کب ٹھہرے گا درد دل
دہشت گردی کے ملکی واقعات میں تسلسل نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے جب کہ دہشت گردوں کے اہداف تک رسائی اور...
پاکستان سمیت مختلف ممالک براہ راست دہشت گردی کی زد میں ہیں ۔ فوٹو: ایکسپریس
دہشت گردی کے ملکی واقعات میں تسلسل نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے جب کہ دہشت گردوں کے اہداف تک رسائی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی پر تشدد کارروائیوں کو اب نہ صرف ملکی سطح پر تشویش کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے اور اس ناسور کے خاتمے کے لیے اقدامات اور اجتماعی کوششیں جاری ہیں بلکہ عالمی مبصرین تو اس سے دو قدم آگے نکلتے دکھائی دیتے ہیں اور عالمی تہذیب ، سیاسی و معاشرتی نظام اورجمہوری اقدار کی تباہی کو روکنے کے لیے وہ دہشت گردی کے مختلف پہلوئوںپر سوچ و بچار کررہے ہیں جس میں اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ پر تشدد ، ظالمانہ اور غیر حقیقت پسندانہ تحریکوں اور فسطائی ہتھکنڈوں کے خلاف پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کی پر شور تحریروں اور صدائوں ، ادبی تخلیقات کے اثرونفوذ اور دہشت گردی کے سدباب کے سماجی ، عدالتی، قانونی اور اقتصادی پہلوئوں اور اس کے اسباب و علل کی آزادانہ اور معروضی تحقیق سے صورتحال میں کسی قسم کی تبدیلی آبھی رہی ہے یا نہیں ۔
یہ بلاشبہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اہم فکری دورانیہ ہے ۔ پاکستان سمیت مختلف ممالک براہ راست دہشت گردی کی زد میں ہیں چونکہ کچھ قوتیں سیاست ،مذہب، خود ساختہ نظریات اورمسلکی ایجنڈے کی آڑ میں جمے جمائے معاشرتی و سیاسی اور فکری نظام اقدار کو تہس نہس کرنے پر کمربستہ ہیں۔المیہ یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد سے مادر وطن کو دہشت گردی کے جس طوفان کا سامنا ہے اس کی کئی جہتیں اور ہلاکت خیز شکلیں ہیں۔ ایسے عناصر بھی ہمارے یہاں موجود ہیں جو جہادی کلچر اور مذہبی انتہا پسندی کے ذریعے نہ صرف جمہوری اقدار کی بساط لپیٹنے کا خواب دیکھ رہے ہیں بلکہ پر تشدد اور غیر انسانی کارروائیاں کرکے پاکستان کو بدنام کررہے ہیں اور عالمی برادری میں پاکستان کو ایک ناکام ریاست کے طور پر پیش کرنے کے جنون میں انتہائی حد تک جاپہنچے ہیں۔ ان کی وحشت ناک کارروائیوں کا اندازہ ان واقعات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ روز کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ، فائرنگ اور پرتشدد واقعات میںمزید 16 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ 11افراد زخمی ہوئے۔
ان میں سیاسی کارکن بھی شامل تھے ۔ یہ واقعہ شہر میں جاری ٹارگٹ کلنگ کا تسلسل بتایا گیا ہے جب کہ دہشت گردوں نے منی پاکستان کو جس طرح اپنے حصار میں لے رکھا ہے وہ بلوچستان اور فاٹا کی صورتحال کے پیش نظر سخت اذیت ناک ہے۔ شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنے کی کوئی کوشش ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکی ۔ میڈیا ،سول سوسائٹی اور مختلف سماجی تنظیموں کی مشترکہ احتجاجی اور عملی کوششوں کے باوجود دہشت گردی کو کنٹرول کرنے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ عملاً کراچی انارکی کی طرف سرکتا جارہا ہے، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس مشیر عالم نے قرار دیا ہے کہ کراچی بدامنی کیس کے فیصلہ پر عمل کیا جائے جو شہر میں امن کی ضمانت ہے۔ ادھر ضلع ہنگو کی تحصیل دوآبہ میں طورا وڑی روڈ پر بس اڈے کے قریب قبائلی رہنما ملک حبیب اللہ وزیر کی گاڑی کے قریب دھماکے میں ان کے بھائی ملک غازی مرجان اور ڈرائیور سمیت 8 افراد جاں بحق اور 10 شدید زخمی ہوگئے ۔
