شام اور یمن کی تباہی میں امریکی کردار
رپورٹ کے مطابق یمن کے علاوہ دیگر کئی افریقی ملکوں میں بھی قحط سالی کا خطرہ ہے
رپورٹ کے مطابق یمن کے علاوہ دیگر کئی افریقی ملکوں میں بھی قحط سالی کا خطرہ ہے فوٹو: فائل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تباہ شدہ ملک شام کی تعمیرنو کے لیے امریکا نہیں بلکہ سعودی عرب اخراجات ادا کرے گا حالانکہ غور کیا جاتے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ شام کی تباہی میں امریکی کا سب سے زیادہ ہاتھ ہے۔ یہ پینلٹی امریکا پر ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی مگر امریکی صدر نے فوری طور پر اپنا دامن چھڑانے کے لیے ٹویٹ کر دی جس میں کہا گیا تھا کہ کیا یہ بہتر نہیں کہ علاقے کے مالدار ملک شام کی تعمیر نو میں مدد کریں نہ کہ پانچ ہزار میل دور واقع امریکا پر یہ ذمے داری ڈالی جائے۔
سیاسی تجزیہ کار بیری گراسمن نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی ذمے داری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گراسمن نے کہا ہے کہ مسلسل خانہ جنگی اور تخریبی کارروائیوں کی وجہ سے شام کا انفرااسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے جس کی تعمیرنو ضروری ہے۔ شام کے صدر بشارالاسد نے قبل ازیں کہا تھا کہ وہ امریکا سے تعمیرنو میں مدد نہیں چاہتے تاہم گراسمن کا کہنا ہے کہ چونکہ اس ملک کی تباہی میں امریکا کا بہت حصہ ہے لہٰذا اس کی تعمیرنو کی ذمے داری بھی امریکی کی ہی ہے۔ ادھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ یمن کی تباہی میں امریکا کی انگلیوں کے نشان سب سے زیادہ نمایاں ہیں جب کہ شام اور عراق میں بھی تباہی بربادی کی تمام تر ذمے داری امریکا کی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ امریکا نے اس قتل وغارت کو روکنے کے بجائے اس انداز سے مداخلت کی جس سے صورت حال اور زیادہ خراب ہو گئی۔ بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں نے انتباہ کیا ہے کہ 2 کروڑ سے زیادہ افراد ہلاکت خیزی کے خطرے کا شکار ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق یمن کے علاوہ دیگر کئی افریقی ملکوں میں بھی قحط سالی کا خطرہ ہے۔ علاوہ ازیں ہیضہ اور دیگر ہلاکت خیز امراض بھی پھیل رہے ہیں جب کہ صرف یمن میں 2 کروڑ بچے زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ ہر روز ہزاروں بچے ان متعدی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ مفصل رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنگ عظیم کے بعد جاپان اور جرمنی کی حالت بھی انتہائی ناگفتہ بہ ہو گئی تھی مگر یورپ اور امریکا کے مارشل پلان کی وجہ سے یہ دونوں ممالک نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑے ہوئے بلکہ ترقی یافتہ ملک بھی بن گئے۔شام اور یمن میں امریکا اور مغربی یورپ نے منفی کردار ادا کیا ہے، ان ممالک کی تباہی کے ساتھ ساتھ عراق اور لیبیا کو برباد کیا گیا ، اس کا بنیادی مقصد اسرائیل کو محفوظ بنانا تھا۔
سیاسی تجزیہ کار بیری گراسمن نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی ذمے داری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گراسمن نے کہا ہے کہ مسلسل خانہ جنگی اور تخریبی کارروائیوں کی وجہ سے شام کا انفرااسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے جس کی تعمیرنو ضروری ہے۔ شام کے صدر بشارالاسد نے قبل ازیں کہا تھا کہ وہ امریکا سے تعمیرنو میں مدد نہیں چاہتے تاہم گراسمن کا کہنا ہے کہ چونکہ اس ملک کی تباہی میں امریکا کا بہت حصہ ہے لہٰذا اس کی تعمیرنو کی ذمے داری بھی امریکی کی ہی ہے۔ ادھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ یمن کی تباہی میں امریکا کی انگلیوں کے نشان سب سے زیادہ نمایاں ہیں جب کہ شام اور عراق میں بھی تباہی بربادی کی تمام تر ذمے داری امریکا کی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ امریکا نے اس قتل وغارت کو روکنے کے بجائے اس انداز سے مداخلت کی جس سے صورت حال اور زیادہ خراب ہو گئی۔ بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں نے انتباہ کیا ہے کہ 2 کروڑ سے زیادہ افراد ہلاکت خیزی کے خطرے کا شکار ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق یمن کے علاوہ دیگر کئی افریقی ملکوں میں بھی قحط سالی کا خطرہ ہے۔ علاوہ ازیں ہیضہ اور دیگر ہلاکت خیز امراض بھی پھیل رہے ہیں جب کہ صرف یمن میں 2 کروڑ بچے زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ ہر روز ہزاروں بچے ان متعدی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ مفصل رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنگ عظیم کے بعد جاپان اور جرمنی کی حالت بھی انتہائی ناگفتہ بہ ہو گئی تھی مگر یورپ اور امریکا کے مارشل پلان کی وجہ سے یہ دونوں ممالک نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑے ہوئے بلکہ ترقی یافتہ ملک بھی بن گئے۔شام اور یمن میں امریکا اور مغربی یورپ نے منفی کردار ادا کیا ہے، ان ممالک کی تباہی کے ساتھ ساتھ عراق اور لیبیا کو برباد کیا گیا ، اس کا بنیادی مقصد اسرائیل کو محفوظ بنانا تھا۔