حکومت کا عوام کو پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف
یہ معمولی کمی بھی مہنگائی کی چکی پستے عوام کے لیے تھوڑا سا ریلیف کہا جاسکتا ہے
یہ معمولی کمی بھی مہنگائی کی چکی پستے عوام کے لیے تھوڑا سا ریلیف کہا جاسکتا ہے۔ فوٹو: فائل
وفاقی حکومت نے نئے سال کی آمد پر عوام کو ریلیف فراہم کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 4 روپے 86 پیسے فی لٹر تک کمی کردی ہے ۔ مہنگائی کی چکی میں پستے ہوئے عوام کے لیے یہ خبر یقیناً خوش آیند ہے لیکن دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کو توقع کے برعکس بھی قرار دیا جارہا ہے کیونکہ عالمی منڈی میں جس تناسب سے تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں ، اتنا ہی ریلیف عوام کو بھی ملنا چاہیے تھا۔ گزشتہ سال عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 16 ڈالرکمی ہوئی لیکن پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات 21 روپے 3 پیسے فی لٹر تک مہنگی کی گئیں۔
2018میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت69 ڈالر سے کم ہوکر53 ڈالر فی بیرل ہوئی لیکن پاکستان کے عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف فراہم نہیں کیا جاسکا، حقیقت میں دیکھا جائے تو پٹرول کی قیمت میں تقریبا ساڑھے چار روپے کی کمی اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق روپے کی قدر گھٹ رہی ہے جب کہ ڈالر اونچی اڑان بھر رہا ہے ، مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے اورغریب کے لیے جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ حکومت اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا براہ راست فائدہ عوام کو پہنچنا چاہتی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ ٹرانسپورٹرز سے کرائے کم کروائے تاکہ عملی طور پر عام آدمی کے روزمرہ اخراجات میں کمی واقع ہو ۔ اس وقت پاکستانی معیشت پہلے ہی کافی مشکلات دوچار ہے ، زیادہ شرح سود کا بڑھنا اوردیگر ایسے دوسرے عوامل ہیں جنہوں نے مل کر عام آدمی کی زندگی کو بنا ڈالی ہے ۔
یہ معمولی کمی بھی مہنگائی کی چکی پستے عوام کے لیے تھوڑا سا ریلیف کہا جاسکتا ہے ۔ حکومت کوگرتی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد سرکاری ٹیکسزکوکم سے کم کرے تاکہ حقیقی معنوں میں تبدیلی آسکے۔ سپریم کورٹ میں اس حوالے سے کیس بھی زیرسماعت رہا ہے اور عوامی ریلیف کے حوالے سے مصنف اعلیٰ صائب تجاویزکے ساتھ ساتھ گزشتہ حکومت کی سرزنش بھی کی تھی ۔ پٹرول کی قیمت میں تقریبا ساڑھے چار روپے کی کمی عوام سے زیادتی کے مترادف ہے، عالمی منڈی میں جس طرح تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں اتنا ہی ریلیف عوام کو بھی ملنا چاہیے، تاکہ عوام کی زندگیوں میں بھی مثبت اور حقیقی تبدیلی آئے اور ملکی معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہے ۔
2018میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت69 ڈالر سے کم ہوکر53 ڈالر فی بیرل ہوئی لیکن پاکستان کے عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف فراہم نہیں کیا جاسکا، حقیقت میں دیکھا جائے تو پٹرول کی قیمت میں تقریبا ساڑھے چار روپے کی کمی اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق روپے کی قدر گھٹ رہی ہے جب کہ ڈالر اونچی اڑان بھر رہا ہے ، مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے اورغریب کے لیے جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ حکومت اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا براہ راست فائدہ عوام کو پہنچنا چاہتی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ ٹرانسپورٹرز سے کرائے کم کروائے تاکہ عملی طور پر عام آدمی کے روزمرہ اخراجات میں کمی واقع ہو ۔ اس وقت پاکستانی معیشت پہلے ہی کافی مشکلات دوچار ہے ، زیادہ شرح سود کا بڑھنا اوردیگر ایسے دوسرے عوامل ہیں جنہوں نے مل کر عام آدمی کی زندگی کو بنا ڈالی ہے ۔
یہ معمولی کمی بھی مہنگائی کی چکی پستے عوام کے لیے تھوڑا سا ریلیف کہا جاسکتا ہے ۔ حکومت کوگرتی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد سرکاری ٹیکسزکوکم سے کم کرے تاکہ حقیقی معنوں میں تبدیلی آسکے۔ سپریم کورٹ میں اس حوالے سے کیس بھی زیرسماعت رہا ہے اور عوامی ریلیف کے حوالے سے مصنف اعلیٰ صائب تجاویزکے ساتھ ساتھ گزشتہ حکومت کی سرزنش بھی کی تھی ۔ پٹرول کی قیمت میں تقریبا ساڑھے چار روپے کی کمی عوام سے زیادتی کے مترادف ہے، عالمی منڈی میں جس طرح تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں اتنا ہی ریلیف عوام کو بھی ملنا چاہیے، تاکہ عوام کی زندگیوں میں بھی مثبت اور حقیقی تبدیلی آئے اور ملکی معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہے ۔