ڈسٹرکٹ پولیس افسر سجاد خان نے بتایا کہ دھماکا موٹر سائیکل میں نصب بارودی مواد پھٹنے سے ہوا، دھماکے کے لیے 6 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور دیگر رہنمائوں نے بھی دھماکوں کی مذمت کی ہے، علاوہ ازیں افغانستان سے ایک بار پھر 25گولے جنوبی وزیرستان کی حدود پر فائر کیے گئے تاہم جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اسی طرح اگر پنجاب میںحالیہ فود اسٹریٹ پر بم دھماکے کے مضمرات اور دہشت گردی کے اس واقعہ کی غرض وغایت کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دہشت گرد ہٹ اینڈ رن Hit and Run والی سرعت آمیز حکمت عملی پر کاربند ہیں ۔ ان کی ریپڈ ڈیپلائمنٹ حیران کن ، چشم کشا اور لمحہ فکریہ ہے ۔مگر اصل مسئلہ ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہے جن سے پوری قوم دست بستہ عرض کررہی ہے کہ کب ٹھہرے گا درد دل کب رات بسر ہوگی ! اگر دہشت گردی کا تسلسل اسی طرح شہریوں کی جانیں لیتا رہا تو ملکی نظام کو شکست وریخت سے کس طرح بچایا جائے گا۔
ہم اپنی داخلی صورتحال کی سنگینی اور اندر کے دشمن کی شناخت میں مسلسل ناکامی سے کیوں دوچار ہیں ۔ تاہم موجودہ حکومت نے دہشت گردی کے سنگین مسئلے کے حوالے سے درست حکمت عملی تیار کرنے کی سمت درست اقدام کیا ہے اور اس ضمن میں قومی اسمبلی کااجلاس 15جولائی پیر شام 5 بجے بلائے جانے کاقوی امکان ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کام میں تاخیر نہ کی جائے۔ سیکیورٹی کے حوالے سے قومی کانفرنس کے انعقاد کے بعد حکومت کانفرنس کی سفارشات کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس جلد بلانا چاہیے۔اس حوالے سے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے استفسارکیا گیا تو بتایا گیا کہ قومی کانفرنس کی سفارشات کی منظوری کے لیے حکومت قومی اسمبلی کااجلاس بلاسکتی ہے تاکہ دنیاکو یہ مثبت تاثر ملے کہ یہ پارلیمنٹ سے منظورشدہ پالیسی ہے ۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے لندن پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وفاقی حکومت دہشتگردی پر اپنی واضح پالیسی کا اعلان کرے جب کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر سردار اختر مینگل کا کہناہے کہ نواب اکبر بگٹی کا قتل بلوچستان کو تباہی کی طرف لے کرگیا،66 برس میں بلوچستان کی اہمیت کو کوئی نہیں سمجھ سکا، صوبے کو تباہی سے بچانا ہے تو مذاکرات کرنا ہوں گے۔ اگر مسئلہ حل کرناہے تو ہمارے 6مطالبات کو تسلیم کیا جائے،آپریشن میں نقل مکانی کرنے والے مری، بگٹی اورمینگل قبائل کے افراد کی واپسی اوربحالی ضروری ہے،نوازشریف بلوچستان کے ایشوکوحل کرا سکتے ہیں۔
بلاشبہ کل جماعتی کانفرنس وقت کا تقاضہ ہے مگر اس بات کی ضمانت بھی ہونی چاہیے کہ یہ کانفرنس نشستند وگفتند وبرخاستند کا تماشا ثابت نہیں ہوگی اور نہ ہی اس فورم کو دل کے پھپھولے پھوڑنے کے لیے استعمال کیا جائے گا ۔کل جماعتی کانفرنس کے ساتھ ساتھ ملکی دانشور، ادبا و شعرا ، مورخین، ماہرین سماجیات ونفسیات ، جرائم کی روک تھام میں مصروف اداروں کے سربراہوں، تجزیہ کار اورسول سوسائٹی کی اہم شخصیات کو بھی مکالمے کے مستقل دھارے میں لایا جائے۔ ان کی تحقیق اور مباحث سے استفادہ کی گنجائش نکالی جائے۔ اس امر کا تصفیہ اب ہوجانا چاہیے کہ طالبان سے مکالمہ ہوگا کہ نہیں اور اگر ہوگا تو کن بنیادوں اور شرائط کے ساتھ ۔حکمراں اپنا پیپر ورک مکمل کرلیں ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا احتساب اور کارکردگی کے معیار کا از سر نو جائزہ لیں ۔
