پی پی قائدین کی سیکیورٹی پرمامورتیسری اہم شخصیت قتل

بلال شیخ سے پہلے کراچی میں ہی منور سہروردی اورخالدشہنشاہ کوبھی قتل کیاجاچکاہے

بلال شیخ سے پہلے کراچی میں ہی منور سہروردی اورخالدشہنشاہ کوبھی قتل کیاجاچکاہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان پیپلزپارٹی کے قائدین کی سیکیورٹی پر مامور بلال شیخ تیسری اہم شخصیت تھے، جنھیں پراسرارطور پر قتل کردیاگیا۔

ان سے پہلے منورحسین سہروردی اورخالد شہنشاہ کوبھی پراسرار طور پر قتل کیاگیا۔ منورحسین سہروردی شہیدبے نظیر بھٹوکی سیکیورٹی کے نگران تھے،انھیں بھی17 جون2004کوگرومندر کے قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے شہید کردیاتھا۔ خالدشہنشاہ شہیدبے نظیر بھٹو اور بعدازاں صدر آصف زرداری کی سیکیورٹی پر مامورتھے،وہ بھی3سال قبل بلاول ہاؤس سے اپنے گھر جاتے ہوئے نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاںبحق ہوگئے تھے۔ منورسہروردی اور خالد شہنشاہ کے قاتلوں کااب تک کوئی پتہ نہیں چل سکا۔محترمہ بے نظیر بھٹوجب 2007میں وطن واپس آئیں تو بلال شیخ اس وقت جان نثارران بینظیرکے سربراہ تھے۔




بعد ازاں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین صدر آصف زرداری دونوں کے سیکیورٹی امور کے وہ نگران تھے۔ ان پر مئی2011 بھی ناظم آبادمیں حملہ ہواتھا اور ان کی گاڑی پر راکٹ داغے گئے تھے تاہم وہ محفوظ رہے تھے۔بلال شیخ نے اپنی سیاست کا آغاز 1986 میںپیپلزاسٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) سے کیا تھا۔وہ پی ایس ایف جناح کالج کے صدررہے،بعدازاں وہ پی ایس ایف کے کراچی ڈویژن کے صدربن گئے۔اس وقت وہ پیپلزپارٹی کے پی ایس107سٹی ایریاناظم آبادکے صدرتھے۔وہ تین مرتبہ جیل میں بھی رہے ۔

ضیا الحق ، جام صادق اور نواز شریف کے دورمیں انھوں نے طویل جیل کاٹی، وہ صدر آصف زرداری کے ساتھ بھی جیل میں رہے، وہ شروع سے ہی انتہائی سرگرم کارکن رہے،جسٹس نظام قتل کیس میں بھی ان کاٹرائل ہوتارہا،ان کا تعلق متوسط گھرانے سے تھا، وہ گلبہار میں رہائش پذیرتھے۔انھوں نے پسماندگان میں بیوہ ،تین بیٹے اور ایک بیٹی کو سوگوار چھوڑاہے۔

Recommended Stories

Load Next Story