سپریم کورٹ حراستی مراکز میں قید افراد کی فہرستیں جمع نہ کرانے پر برہم

حراستی مراکز کی تفصیلات فراہم کرنے کیلیے کیا 10 سالہ منصوبہ تشکیل دیا جا رہا ہے؟جسٹس خلجی عارف

لاپتہ افراد کا دکھ اب برداشت نہیں ہوتا، لوگ بازیاب نہ ہوئے تو تمام حراستی مراکز کے انچارجوں کو طلب کرینگے،جسٹس جواد ایس خواجہ فوٹو فائل

عدالت عظمیٰ نے حراستی مراکز میں قید لاپتہ افراد کی فہرستیں جمع نہ کرانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور اٹارنی جنرل آفس کو کوہاٹ اور لکی مروت کے حراستی مراکز میں قید افراد کی فہرستیں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پیر کوجسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے آمنہ مسعود کے شوہر مسعود جنجوعہ کے بارے تمام درخواستیں یکجا کر کے آج عدالت کے سامنے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ایس پی سٹی روالپنڈی ہارون نے عدالت کو بتایا مسعود جنجوعہ کے بارے میں ڈاکٹر عمران منیر نے انکشاف کیا تھا کہ وہ راولپنڈی میں کسی حراستی مرکز میں موجود ہیں، عمران منیر اس وقت سری لنکا میں ہیں ان سے تفتیش کے بعد پیش رفت ہوگی۔ انھوں نے ایک اور لاپتہ شخص مظفر کے بارے بتایا کہ وہ ایم آئی کے اہلکار ایوب کے ساتھ دیکھا گیا ہے، اس بارے میں تفتیش جاری ہے، انھوں نے مہلت کی استدعا کی جس پر سماعت 10 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔ جسٹس جواد نے کہا کہ لاپتہ افراد کے بارے پولیس نے نشاندہی کر دی ہے، اب حکومت اس بارے میں کیا کارروائی کرے گی ، کیا قانون بنایا جائے گا یا کچھ اور اقدامات کیے جائیں گے ؟ اس بارے اٹارنی جنرل آفس عدالت کو آگاہ کرے گا۔عدالت نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔




ڈپٹی اٹارنی جنرل دل محمد علیزئی بعد میں پیش ہوئے اور کہا کہ لاپتہ افراد کے بارے کمیشن نے جو فہرست دی ہے وہ مصدقہ نہیں، عدالت نے اس پر بر ہمی کا اظہار کیا ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ ہم نے اٹارنی جنرل سے فہرست مانگی تھی کمیشن سے نہیں۔ فاضل جج نے کہا کہ اٹارنی جنرل آفس تمام حراستی مراکز سے معلومات لے کر ہمیں دے، اگر کوئی انکار کر دے تو ان کانام عدالت کو بتایا دیا جائے انھیں طلب کیا جائے گا۔ ڈپٹی اٹارنی نے کہا کہ اس بارے میں طریقہ کا وضع کیا جا رہا ہے جس پر جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ کیا حکومت نے لاپتہ افراد کے معاملے کے لیے 10 سالہ پروگرام بنایا ہے، کم از کم کوہاٹ اور لکی کے حراستی مراکز کی تفصیلات تو سردست دی جاسکتی ہیں۔

جسٹس جواد نے کہا ہم پھر کہہ رہے ہیں اس معاملے کو سنجیدہ لیا جائے۔ آن لائن کے مطابق جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے کہ اب وقت آگیا ہے کہ آئین و قانون کی عملداری کیلیے سب اکٹھے ہو کر جدوجہد کریں، لاپتہ افراد کا دکھ اب برداشت نہیں ہوتا، لوگ بازیاب نہ ہوئے اور اصل حقائق نہ ملے تو تمام حراستی مراکز کے انچارجوں کو طلب کرینگے اور حکم جاری کرینگے۔ عدالت نے لاپتہ فصیح اللہ،امداد حسین ، نزاکت علی، محمد اختر جاوید اور فضل ربی کے بارے میں اگلی سماعت پر تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا۔

Recommended Stories

Load Next Story