آڈٹ سے انکارکیساداروں کو10روزمیں جواب جمع کرانیکا حکم

نوٹس کاجواب نہ دینے والی کمپنیوں کا فیصلہ ان کی عدم موجودگی میں کردیا جائیگا، سپریم کورٹ

نوٹس کاجواب نہ دینے والی کمپنیوں کا فیصلہ ان کی عدم موجودگی میں کردیا جائیگا، سپریم کورٹ. فوٹو فائل

عدالت عظمیٰ نے آڈٹ سے انکار کرنے والی سرکاری کمپنیوں اورکارپوریشنوں سے متعلق مقدمے کی سماعت 22جولائی تک ملتوی کردی ہے اورآبزرویشن دی ہے کہ جن کمپنیوں نے عدالتی نوٹس کا جواب نہیں دیا کیس کا فیصلہ ان کی عدم موجودگی میں کردیا جائے گا۔

پیر کو جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت شروع کی توعدالت کوبتایا گیا کہ ڈی ایچ اے، نیشنل پولیس فاؤنڈیشن اورایف بی آر نے نوٹس کا جواب نہیں دیا۔ سیکیورٹی اینڈ ایکسچنج کمیشن کی طرف سے وسیم سجاد، نادرا اور پی ٹی اے کی طرف سے عفنان کنڈی،واں نوبل پرائیویٹ لمٹیڈ کی طرف سے ڈاکٹرباسط اورخیبر پختون پرائمری ہیلتھ پروگرام کی طرف سے مصطفٰی رمدے پیش ہوئے۔




اس کے علاوہ ٹرسٹ فار ویلنٹئیرآرگنائزیشن،ایگری بزنس سپورٹ فنڈ، پنجاب رورل سپورٹ فنڈ، پنجاب لینڈ ڈیولپمنٹ فنڈ، پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹ اورکول مائن کی طرف سے وکیل پیش ہوئے اورجواب کے لیے مہلت دینے کی استدعاکی۔عدالت نے نوٹس کاجواب دینے والے تمام اداروں کو 10دن کے اندرجامع جواب جمع کرنے کا حکم دیا۔
Load Next Story