افسوس کہ مادر وطن نے طرز حکمرانی میں جمہور سے وفا اور اس سے تجدید عہد میں کوئی سرخروئی کا منظر نہیں دیکھا۔چنانچہ اس خلا میںدہشت گردی پروان چڑھی کیونکہ عوام حکمران طبقہ سے کٹ کر بے آسرا رہ گئے۔ اب نئی خارجہ پالیسی کے تعین اور داخلی امن و سکون کی بحالی کے لیے وقت کی قدر کی جائے ۔ معاشرے کی بربادی کا ہر راستہ روکنے کے لیے ترجیحات طے ہوں اور دہشت گردی کی قومی پالیسی کو نافذ کرنے اور اس سے صورتحال کی بہتری کا کام لیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ دہشت گردی کاجن بوتل میں بند ہونے کے بجائے ہمیشہ کے لیے نیست ونابود ہوکر رہ جائے۔
یہ بلاشبہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اہم فکری دورانیہ ہے ۔ پاکستان سمیت مختلف ممالک براہ راست دہشت گردی کی زد میں ہیں چونکہ کچھ قوتیں سیاست ،مذہب، خود ساختہ نظریات اورمسلکی ایجنڈے کی آڑ میں جمے جمائے معاشرتی و سیاسی اور فکری نظام اقدار کو تہس نہس کرنے پر کمربستہ ہیں۔المیہ یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد سے مادر وطن کو دہشت گردی کے جس طوفان کا سامنا ہے اس کی کئی جہتیں اور ہلاکت خیز شکلیں ہیں۔ ایسے عناصر بھی ہمارے یہاں موجود ہیں جو جہادی کلچر اور مذہبی انتہا پسندی کے ذریعے نہ صرف جمہوری اقدار کی بساط لپیٹنے کا خواب دیکھ رہے ہیں بلکہ پر تشدد اور غیر انسانی کارروائیاں کرکے پاکستان کو بدنام کررہے ہیں اور عالمی برادری میں پاکستان کو ایک ناکام ریاست کے طور پر پیش کرنے کے جنون میں انتہائی حد تک جاپہنچے ہیں۔ ان کی وحشت ناک کارروائیوں کا اندازہ ان واقعات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ روز کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ، فائرنگ اور پرتشدد واقعات میںمزید 16 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ 11افراد زخمی ہوئے۔
ان میں سیاسی کارکن بھی شامل تھے ۔ یہ واقعہ شہر میں جاری ٹارگٹ کلنگ کا تسلسل بتایا گیا ہے جب کہ دہشت گردوں نے منی پاکستان کو جس طرح اپنے حصار میں لے رکھا ہے وہ بلوچستان اور فاٹا کی صورتحال کے پیش نظر سخت اذیت ناک ہے۔ شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنے کی کوئی کوشش ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکی ۔ میڈیا ،سول سوسائٹی اور مختلف سماجی تنظیموں کی مشترکہ احتجاجی اور عملی کوششوں کے باوجود دہشت گردی کو کنٹرول کرنے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ عملاً کراچی انارکی کی طرف سرکتا جارہا ہے، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس مشیر عالم نے قرار دیا ہے کہ کراچی بدامنی کیس کے فیصلہ پر عمل کیا جائے جو شہر میں امن کی ضمانت ہے۔ ادھر ضلع ہنگو کی تحصیل دوآبہ میں طورا وڑی روڈ پر بس اڈے کے قریب قبائلی رہنما ملک حبیب اللہ وزیر کی گاڑی کے قریب دھماکے میں ان کے بھائی ملک غازی مرجان اور ڈرائیور سمیت 8 افراد جاں بحق اور 10 شدید زخمی ہوگئے ۔
ڈسٹرکٹ پولیس افسر سجاد خان نے بتایا کہ دھماکا موٹر سائیکل میں نصب بارودی مواد پھٹنے سے ہوا، دھماکے کے لیے 6 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور دیگر رہنمائوں نے بھی دھماکوں کی مذمت کی ہے، علاوہ ازیں افغانستان سے ایک بار پھر 25گولے جنوبی وزیرستان کی حدود پر فائر کیے گئے تاہم جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اسی طرح اگر پنجاب میںحالیہ فود اسٹریٹ پر بم دھماکے کے مضمرات اور دہشت گردی کے اس واقعہ کی غرض وغایت کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دہشت گرد ہٹ اینڈ رن Hit and Run والی سرعت آمیز حکمت عملی پر کاربند ہیں ۔ ان کی ریپڈ ڈیپلائمنٹ حیران کن ، چشم کشا اور لمحہ فکریہ ہے ۔مگر اصل مسئلہ ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہے جن سے پوری قوم دست بستہ عرض کررہی ہے کہ کب ٹھہرے گا درد دل کب رات بسر ہوگی ! اگر دہشت گردی کا تسلسل اسی طرح شہریوں کی جانیں لیتا رہا تو ملکی نظام کو شکست وریخت سے کس طرح بچایا جائے گا۔
