انٹر بورڈ میں طلبا اور ملازمین سے لوٹ مار جاری

ملازمین کو یرغمال بنا کر لوٹ ماراور بدتمیزی کی، بورڈ مکمل طور پر جرائم پیشہ افراد کے حصار میں ہے ، ذرائع

چیئرمین بورڈ پروفیسر انوار احمد زئی نے بھی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آج سے بورڈ میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جارہے ہیں۔ فوٹو: فائل

حکومت سندھ کی عدم دلچسپی کے سبب اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ میں لوٹ مار، طلبہ و طالبات اور ملازمین سے بدتمیزی اور بدامنی کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ۔

منگل کو بورڈ میں نامعلوم افراد بورڈ کے اکاؤنٹ سیکشن میں گھس گئے، اکاؤنٹ سیکشن کے ملازمین کو یرغمال بنایا اور لوٹ مارکے بعد فرارہوگئے ، یہ تمام واقعہ بورڈ میں تعینات ایک درجن سے زائد سیکیورٹی گارڈزکی موجودگی میں پیش آیا ،بورڈ ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد اکاؤنٹ سیکشن میں داخل ہوئے وہاں موجود عملے کے افراد کو یرغمال بنانے کے بعد سیکشن میں موجود رقم چھینی اور ملازمین سے بھی لوٹ مار کی اور فرار ہوگئے ''ایکسپریس'' نے جب اس معاملے پر اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین پروفیسر انوار احمد زئی سے رابطہ کیا تو انھوں نے واقعے کی جزوی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نامعلوم افراد اکاؤنٹ سیکشن میں داخل ہوئے تھے اور ڈکیتی کی کوشش کی تاہم اس کو ناکام بنادیا گیا ، اس واقعے کے بعد چیئرمین بورڈ نے سیکریٹری بورڈ کے ہمراہ ا کاؤنٹ سیکشن کا دورہ بھی کیا۔




جبکہ معلوم ہوا ہے کہ بورڈ انتظامیہ کی جانب سے اکاؤنٹ سیکشن سمیت دیگر دفاترمیں فوری طور پر لوہے کی گرل لگائی جارہی ہے، چیئرمین بورڈ پروفیسر انوار احمد زئی نے بھی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آج سے بورڈ میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جارہے ہیں، بورڈکی جانب سے اکاؤنٹ سیکشن میں گرل لگادی جائے گی اور غیرمتعلقہ افراد کی آمدورفت پر مکمل پابندی ہوگی، ادھر ڈی ایس پی شاہد عباس کے مطابق واقعے کی رپورٹ میں درج نہیں کرائی گئی ہے، واضح رہے کہ کٹی پہاڑی کے قریب واقع اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں طلبہ وطالبات سے رقم چھینے والے طلبا اورملازمین پر تشدد اوراس جیسی دیگرکارروائیاں گزشتہ کئی برس سے جاری ہیں۔

گزشتہ سال بورڈ میں موجود دو مختلف گروپس میں فائرنگ کا بدترین واقعہ بھی پیش آچکاہے جس میں انتظامی دفاتر سمیت ایک صحافی کی گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے تھے ، یاد رہے کہ ایک سال قبل سندھ کے تعلیمی بورڈ کی کنٹرولنگ اتھارٹی گورنر سیکریٹریٹ سے وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کو منتقل ہوچکی ہے تاہم حکومت سندھ کی تعلیمی بورڈ میں عدم دلچسپی اور بورڈ میں سیکیورٹی کے معاملے میں بے اعتنائی کے سبب اس قسم کے واقعات رونما ہونا معمول ہے ،بورڈ انتظامیہ کی سفارش پر پبلک ڈیلنگ کے دفاترکریم آباد فیڈرل بی ایریا میں واقع محکمہ تعلیم کے دفاتر میں منتقل کرنے پرغور کیا جارہا ہے تھا تاہم اس معاملے پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی اور بورڈ مکمل طور پر جرائم پیشہ افراد کے حصار میں ہے۔
Load Next Story