ترقی یافتہ ممالک سے اقتصادی ترقی کا موازنہ

2019کی عالمی اقتصادی صورت حال گزشتہ سال کی نسبت زیادہ مشکلات سے دوچار ہو گی

2019کی عالمی اقتصادی صورت حال گزشتہ سال کی نسبت زیادہ مشکلات سے دوچار ہو گی۔ فوٹو: فائل

اقتصادی اور تجارتی تحقیق کے عالمی مرکز سی ای بی آر نے کہا ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں کا اقتصادی میدان میں مقابلہ کرنے کے لیے چین، بھارت اور برازیل جیسے ترقی پذیر ملکوں کو ابھیمزید کوششیں کرنا ہوں گی کیونکہ وہ اپنے مطلوبہ اہداف کو ابھی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ تحقیقی مرکز کے مطابق 2019کی عالمی اقتصادی صورت حال گزشتہ سال کی نسبت زیادہ مشکلات سے دوچار ہو گی۔


اس تحقیقی ادارے کا کہنا ہے کہ وسط مدتی طور پر ہم اتنے ہی پرامید ہو سکتے ہیں جتنے کہ ایک سال قبل تھے لیکن خدشہ ہے کہ ترقی کی منازل کے لیے راستے پر اس سے کہیں زیادہ دھچکے لگیں گے اور زیادہ مشکلات درپیش ہوں گی جن کے بارے میں بارہ مہینے پہلے سوچا گیا تھا۔ تحقیقاتی ادارے نے 2033 تک دنیا کے 193 ملکوں کی اقتصادیات کا تجزیہ کیا ہے۔ اس ادارے کے تجزیے کے مطابق چین 2032تک اقتصادی طور پر امریکا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی نمبرون اقتصادیات بن جائے گا جب کہ قبل ازیں خیال تھا کہ چین اس سطح تک 2030 تک پہنچ جائے گا لیکن ٹیکس مانیٹری پالیسی اور زرمبادلہ کے کم ریٹ کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکا۔

سی ای بی آر کے مطابق قبل ازیں اندازہ لگایا گیا تھا کہ برازیل 2018 کے بجائے 2020 میں اقتصادی طور پر اٹلی سے آگے نکل جائے گا جب کہ بھارت 2019-20 میں برطانیہ اور فرانس سے آگے نکل جائے گا حالانکہ اس کے لیے بھی پہلے اندازہ لگایا گیا تھا کہ وہ 2018 تک اس مرحلے کو طے کر لے گا۔ برطانیہ بریگزٹ کے بحران کی وجہ سے دنیا کی چھٹی سب سے بڑی معیشت کے طور پر فرانس کی جگہ حاصل نہیں کر سکے گا لیکن 2023 میں یہ مقام حاصل کر لے گا۔ سی ای بی آر کے تجزیہ کے مطابق یورو زون میں اگلے برس آئرلینڈ سب سے تیز رفتار معیشت کا درجہ حاصل کر لے گا لیکن اس پر بھی بریگزٹ کے منفی اثرات ضرور پڑیں گے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ترقی کی شاہراہ پر سرپٹ دوڑنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان کہیں نظر نہیں آتا، ہمارے پالیسی سازوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔
Load Next Story