ہم اپنی داخلی صورتحال کی سنگینی اور اندر کے دشمن کی شناخت میں مسلسل ناکامی سے کیوں دوچار ہیں ۔ تاہم موجودہ حکومت نے دہشت گردی کے سنگین مسئلے کے حوالے سے درست حکمت عملی تیار کرنے کی سمت درست اقدام کیا ہے اور اس ضمن میں قومی اسمبلی کااجلاس 15جولائی پیر شام 5 بجے بلائے جانے کاقوی امکان ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کام میں تاخیر نہ کی جائے۔ سیکیورٹی کے حوالے سے قومی کانفرنس کے انعقاد کے بعد حکومت کانفرنس کی سفارشات کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس جلد بلانا چاہیے۔اس حوالے سے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے استفسارکیا گیا تو بتایا گیا کہ قومی کانفرنس کی سفارشات کی منظوری کے لیے حکومت قومی اسمبلی کااجلاس بلاسکتی ہے تاکہ دنیاکو یہ مثبت تاثر ملے کہ یہ پارلیمنٹ سے منظورشدہ پالیسی ہے ۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے لندن پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وفاقی حکومت دہشتگردی پر اپنی واضح پالیسی کا اعلان کرے جب کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر سردار اختر مینگل کا کہناہے کہ نواب اکبر بگٹی کا قتل بلوچستان کو تباہی کی طرف لے کرگیا،66 برس میں بلوچستان کی اہمیت کو کوئی نہیں سمجھ سکا، صوبے کو تباہی سے بچانا ہے تو مذاکرات کرنا ہوں گے۔ اگر مسئلہ حل کرناہے تو ہمارے 6مطالبات کو تسلیم کیا جائے،آپریشن میں نقل مکانی کرنے والے مری، بگٹی اورمینگل قبائل کے افراد کی واپسی اوربحالی ضروری ہے،نوازشریف بلوچستان کے ایشوکوحل کرا سکتے ہیں۔
بلاشبہ کل جماعتی کانفرنس وقت کا تقاضہ ہے مگر اس بات کی ضمانت بھی ہونی چاہیے کہ یہ کانفرنس نشستند وگفتند وبرخاستند کا تماشا ثابت نہیں ہوگی اور نہ ہی اس فورم کو دل کے پھپھولے پھوڑنے کے لیے استعمال کیا جائے گا ۔کل جماعتی کانفرنس کے ساتھ ساتھ ملکی دانشور، ادبا و شعرا ، مورخین، ماہرین سماجیات ونفسیات ، جرائم کی روک تھام میں مصروف اداروں کے سربراہوں، تجزیہ کار اورسول سوسائٹی کی اہم شخصیات کو بھی مکالمے کے مستقل دھارے میں لایا جائے۔ ان کی تحقیق اور مباحث سے استفادہ کی گنجائش نکالی جائے۔ اس امر کا تصفیہ اب ہوجانا چاہیے کہ طالبان سے مکالمہ ہوگا کہ نہیں اور اگر ہوگا تو کن بنیادوں اور شرائط کے ساتھ ۔حکمراں اپنا پیپر ورک مکمل کرلیں ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا احتساب اور کارکردگی کے معیار کا از سر نو جائزہ لیں ۔
افسوس کہ مادر وطن نے طرز حکمرانی میں جمہور سے وفا اور اس سے تجدید عہد میں کوئی سرخروئی کا منظر نہیں دیکھا۔چنانچہ اس خلا میںدہشت گردی پروان چڑھی کیونکہ عوام حکمران طبقہ سے کٹ کر بے آسرا رہ گئے۔ اب نئی خارجہ پالیسی کے تعین اور داخلی امن و سکون کی بحالی کے لیے وقت کی قدر کی جائے ۔ معاشرے کی بربادی کا ہر راستہ روکنے کے لیے ترجیحات طے ہوں اور دہشت گردی کی قومی پالیسی کو نافذ کرنے اور اس سے صورتحال کی بہتری کا کام لیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ دہشت گردی کاجن بوتل میں بند ہونے کے بجائے ہمیشہ کے لیے نیست ونابود ہوکر رہ جائے۔