ای او بی آئی اسکینڈل سابق نگراں صوبائی وزیر اقبال داؤد پاک والا گرفتار

ظفر اقبال گوندل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل، ملزمان کے 16 بینک اکائونٹس اور 3 لاکرز منجمد کردیے گئے.

انویسٹمنٹ کمیٹی کے کنوینر کی گرفتاری سے ای او بی آئی میں 34 ارب روپے سے زائد مالیت کے سودوں میں پائی جانیوالی مالی بے قاعدگیوں کی تحقیقات میں بھی مدد ملے گی، ڈائریکٹر ایف آئی اے محمد مالک ۔ فوٹو : فائل

ایف آئی اے نے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) میں اربوں روپے کے مالی سکینڈل کے ایک اور اہم کردار سابق نگراں وزیر اقبال داؤد پاک والا کو گرفتار کرلیا ہے۔

ای او بی آئی میں سرمایہ کاری کی منظوری دینے والی انویسٹمنٹ کمیٹی کے کنوینر اور سابق نگراں صوبائی وزیراقبال داؤد پاک والا نے سندھ ہائیکورٹ حیدرآباد رجسٹری سے 6 جولائی تک کی حفاظتی ضمانت حاصل کرلی تھی۔ اقبال داؤد پاک والا سندھ کے ملازمین کے نمائندے کے طور پر انویسٹمنٹ کمیٹی کے رکن بنے جبکہ وہ ای او بی آئی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے بھی رکن ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اقبال داؤد پاک والا کو حفاظتی ضمانت کی مدت ختم ہونے کے بعد نامعلوم مقام سے گرفتار کیا گیا، ڈائریکٹر ایف آئی اے محمد مالک نے اقبال داؤد پاک والا کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انویسٹمنٹ کمیٹی کے کنوینر کی گرفتاری سے ای او بی آئی میں 34 ارب روپے سے زائد مالیت کے سودوں میں پائی جانے والی خطیر مالی بے قاعدگیوں کی تحقیقات میں بھی مدد ملے گی۔


انھوں نے بتایا کہ ایف آئی اے حکام مقدمے کے مرکزی ملزم ظفر اقبال گوندل کی گرفتاری کیلیے مسلسل چھاپے ماررہی ہے، انھوں نے بتایا کہ ظفر اقبال گوندل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کردیا گیا ہے اور ان کی کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں واقع جائیدادیں سربمہر اور اکاوئنٹس منجمند کیے جاچکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر سٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک کے 16 اکاؤنٹس اور 3 لاکرز منمجمد کیے گئے ہیں جن میں 20 کروڑ روپے سے زائد رقم موجود ہے۔ این این آئی کے مطابق اقبال داؤد سوا 2 ارب روپے کے اسکینڈل کے اہم ملزم ہیں۔ واضح رہے کہ اقبال داؤد پاک والا کا تعلق سکھر سے ہے، وہ سکھر کے سابق نائب ناظم بھی رہے ہیں اور ان تعلق پیپلزپارٹی سے بتایا جاتا ہے جبکہ اقبال داؤد پاک والا دو ماہ قبل سندھ کی نگراں حکومت میں وزیر خوراک بھی رہے ہیں۔



ا سٹاف رپورٹر کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس غلام سرورکورائی کی سربراہی میں2رکنی بینچ نے ای او بی آئی اراضی اسکینڈل میں ملوث سابق نگراں صوبائی وزیر اقبال داؤد کی عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کردی۔ درخواست گزار کے وکیل وزیر کھوسو ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ اقبال داؤد نے پرائیویٹ کنسلٹنٹ کی حیثیت سے مذکورہ اراضی کاسروے نیسپاک سے کرانے کامشورہ دیا تھا ملزم کا مقدمے سے براہ راست تعلق نہیں عبوری ضمانت میں توسیع کی جائے تاکہ اقبال داؤد مقدمے کا سامنا کرنے کیلیے متعلقہ عدالت میں پیش ہوسکیں، اس موقع پر سرکاری وکیل عبوری ضمانت میں توسیع کی مخالفت کی، فاضل بنچ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست مسترد کردی۔ اسی کیس میں گرفتار ڈائریکٹر جنرل انویسٹمنٹ واحد خورشید کنور اور سابق ڈائریکٹر آئی بی کرنل (ر) علی اسد مرزا کی جانب سے جیل میں بہتر سہلولت (بی کلاس) فراہم کرنے سے متعلق دائر درخواست مسترد کردی۔ شریک ملزمہ ماہم نجیب کی دائر درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا اور اسکی والدہ نگہت مرزا کی عبوری ضمانت منظور کرلی گئی۔
Load Next Story