بنگلہ دیش میں الیکشن اپوزیشن سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں
1991کے بعد سے شیخ حسینہ اور خالدہ ضیاء باری باری حکومت کی سربراہ منتخب ہوتی رہیں
1991کے بعد سے شیخ حسینہ اور خالدہ ضیاء باری باری حکومت کی سربراہ منتخب ہوتی رہیں۔ فوٹو: فائل
بنگلہ دیش میں 30 دسمبر کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے سیاسی جماعتیں انتخابی مہم میں مصروف ہیں لیکن بنگلہ دیش سے جس طرح کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، اس سے یہی لگتا ہے کہ صرف حکمران جماعت عوامی لیگ کو ہی انتخابی مہم چلانے کی مکمل آزادی ہے جب کہ اپوزیشن کی تقریباً تمام جماعتوں کے کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیشی حکومت نے 8 نومبر کو ملک میں عام انتخابات کا اعلان کیا گیا تھا، بنگلہ دیش کی اپوزیشن پارٹیوں نے کہا ہے کہ بنگلہ دیشی پولیس نے عام انتخابات سے قبل بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ساڑھے دس ہزار سے زائد اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ اعداد وشمار امریکا کی طرف سے اس بیان کے بعد جاری کیے گئے جس میں امریکا نے وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ آزادانہ انتخابات کی یقین دہانی کرائیں۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ اب اپنی چوتھی ٹرم کے لیے انتخاب لڑ رہی ہیں۔ اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے اندھادھند گرفتاریاں کر کے ملک میں خوف ودہشت کی فضا قائم کر دی ہے۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) کی لیڈر خالدہ ضیاء کو 17 سال قید کی سنائی جا چکی ہے اور وہ جیل میں ہیں، وہ اپنی پارٹی کی انتخابی مہم نہیں چلا سکتیں۔ بی این پی کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کے سات ہزار سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ بی این پی کا انتخابات کے لیے جماعت اسلامی سے اتحاد ہے۔ جماعت اسلامی پر الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہے لیکن اس کے اراکین انفرادی طور پر انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ اس کے ساڑھے تین ہزار سے زائد کارکن گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ ادھر بنگلہ دیشی پولیس کے ترجمان کے حوالے سے یہ بیان سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بغیر وارنٹ کے کوئی گرفتاریاں نہیں کی جا رہیں جب کہ بی این پی کے ترجمان نے بتایا ہے کہ جو الزامات لگائے جا رہے ہیں وہ بے بنیاد ہیں اور جعلی مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ شیخ حسینہ کو انتخابات جیتنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔
1991کے بعد سے شیخ حسینہ اور خالدہ ضیاء باری باری حکومت کی سربراہ منتخب ہوتی رہیں تاہم 2009 میں خالدہ ضیاء کو سترہ برس کی جیل کے بعد میدان حسینہ شیخ کے لیے صاف ہو چکا ہے۔ بنگلہ دیش کی آبادی ساڑھے سولہ کروڑ بتائی جاتی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے سیاسی کارکنوں کے آپس میں تصادم سے بہت سے انتخابی امیدوار اور فعال کارکن زخمی ہو چکے ہیں۔ حکومت نے تصادم روکنے کی خاطر 30 ہزار سے زائد پولیس کی نفری تعینات کر دی ہے۔
بی این پی نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ عوامی لیگ کے کارکن پولیس کی معاونت سے ہمارے کیمپوں پر حملے کر رہے ہیں اور ہمارے انتخابی امیدواروں کے ساتھ بہت سے کارکن بھی زخمی ہو چکے ہیں۔ باہمی جھگڑوں میں بھی لاتعداد کارکن زخمی ہوئے۔شیخ حسینہ کے اقدامات سے عام انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔جمہوری نظام کی مضبوطی اور بقا کے لیے ضروری ہے کہ اپوزیشن کی جماعتوں کو آزادانہ انتخابی مہم چلانے کی آزادی ہو، پولنگ کا نظام شفاف اور کمپیوٹرائزڈ ہو جب کہ بنگلہ دیشی میں ایسا نظر نہیں آتا۔
بنگلہ دیشی حکومت نے 8 نومبر کو ملک میں عام انتخابات کا اعلان کیا گیا تھا، بنگلہ دیش کی اپوزیشن پارٹیوں نے کہا ہے کہ بنگلہ دیشی پولیس نے عام انتخابات سے قبل بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ساڑھے دس ہزار سے زائد اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ اعداد وشمار امریکا کی طرف سے اس بیان کے بعد جاری کیے گئے جس میں امریکا نے وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ آزادانہ انتخابات کی یقین دہانی کرائیں۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ اب اپنی چوتھی ٹرم کے لیے انتخاب لڑ رہی ہیں۔ اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے اندھادھند گرفتاریاں کر کے ملک میں خوف ودہشت کی فضا قائم کر دی ہے۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) کی لیڈر خالدہ ضیاء کو 17 سال قید کی سنائی جا چکی ہے اور وہ جیل میں ہیں، وہ اپنی پارٹی کی انتخابی مہم نہیں چلا سکتیں۔ بی این پی کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کے سات ہزار سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ بی این پی کا انتخابات کے لیے جماعت اسلامی سے اتحاد ہے۔ جماعت اسلامی پر الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہے لیکن اس کے اراکین انفرادی طور پر انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ اس کے ساڑھے تین ہزار سے زائد کارکن گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ ادھر بنگلہ دیشی پولیس کے ترجمان کے حوالے سے یہ بیان سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بغیر وارنٹ کے کوئی گرفتاریاں نہیں کی جا رہیں جب کہ بی این پی کے ترجمان نے بتایا ہے کہ جو الزامات لگائے جا رہے ہیں وہ بے بنیاد ہیں اور جعلی مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ شیخ حسینہ کو انتخابات جیتنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔
1991کے بعد سے شیخ حسینہ اور خالدہ ضیاء باری باری حکومت کی سربراہ منتخب ہوتی رہیں تاہم 2009 میں خالدہ ضیاء کو سترہ برس کی جیل کے بعد میدان حسینہ شیخ کے لیے صاف ہو چکا ہے۔ بنگلہ دیش کی آبادی ساڑھے سولہ کروڑ بتائی جاتی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے سیاسی کارکنوں کے آپس میں تصادم سے بہت سے انتخابی امیدوار اور فعال کارکن زخمی ہو چکے ہیں۔ حکومت نے تصادم روکنے کی خاطر 30 ہزار سے زائد پولیس کی نفری تعینات کر دی ہے۔
بی این پی نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ عوامی لیگ کے کارکن پولیس کی معاونت سے ہمارے کیمپوں پر حملے کر رہے ہیں اور ہمارے انتخابی امیدواروں کے ساتھ بہت سے کارکن بھی زخمی ہو چکے ہیں۔ باہمی جھگڑوں میں بھی لاتعداد کارکن زخمی ہوئے۔شیخ حسینہ کے اقدامات سے عام انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔جمہوری نظام کی مضبوطی اور بقا کے لیے ضروری ہے کہ اپوزیشن کی جماعتوں کو آزادانہ انتخابی مہم چلانے کی آزادی ہو، پولنگ کا نظام شفاف اور کمپیوٹرائزڈ ہو جب کہ بنگلہ دیشی میں ایسا نظر نہیں آتا۔