افغان امن کے لیے پینٹاگان کی پیشکش
ادھر چارعلاقائی ملکوں کا دورہ مکمل کرکے مخدوم شاہ محمود قریشی وطن واپس پہنچ گئے
ادھر چارعلاقائی ملکوں کا دورہ مکمل کرکے مخدوم شاہ محمود قریشی وطن واپس پہنچ گئے فوٹو: فائل
لاہور:
امریکی دفاعی ادارے پینٹا گان نے کہا ہے کہ افغان تنازع کے خاتمے میں روس ، ایران اورچین اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہ تازہ ترین رپورٹ در حقیقت افغان امن عمل کے مقاصد کے حصول اور خطے میں جنگ بندی اور افغان طالبان کو مذاکرات میں شمولیت پر راضی کرنے کا ایک خاکہ ہے ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا عندیہ دے چکے ہیں جب کہ شام سے بھی انخلا کے ان کے بیان نے پوری امریکی انتظامیہ اور امریکی میڈیا میں سنسنی سی پھیلا دی ہے، امریکی عسکری ماہرین اور حکام ٹرمپ کے اس فیصلہ کو مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں ہولناک قراردیتے ہیں۔
تاہم افغانستان امریکا کے لیے پریشان کن ایجنڈا ہے اور لگتا ہے کہ روس ، ایران اور چین کو امن عمل میں شامل کرنا اب ٹرمپ کے لیے اس لیے ناگزیر ہوگیا ہے کہ امریکی عوام اس طویل افغان جنگ سے اکتا چکے ہیں اور امریکا ''سیف ایگزٹ'' چاہتا ہے، مگر ٹرمپ کا یہ خواب طالبان کومذاکراتی میز پر لائے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، طالبان قیادت کے اپنے مطالبات بھی ہیں، طالبان نے امریکی پیشکش کو اس سیاق وسباق میں دیکھنا ہوگا کہ جنگ بندی کے نتیجہ میں ان کی آیندہ زندگی اور مستقبل کے تحٖفظ کی کیا یقین دہانی امریکیوں کے ذہن میں ہے، امریکا طالبان کو روزگار کی فراہمی اور زندگی کے تحفظ کی ضمانت اسی رپورٹ کے حوالہ سے دینے پر تیار ہے، امریکا ایک سیفٹی نیٹ ورک بھی پیش کرچکا ہے۔
پینٹاگان کا کہنا ہے کہ اکثر طالبان جنگ سے تھک چکے ہونگے اس لیے ان کو اپنے زندگی کے تحفظ پر کچھ یقین دہانیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے، امریکا پاکستان کے امن کردار کا بھی اعتراف کرچکا ہے ،اور ٹرمپ اپنے مخاصمانہ لہجہ میں مفاہمانہ تبدیلی لاچکے ہیں، صدر ٹرمپ نے گزشتہ دنوں اسلام آباد سے رابطوں کے تسلسل میں پاکستان سے افغان امن کے لیے عملی کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار ایک مکتوب میں وزیراعظم عمران خان سے بھی کیا ہے۔ لوہا گرم ہے تاہم امریکا کو افغان مسئلہ کے سیاسی حل کے لیے ایک بڑی پیش رفت کی ضرورت ہوگی، خیال رہے امریکی محکمہ دفاع ''ڈی او ڈی''کی جانب سے کانگریس کو بھیجی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان میں چین کی فوجی، اقتصادی اور سیاسی مصروفیت ملکی سلامتی کے خدشات سے دوچار ہے کیونکہ دہشتگردی افغان سرحد سے چین تک پھیل سکتی ہے اور اپنی علاقائی اقتصادی سرمایہ کاری کا تحفظ چین کی بڑھتی ہوئی خواہش ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران، افغانستان میں ایک مستحکم حکومت چاہتا ہے جو ایران کے مقاصد، داعش کے خاتمے، امریکا اور نیٹو کی موجودگی کو ختم کرنے اور ایرانی خدشات جیسے پانی کے حقوق اور سرحدی سیکیورٹی کے تحفظ کی ذمے دار ہو۔ پینٹاگان کی جانب سے امریکی قانون سازوں کو بتایا گیا کہ روس وسطی ایشیا میں اپنے مفادات کے تحفظ اور خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے طالبان سمیت افغانستان میں موجود کرداروں سے وسیع پیمانے پر رابطے میں ہے۔امریکی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ مصالحت کی کوششوں میں مدد اور باغیوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لیے افغانستان پاکستان پر چینی دباؤ کو جاری دیکھنا چاہتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مغربی، وسطی اور شمالی افغانستان میں ایران کا شامل ہونا انتہائی اہم ہے کیونکہ یہاں افغان باشندوں کی ایران کے ساتھ ثقافت، مذہب اور زبان کے تعلقات کی ایک تاریخ ہے۔روس کی افغان پالیسی کا جائزہ لینے کے بعد پینٹاگون نے یہ نوٹ کیا کہ ماسکو ہتھیاروں کی فروخت کی تجدید، بحالی اور کابل کی تربیت چاہتا ہے، جو افغان حکومت کے ساتھ اثر و رسوخ میں مدد فراہم کرے گا۔
