ٹیلیفون پر ان کے لواحقین کو مطلوبہ تاوان سے آگاہ کردیتے ہیں۔ لواحقین کو یہ دھمکی بھی دی جاتی ہے کہ اگر انھوں نے پولیس کو اطلاع دی تو مغوی کو قتل کردیا جائے گا۔ اس جرم کی سنگینی کا عالم یہ ہے کہ اعلیٰ سطح کے بیورو کریٹ کے علاوہ سیاستدان اور حکمران تک اس سے محفوظ نہیں، سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے صاحبزادے ابھی تک مغویوں کے قبضے میں ہیں حتیٰ کہ وہ غیر ملکی بھی محفوظ نہیں جو پاکستان کے اہم ترین پروجیکٹوں پر کام کر رہے ہیں۔ گلگت میں سیاحوں کے قتل کا المیہ ہمارے سامنے ہے۔

کراچی میں بھتہ مافیا کی دیدہ دلیری کا عالم یہ ہے کہ بڑے تاجر، صنعت کاروں سے بڑھتے ہوئے یہ وبا اب درمیانے اور چھوٹے تاجروں اور پیشہ ورانہ خوشحال افراد تک پہنچ گئی ہے۔ بھتے کی پرچی کے ساتھ گولیاں بھی بھیجی جارہی ہیں، اس عذاب سے لوگ اس قدر خوفزدہ ہیں کہ اب تاجر اور صنعت کار برادری ہڑتالوں، دھرنوں کے ساتھ اپنا کاروبار بھی بند کرتی جارہی ہے۔ کراچی کی تباہی میں بھتہ مافیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بینک ڈکیتیوں، اغوا برائے تاوان اور بھتوں کی وصولی کو اپنا ذریعہ بنا رہے ہیں۔ لینڈ اور منشیات کے کاروبار سے بھی دہشت گرد اپنی مالی ضرورتیں پوری کر رہے ہیں۔ عموماً ان تمام جرائم اور کراچی کی تباہی کا الزام کراچی کے رہنے والوں پر لگایا جاتا ہے اور انھیں ہی قابل گردن زدنی قرار دیا جاتا ہے، اس الزام اور ابہام کو دور کرنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، لینڈ اور اسلحہ مافیا، بھتہ، بینک ڈکیتیوں، مدرسوں کے غلط استعمال اور اسٹریٹ کرائم میں کراچی کے رہنے والوں کی تعداد کتنی ہے اور کراچی اور سندھ سے باہر کے حضرات کی تعداد کتنی ہے؟ جب تک نظروں سے اوجھل اس پہلو کا گہرائی سے جائزہ نہیں لیا جاتا کراچی کے حالات بہتر بنانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔
Load Next Story