6ماہ میں قتل بم دھماکوں اوردیگرواقعات میں1773ہلاکتیں

92 پولیس اور نیم سرکاری اداروں کے 18 اہلکاروں کوبھی ٹارگٹ کلنگ کانشانہ بنایاگیا،رپورٹ.

101 لاشیں ملیں،174 سیاسی کارکن مارے گئے، پولیس ورینجرزعوام کے تحفظ میں ناکام ہوگئی۔ فوٹو: فائل

شہرمیں رواں سال کے ابتدائی 6ماہ کے دوران ٹارگٹ کلنگ،بم دھماکوں،اغوا کے بعدقتل کرنے اور قتل و غارت کی دیگروارداتوں میں 1773 افرادزندگی کی بازی ہارگئے۔

جس میں 83خواتین اور78بچے بھی شامل ہیں ، ہیومن رائٹس کمیشن برائے پاکستان کے کونسل ممبراسد اقبال بٹ نے نمائندہ ایکسپریس سے خصوصی گفتگوکے دوران گزشتہ 6 ماہ کے دوران کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد وشمارسے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شہر میں امن وامان کے قیام کے حوالے سے پولیس اور رینجرز مکمل طورپرناکام ہو چکی،شہر میں 1345 افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بناکر قتل کیا گیا جس میں 73 افراد کو فرقہ وارانہ دہشت گردی میں نشانہ بنایاگیا۔




203 افرادکواغوا کے بعد قتل کیا گیا ،رواں سال کے 6 ماہ کے دوران قتل کی وارداتوں میں 545 غیرسیاسی اور174 سیاسی کارکنوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا جبکہ 101 افراد کی مختلف مقامات سے لاشیں ملیں ، قتل غارت گری کے دوران92 پولیس اہلکاروں اور 18 نیم سرکاری اہلکاروں کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا،رواں سال کے چھ ماہ میں 92 افراد بم دھماکوں میں،41 افرادلیاری گینگ وارجبکہ 6 افراد کاروکاری کے الزام میں موت کے گھاٹ اتاردیے گئے ۔

ہیومن رائٹس کمیشن برائے پاکستان کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق 51 افراد کو مختلف جرائم کی وارداتوں کے دوران اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑاجس میں 49 افراد ڈاکوؤں اور 101 افراد زاتی دشمنی کی بنا پر قتل کیے گیے ،رپورٹ کے مطابق 69 افراد قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی فائرنگ سے مارے گئے۔
Load Next Story