ادھر چارعلاقائی ملکوں کا دورہ مکمل کرکے مخدوم شاہ محمود قریشی وطن واپس پہنچ گئے، وزیر خارجہ نے افغان حکام سے ملاقات کی ، صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، اپنے دورے کے آخری مرحلے میں وزیر خارجہ نے بدھ کو ماسکو میں روس کے اپنے ہم منصب سرگئی لاوروف سے ملاقات کی، دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں امن واستحکام کی جاری کوششوں پر بھی خصوصی بات چیت کی۔
قبل ازیں تہران میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے مفید گفتگو ہوئی، دریں اثنا چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان اسٹرٹیجک شراکت داری کے ذریعے افغان تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں اپنا کردارادا کریں گے، پاکستان اور چین نے اتفاق کیا ہے کہ ملٹری آپریشنز افغان تنازعہ کو حل کرنے میں مددگار نہیں ہوسکتے، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چھون اینگ نے بدھ کومعمول کی پریس بریفنگ میں کہا پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دورہ چین میں اپنے چینی ہم منصب وانگ ای کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگوکی۔
حقیقت میں پینٹاگان رپورٹ بھی ''ایک کوشش اور سہی'' کے تناظر میں امریکی خواہش اور زمینی حالات کے درمیان تفاوت کا معاملہ ہے۔ امریکا کو افغانستان کا کانٹا اپنی ایڑھی کے زخم سے نکالنے میں اب تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ یہی ایک صائب تزویراتی مشورہ صدر ٹرمپ کے لیے ہوسکتا ہے۔
امریکی دفاعی ادارے پینٹا گان نے کہا ہے کہ افغان تنازع کے خاتمے میں روس ، ایران اورچین اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہ تازہ ترین رپورٹ در حقیقت افغان امن عمل کے مقاصد کے حصول اور خطے میں جنگ بندی اور افغان طالبان کو مذاکرات میں شمولیت پر راضی کرنے کا ایک خاکہ ہے ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا عندیہ دے چکے ہیں جب کہ شام سے بھی انخلا کے ان کے بیان نے پوری امریکی انتظامیہ اور امریکی میڈیا میں سنسنی سی پھیلا دی ہے، امریکی عسکری ماہرین اور حکام ٹرمپ کے اس فیصلہ کو مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں ہولناک قراردیتے ہیں۔
تاہم افغانستان امریکا کے لیے پریشان کن ایجنڈا ہے اور لگتا ہے کہ روس ، ایران اور چین کو امن عمل میں شامل کرنا اب ٹرمپ کے لیے اس لیے ناگزیر ہوگیا ہے کہ امریکی عوام اس طویل افغان جنگ سے اکتا چکے ہیں اور امریکا ''سیف ایگزٹ'' چاہتا ہے، مگر ٹرمپ کا یہ خواب طالبان کومذاکراتی میز پر لائے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، طالبان قیادت کے اپنے مطالبات بھی ہیں، طالبان نے امریکی پیشکش کو اس سیاق وسباق میں دیکھنا ہوگا کہ جنگ بندی کے نتیجہ میں ان کی آیندہ زندگی اور مستقبل کے تحٖفظ کی کیا یقین دہانی امریکیوں کے ذہن میں ہے، امریکا طالبان کو روزگار کی فراہمی اور زندگی کے تحفظ کی ضمانت اسی رپورٹ کے حوالہ سے دینے پر تیار ہے، امریکا ایک سیفٹی نیٹ ورک بھی پیش کرچکا ہے۔
