سینیٹ کمیٹی تمام سرکاری عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی سفارش
ہوا کی مدد سے 3 لاکھ میگاواٹ، سورج کی شعاؤں سے 30 لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے
کمیٹی کی کاربونیٹڈ مشروبات بنانے والی کمپنیوں کے 10 سال سے زیر التوا مقدمات کا معاملہ فوٹو:فائل
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے تمام سرکاری عمارتوں کوشمسی توانائی پرمنتقل کرنے اورکاربونیٹڈ مشروبات بنانے والی کمپنیوں کے 10سال سے زیر التوا مقدمات چیف جسٹس کو بھجوانے کی سفارش کردی اوروزارت سے اسٹاف کی پرموشن اور دیگر معاملات پر رپورٹ بھی طلب کر لی۔
کمیٹی نے پاکستان کونسل برائے ری نیو ایبل انرجی ٹیکنالوجیز کا دورہ کیا اوراس موقع پر ادارے کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی،کمیٹی نے ادارے کوموثر بنانے اوراس کی استعداد کوبڑھانے کی سفارش کرتے ہوئے درپیش مالی مسائل اور افرادی قوت کی فراہمی پرزور دیا۔ کمیٹی چیئرمین مشتاق احمد نے کہاکہ پی سی آر ای ٹی ایک اہم ادارہ ہے تاہم سابقہ ادوارمیں حکومتوں کی عدم توجہ کے باعث ادارہ مسلسل نظراندازرہا اور اب وقت آ گیا کہ اس ادارے سے بھرپور استفادہ کیا جائے اورتوانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلیے ایسے اقدامات اٹھائے جائیں۔
اجلاس کو بتایاگیا کہ ادارے کی پچاس فیصدسے زائد ٹیکنیکل اسامیاں خالی پڑی ہیںاورملازمین کو کیرئیر میں آگے پیشرفت کیلئے مشکلات ہیں،انھوں نے بتایا کہ ادارے کاتحقیق اورترقی کیلئے بجٹ محض سولہ ملین ہے جوکہ ناکافی ہے، کمیٹی نے حکومت سے سفارش کی کہ ادارے کابجٹ فوری طور پر بڑھایا جائے اور اسکی سرپرستی کی جائے تاکہ توانائی ضروریات کومتبادل ذرائع سے پورا کرنے میںادارے کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایاجا سکے،کمیٹی نے پی سی آرای ٹی کو ہدایات دیں کہ متعلقہ صنعتوں کیساتھ مضبوط روابط پیدا کرنے کیلیے کوششیں کی جائیں۔
کمیٹی نے پاکستان کونسل برائے ری نیو ایبل انرجی ٹیکنالوجیز کا دورہ کیا اوراس موقع پر ادارے کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی،کمیٹی نے ادارے کوموثر بنانے اوراس کی استعداد کوبڑھانے کی سفارش کرتے ہوئے درپیش مالی مسائل اور افرادی قوت کی فراہمی پرزور دیا۔ کمیٹی چیئرمین مشتاق احمد نے کہاکہ پی سی آر ای ٹی ایک اہم ادارہ ہے تاہم سابقہ ادوارمیں حکومتوں کی عدم توجہ کے باعث ادارہ مسلسل نظراندازرہا اور اب وقت آ گیا کہ اس ادارے سے بھرپور استفادہ کیا جائے اورتوانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلیے ایسے اقدامات اٹھائے جائیں۔
اجلاس کو بتایاگیا کہ ادارے کی پچاس فیصدسے زائد ٹیکنیکل اسامیاں خالی پڑی ہیںاورملازمین کو کیرئیر میں آگے پیشرفت کیلئے مشکلات ہیں،انھوں نے بتایا کہ ادارے کاتحقیق اورترقی کیلئے بجٹ محض سولہ ملین ہے جوکہ ناکافی ہے، کمیٹی نے حکومت سے سفارش کی کہ ادارے کابجٹ فوری طور پر بڑھایا جائے اور اسکی سرپرستی کی جائے تاکہ توانائی ضروریات کومتبادل ذرائع سے پورا کرنے میںادارے کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایاجا سکے،کمیٹی نے پی سی آرای ٹی کو ہدایات دیں کہ متعلقہ صنعتوں کیساتھ مضبوط روابط پیدا کرنے کیلیے کوششیں کی جائیں۔