ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کا منظر عام پر آنا
ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی امریکی کارروائی کے نتیجے میں ہلاکت کے بعد پارلیمنٹ کی 14مئی 2011کے اجلاس کی مشترکہ قرار
ایبٹ آباد کمیشن نے جو تحقیقات کیں ہیں‘ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس کی بہت اہمیت ہے. فوٹو: اے ایف پی
ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی امریکی کارروائی کے نتیجے میں ہلاکت کے بعد پارلیمنٹ کی 14مئی 2011کے اجلاس کی مشترکہ قرار داد کے تحت وزارت قانون نے 21 جون 2011 کو جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کا تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا تھا' اس کمیشن نے جو تحقیقات کیں' اس کی رپورٹ باقاعدہ طور پر تو شایع نہیں ہوئی تاہم اگلے روز غیر ملکی اور مقامی میڈیا نے اس رپورٹ کو افشا کر دیا ہے۔ میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق ایبٹ آباد کمیشن' اسامہ بن لادن کی موجودگی کا سراغ لگانے اور پاکستانی سرزمین پر امریکی آپریشن کا جواب دینے میں ناکامی کا ذمے دار کسی ادارے یا شخصیت قرار دینے میں ناکام رہا ہے۔
ایک عرب نیوز چینل الجزیرہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکومت نے امریکی کارروائی کے بعد عوامی دبائو کے پیش نظر تحقیقات کرا کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی حالانکہ اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی جنگ کے مترادف تھی۔ ایبٹ آباد کمیشن نے امریکی آپریشن کو پاکستانی حکومت اور قومی اداروں کی ناکامی قرار دیا ہے' رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور قومی ادارے ہر سطح پر پلاننگ میں ناکام رہے۔ ایبٹ آباد کمیشن نے اپنی تحقیقات کے دوران 201 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے' جن میں 4 وفاقی وزراء' 35 سول سرونٹس' 14 فوجی اہلکار اور فضائیہ کے 13 افسروں کے علاوہ 11 آئی ایس آئی اہلکار بھی شامل تھے تاہم صدر آصف علی زرداری' اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی میں سے کسی نے بھی کمیشن کو اپنا بیان نہیں دیا۔
ایبٹ آباد کمیشن نے جو تحقیقات کیں ہیں' ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس کی بہت اہمیت ہے' اس کمیشن نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد جو رپورٹ تیار کی' اسے سرکاری طور پر شایع نہیں کیا گیا' پاکستان میں یہ روایت پختہ ہو چکی ہے کہ قومی اہمیت کے معاملات و سانحات پر جو کمیشن بیٹھے اور انھوں نے جو رپورٹ مرتب کی' اسے شایع نہیں کیا جاتا' سقوط ڈھاکہ کے اسباب جاننے کے لیے حمود الرحمن کمیشن نے جو رپورٹ تیار کی' اسے بھی شایع نہیں کیا گیا تھا' پھر اس رپورٹ کے چند حصے مختلف ذرایع سے منظر عام پر آتے رہے' جنرل پرویز مشرف کے عہد اقتدار میں اس رپورٹ کو شایع کیا گیا۔ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ بھی میڈیا پر مختلف ذرایع سے ہی منظر عام پر آئی ہے۔ اس رپورٹ میں بہت سی باتیں اورانکشاف موجود ہیں' انتہائی حساس نوعیت کی یہ رپورٹ اپنے اندر بہت سے حقائق رکھتی ہے۔ زیادہ بہتر ہوتا اگر حکومت اسے خود شایع کر دیتی یا اسے پہلے پارلیمنٹ کے روبرو پیش کر دیا جاتا' بہر حال اب یہ رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے' حکومت کو چاہیے کہ وہ اسے باقاعدہ طور پر شایع کر دے تاکہ قوم حقائق جان سکے۔
ایک عرب نیوز چینل الجزیرہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکومت نے امریکی کارروائی کے بعد عوامی دبائو کے پیش نظر تحقیقات کرا کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی حالانکہ اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی جنگ کے مترادف تھی۔ ایبٹ آباد کمیشن نے امریکی آپریشن کو پاکستانی حکومت اور قومی اداروں کی ناکامی قرار دیا ہے' رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور قومی ادارے ہر سطح پر پلاننگ میں ناکام رہے۔ ایبٹ آباد کمیشن نے اپنی تحقیقات کے دوران 201 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے' جن میں 4 وفاقی وزراء' 35 سول سرونٹس' 14 فوجی اہلکار اور فضائیہ کے 13 افسروں کے علاوہ 11 آئی ایس آئی اہلکار بھی شامل تھے تاہم صدر آصف علی زرداری' اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی میں سے کسی نے بھی کمیشن کو اپنا بیان نہیں دیا۔
ایبٹ آباد کمیشن نے جو تحقیقات کیں ہیں' ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس کی بہت اہمیت ہے' اس کمیشن نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد جو رپورٹ تیار کی' اسے سرکاری طور پر شایع نہیں کیا گیا' پاکستان میں یہ روایت پختہ ہو چکی ہے کہ قومی اہمیت کے معاملات و سانحات پر جو کمیشن بیٹھے اور انھوں نے جو رپورٹ مرتب کی' اسے شایع نہیں کیا جاتا' سقوط ڈھاکہ کے اسباب جاننے کے لیے حمود الرحمن کمیشن نے جو رپورٹ تیار کی' اسے بھی شایع نہیں کیا گیا تھا' پھر اس رپورٹ کے چند حصے مختلف ذرایع سے منظر عام پر آتے رہے' جنرل پرویز مشرف کے عہد اقتدار میں اس رپورٹ کو شایع کیا گیا۔ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ بھی میڈیا پر مختلف ذرایع سے ہی منظر عام پر آئی ہے۔ اس رپورٹ میں بہت سی باتیں اورانکشاف موجود ہیں' انتہائی حساس نوعیت کی یہ رپورٹ اپنے اندر بہت سے حقائق رکھتی ہے۔ زیادہ بہتر ہوتا اگر حکومت اسے خود شایع کر دیتی یا اسے پہلے پارلیمنٹ کے روبرو پیش کر دیا جاتا' بہر حال اب یہ رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے' حکومت کو چاہیے کہ وہ اسے باقاعدہ طور پر شایع کر دے تاکہ قوم حقائق جان سکے۔