پینٹاگان کا کہنا ہے کہ اکثر طالبان جنگ سے تھک چکے ہونگے اس لیے ان کو اپنے زندگی کے تحفظ پر کچھ یقین دہانیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے، امریکا پاکستان کے امن کردار کا بھی اعتراف کرچکا ہے ،اور ٹرمپ اپنے مخاصمانہ لہجہ میں مفاہمانہ تبدیلی لاچکے ہیں، صدر ٹرمپ نے گزشتہ دنوں اسلام آباد سے رابطوں کے تسلسل میں پاکستان سے افغان امن کے لیے عملی کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار ایک مکتوب میں وزیراعظم عمران خان سے بھی کیا ہے۔ لوہا گرم ہے تاہم امریکا کو افغان مسئلہ کے سیاسی حل کے لیے ایک بڑی پیش رفت کی ضرورت ہوگی، خیال رہے امریکی محکمہ دفاع ''ڈی او ڈی''کی جانب سے کانگریس کو بھیجی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان میں چین کی فوجی، اقتصادی اور سیاسی مصروفیت ملکی سلامتی کے خدشات سے دوچار ہے کیونکہ دہشتگردی افغان سرحد سے چین تک پھیل سکتی ہے اور اپنی علاقائی اقتصادی سرمایہ کاری کا تحفظ چین کی بڑھتی ہوئی خواہش ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران، افغانستان میں ایک مستحکم حکومت چاہتا ہے جو ایران کے مقاصد، داعش کے خاتمے، امریکا اور نیٹو کی موجودگی کو ختم کرنے اور ایرانی خدشات جیسے پانی کے حقوق اور سرحدی سیکیورٹی کے تحفظ کی ذمے دار ہو۔ پینٹاگان کی جانب سے امریکی قانون سازوں کو بتایا گیا کہ روس وسطی ایشیا میں اپنے مفادات کے تحفظ اور خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے طالبان سمیت افغانستان میں موجود کرداروں سے وسیع پیمانے پر رابطے میں ہے۔امریکی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ مصالحت کی کوششوں میں مدد اور باغیوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لیے افغانستان پاکستان پر چینی دباؤ کو جاری دیکھنا چاہتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مغربی، وسطی اور شمالی افغانستان میں ایران کا شامل ہونا انتہائی اہم ہے کیونکہ یہاں افغان باشندوں کی ایران کے ساتھ ثقافت، مذہب اور زبان کے تعلقات کی ایک تاریخ ہے۔روس کی افغان پالیسی کا جائزہ لینے کے بعد پینٹاگون نے یہ نوٹ کیا کہ ماسکو ہتھیاروں کی فروخت کی تجدید، بحالی اور کابل کی تربیت چاہتا ہے، جو افغان حکومت کے ساتھ اثر و رسوخ میں مدد فراہم کرے گا۔
ادھر چارعلاقائی ملکوں کا دورہ مکمل کرکے مخدوم شاہ محمود قریشی وطن واپس پہنچ گئے، وزیر خارجہ نے افغان حکام سے ملاقات کی ، صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، اپنے دورے کے آخری مرحلے میں وزیر خارجہ نے بدھ کو ماسکو میں روس کے اپنے ہم منصب سرگئی لاوروف سے ملاقات کی، دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں امن واستحکام کی جاری کوششوں پر بھی خصوصی بات چیت کی۔
قبل ازیں تہران میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے مفید گفتگو ہوئی، دریں اثنا چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان اسٹرٹیجک شراکت داری کے ذریعے افغان تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں اپنا کردارادا کریں گے، پاکستان اور چین نے اتفاق کیا ہے کہ ملٹری آپریشنز افغان تنازعہ کو حل کرنے میں مددگار نہیں ہوسکتے، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چھون اینگ نے بدھ کومعمول کی پریس بریفنگ میں کہا پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دورہ چین میں اپنے چینی ہم منصب وانگ ای کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگوکی۔
حقیقت میں پینٹاگان رپورٹ بھی ''ایک کوشش اور سہی'' کے تناظر میں امریکی خواہش اور زمینی حالات کے درمیان تفاوت کا معاملہ ہے۔ امریکا کو افغانستان کا کانٹا اپنی ایڑھی کے زخم سے نکالنے میں اب تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ یہی ایک صائب تزویراتی مشورہ صدر ٹرمپ کے لیے ہوسکتا ہے۔