’’نوازشریف کے پاس بھارت سے آزاد تجارت کابہترین موقع ہے‘‘
دونوں ممالک کے درمیان حائل رکاوٹوں کا ختم کرکے تجارت کاحجم40ارب ڈالر سالانہ کیاجاسکتا ہے.
دونوں ممالک کے درمیان حائل رکاوٹوں کا ختم کرکے تجارت کاحجم40ارب ڈالر سالانہ کیاجاسکتا ہے. فوٹو: فائل
امریکی میڈیانے کہاہے کہ نوازشریف کے پاس بہترین موقع ہے کہ بھارت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہد ہ کریں ۔
جبکہ بھارتی کانگریس کی آئندہ انتخابات میں کامیابی کیلیے یہ معاہدہ ضروری ہے،جنوبی ایشیا میں امن کا واحد طریقہ باہمی تجارت ہے، دونوں ممالک کے درمیان حائل رکاوٹوں کا ختم کرکے تجارت کاحجم40ارب ڈالر سالانہ کیاجاسکتا ہے۔ امریکی اخباردی کرسچن سائنس مانیٹرنے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ غربت کے خاتمے کیلیے صرف تجارت ہی حل نہیں لیکن پاکستان اوربھارت کے درمیان ایک آزاد تجارتی معاہدہ اقتصادی ترقی اور علاقائی امن میں مدد دے گا،دونوں ممالک میں سیاسی فضا کبھی بھی بہتر نہیں رہی ، پاکستان کے نئے وزیر اعظم نواز شریف کو ان لمحوں کو اپنی گرفت میں لینا چاہیے۔
نواز شریف کوتباہی کے دہانے پر کھڑی معاشی صورت حال،بجلی بحران سے ہر طرف چھایا اندھیرا ، نسلی اور فرقہ وارانہ کشیدگی اوراندرونی دہشت گردی کے خطرے جیسے مسائل سے کاسامنا ہے،اس کے باوجود نواز شریف کے پاس اہم اقتصادی اور سیاسی موقع ہے،اس سال بھارت کو تجارتی لحاظ سے پسندیدہ ملک کا درجہ دے کر پاک بھارت تجارتی تعلقات کومعمول پر لانا طے ہے لیکن نواز شریف کواس سے بھی ایک قدم آگے جانا چاہیے اور شمالی امریکا کے آزادتجارتی معاہدے کی طرز پر پاک بھارت آزاد تجارتی معاہدہ کرنا چاہیے۔
پاک بھارت تعلقات میں دیرینہ دشمنی نے جنوبی ایشیاکودنیا میں ہر لحاظ سے پیچھے چھوڑدیا ہے ،تقسیم برصغیر کے بعد دونوں ممالک جنگیں بھی لڑچکے یہی وجہ ہے کہ پورے خطے کی مجموعی تجارت میں جنوبی ایشیاکا صرف5فی صد حصہ ہے،سارک نے بھی اس سلسلے میں کوئی کردار ادانہیں کیا،پاک بھارت سرحد1800میل پرمحیط ہے لیکن تجارت صرف ایک راستے سے ہوتی ہے۔ یہ بات بھی یقینی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان محفوظ تجارتی معاہدہ آسان نہیں ہو گا لیکن پہلے کی نسبت اب فضا بہتر ہے اورنوازشریف کو اس موقع سے فائدہ اٹھاناچاہیے۔
جبکہ بھارتی کانگریس کی آئندہ انتخابات میں کامیابی کیلیے یہ معاہدہ ضروری ہے،جنوبی ایشیا میں امن کا واحد طریقہ باہمی تجارت ہے، دونوں ممالک کے درمیان حائل رکاوٹوں کا ختم کرکے تجارت کاحجم40ارب ڈالر سالانہ کیاجاسکتا ہے۔ امریکی اخباردی کرسچن سائنس مانیٹرنے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ غربت کے خاتمے کیلیے صرف تجارت ہی حل نہیں لیکن پاکستان اوربھارت کے درمیان ایک آزاد تجارتی معاہدہ اقتصادی ترقی اور علاقائی امن میں مدد دے گا،دونوں ممالک میں سیاسی فضا کبھی بھی بہتر نہیں رہی ، پاکستان کے نئے وزیر اعظم نواز شریف کو ان لمحوں کو اپنی گرفت میں لینا چاہیے۔
نواز شریف کوتباہی کے دہانے پر کھڑی معاشی صورت حال،بجلی بحران سے ہر طرف چھایا اندھیرا ، نسلی اور فرقہ وارانہ کشیدگی اوراندرونی دہشت گردی کے خطرے جیسے مسائل سے کاسامنا ہے،اس کے باوجود نواز شریف کے پاس اہم اقتصادی اور سیاسی موقع ہے،اس سال بھارت کو تجارتی لحاظ سے پسندیدہ ملک کا درجہ دے کر پاک بھارت تجارتی تعلقات کومعمول پر لانا طے ہے لیکن نواز شریف کواس سے بھی ایک قدم آگے جانا چاہیے اور شمالی امریکا کے آزادتجارتی معاہدے کی طرز پر پاک بھارت آزاد تجارتی معاہدہ کرنا چاہیے۔
پاک بھارت تعلقات میں دیرینہ دشمنی نے جنوبی ایشیاکودنیا میں ہر لحاظ سے پیچھے چھوڑدیا ہے ،تقسیم برصغیر کے بعد دونوں ممالک جنگیں بھی لڑچکے یہی وجہ ہے کہ پورے خطے کی مجموعی تجارت میں جنوبی ایشیاکا صرف5فی صد حصہ ہے،سارک نے بھی اس سلسلے میں کوئی کردار ادانہیں کیا،پاک بھارت سرحد1800میل پرمحیط ہے لیکن تجارت صرف ایک راستے سے ہوتی ہے۔ یہ بات بھی یقینی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان محفوظ تجارتی معاہدہ آسان نہیں ہو گا لیکن پہلے کی نسبت اب فضا بہتر ہے اورنوازشریف کو اس موقع سے فائدہ اٹھاناچاہیے۔