2جامعات کا ایچ ای سی رینکنگ کا غیر اعلانیہ’’بائیکاٹ‘‘ ڈیٹا ہی نہیں دیا

این ای ڈی اوراردویونیورسٹی نے ایچ ای سی کومعلومات ہی فراہم نہیں کیں، اردویونیورسٹی کا متعلقہ شعبہ غیرفعال ہے.

جامعہ کراچی کوالٹی انہاسمنٹ سیل کے سربراہ پروفیسرساجدین سے رابطہ کیا تو ان کاکہنا تھا کہ ایچ ای سی کی جانب سے درجہ بندی کے لیے بنایاگیا پروفارما80سے زائد سوالات پر مشتمل ہوتا ہے۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی جانب سے چند روزقبل ملک کی سرکاری ونجی جامعات کی درجہ بندی میں کراچی کی تین بڑی سرکاری جامعات میں سے دویونیورسٹیزکو''رینکنگ''میں شامل نہ کیے جانے جبکہ جامعہ کراچی کے اس درجہ بندی میں تیسرے نمبرپرآنے کے حوالے سے اہم انکشافات ہوئے ہیں۔

این ای ڈی اور اردویونیورسٹی نے ایچ ای سی رینکنگ میں دلچسپی نہیں لی ، یونیورسٹی سے متعلق ڈیٹا ہی نہیں بھجوایا، ایچ ای سی کی جانب سے جاری کی گئی درجہ بندی رپورٹ میں کراچی میں قائم سندھ کی سب سے بڑی انجینئرنگ یونیورسٹی این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی اورکراچی میں ہی وفاقی سطح پرقائم ہونے والے وفاقی اردویونیورسٹی کوشامل نہیں کیاگیاہے۔

جس کے بارے میں معلوم ہواہے کہ ان دونوں جامعات نے درجہ بندی کے حوالے سے ایچ ای سی کی جانب سے مانگا گیا ڈیٹا فراہم ہی نہیں کیا اردویونیورسٹی میں متعلقہ شعبہ غیرفعال ہے اورایچ ای سی کوڈیٹا کی فراہمی میں دلچسپی نہیں دکھائی جس کے سبب یونیورسٹی کو ایچ ای سی کی جانب سے درجہ بندی میں شامل ہی نہیں کیا جاسکا ہے، مزید یہ کہ جامعہ کراچی میں کورس ایویلیشن''اور'' ٹیچرز ایویلیو ایشن نہیں کی جارہی ہے،جامعہ کراچی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ جامعہ کراچی کے شعبہ جات درجہ بندی کے لیے ''کورس ایویلیشن''اور'' ٹیچرزایویلیوایشن '' کے لیے تیارنہیں ہیں ، ٹیچرز ایویلیشن میں اساتذہ کی کارکردگی کے حوالے سے شعبے کے طلبا سے معلومات حاصل کی جاتی ہیں جبکہ کورس ایویلیوایشن اس بات کااندازہ لگایا جاتاہے کہ یونیورسٹی میں پڑھایاجانے والانصاب بین الاقوامی تقاضوں سے کس قدرہم آہنگی رکھتا اوراپ ڈیٹ ہے۔




تاہم کورس ایویلیشن''اور''ٹیچرز ایویلیوایشن'' نہ ہونے کے سبب جامعہ کراچی ایچ ای سی کودرجہ بندی کے لیے مکمل معلومات فراہم ہی نہیں کرسکی جبکہ جامعہ کراچی کے شعبہ جات کی جانب سے متعلقہ ادارے کو''ریسرچ پبلی کیشنز''کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئی جس کے سبب جامعہ کراچی کی ،انتظامیہ یونیورسٹی کی ریسرچ پبلیکیشنز کی تفصیلات بھی ایچ ای سی کوبھجوانے سے قاصررہی اور ادھوری معلومات کی فراہمی کے سبب جامعہ کراچی استعدادکے باوجود ایچ ای سی کی رینکنگ میں پہلی یادوسری پوزیشن نہیں لے سکی ،یونیورسٹی نے جنرل یونیورسٹیز میں اپنی تیسری پوزیشن برقراررکھی'' ایکسپریس'' نے جب اس معاملے پرجامعہ کراچی کوالٹی انہاسمنٹ سیل کے سربراہ پروفیسرساجدین سے رابطہ کیا تو ان کاکہنا تھا کہ ایچ ای سی کی جانب سے درجہ بندی کے لیے بنایاگیا پروفارما80سے زائد سوالات پر مشتمل ہوتا۔

تاہم کورس ایویلیشن''اور''ٹیچرزایویلیوایشن یونیورسٹی کے 67شعبہ جات میں سے محض 5میں کی جاتی ہے لہذا یونیورسٹی کورس ایویلیشن''اور''ٹیچرزایویلیوایشن'' سے متعلق معلومات ایچ ای سی کوفراہم نہیں کرپاتی ہے، جو ریسرچ پبلیکیشن جامعہ کراچی میں ہورہی ہیں ان کی تفصیلات شعبوں سے نہیں مل پاتی جس کے سبب اس سلسلے میں بھی کوئی خاطرخواہ معلومات ہم ایچ ای سی کونہیں بھیج سکتے ہیں تاہم اب شیخ الجامعہ کی جانب سے اس سلسلے میں شعبوں کوایک خط لکھا گیا ہے جبکہ اکیڈمک کونسل میں بھی یہ معاملہ لایاجائے گا تاکہ تمام شعبوں میں کورس ایویلیشن''اور''ٹیچرزایویلیوایشن کی جاسکے، علاوہ ازیں جب اس سلسلے میں جامعہ اردوکے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس امرکا انکشاف کیا کہ ان کے کوالٹی انہاسمنٹ سیل نے ایچ ای سی کوکسی قسم کی معلومات بھجوائی ہی نہیں توایچ ای سی رینکنگ کیسے کرتی ایچ ای سی نے اردویونیورسٹی کوچھ خطوط لکھے ایک کاجواب بھی نہیں دیاگیا۔

اردویونیورسٹی میں کوالٹی انہاسمنٹ سیل کے سربراہ ڈاکٹرکامران ہیں جوساتھ ہی کسی دوسرے شعبے میںفرائض بھی انجام دیتے ہیں، این ای ڈی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرافضل حق سے بھی اس سلسلے میں رابطہ کی کوشش کی گئی توان کاکہناتھا کہ وہ اس وقت اجلاس میں مصروف ہیں بات نہیں کرسکتے بعدازاں رابطے پربھی ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ۔
Load Next Story