ٹیم میں سب نئے کھلاڑی شامل نہیں کیے جاسکتے وسیم باری
سرفراز کو جس کھلاڑی پر بھروسہ ہو اسے پلیئنگ الیون میں شامل کرے، وسیم باری
ایک کیچ بھی چھوڑنا شکست کا سبب بن جاتا ہے، وسیم باری، فوٹو: فائل
پاکستان کرکٹ بورڈ میں ہائی پرفارمنس سینٹر کراچی کے ڈائریکٹر و سابق ٹیسٹ کرکٹر وسیم باری نے کہا ہے کہ میں اس بات کا قائل ہوں کہ جسے ٹیم کا حصہ بنایا جائے اسے موقع بھی ملنا چاہیے۔
ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے سابق وکٹ کیپر بیٹسمین نے قومی ٹیسٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیم جنوبی افریقا کے خلاف پہلا ٹیسٹ جیت سکتی تھی تاہم ہاشم آملہ کا کیچ ڈراپ کرنا ناکامی کی ایک وجہ بنا، شکست کے دیگر اسباب میں بیٹنگ لائن کی مسلسل ناکامی اور خراب فیلڈنگ بھی ہے۔
وسیم باری نے کہا کہ پاکستانی بلے بازوں کو جنوبی افریقا کی مقامی کنڈیشنز کو سمجھنا ہوگا اور خرابیوں پر قابو پاتے ہوئے فیلڈنگ کو بہتر بنانا ہوگا کیونکہ ایک کیچ بھی چھوڑنا شکست کا سبب بن جاتا ہے۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ ٹیم میں سب نئے کھلاڑی شامل نہیں کیے جاسکتے، سینیئرز کو ٹیم میں رکھنا ضروری ہے تجربے کا نعم البدل نہیں ہے اور تجربے کی وجہ سے مجھے ہائی پرفارمنس سینٹر کی ذمہ داری ملی ہے، اسد شفیق اور محمد رضوان کو موقع دینے کا فیصلہ کپتان کا ہونا چاہیے۔
نوجوان کھلاڑیوں کے حوالے سے وسیم باری نے کہا کہ پی سی بی کے دیے گئے ٹاسک کے ساتھ اپنی حکمت عملی بھی بنائیں گے،کوشش ہوگی کہ اپنے تجربے سے نوجوان کرکٹرز کو مستفید کریں جب کہ تربیت کے ساتھ ساتھ آئی سی سی کے قوانین کے حوالے سے لیکچرز بھی منعقد کیے جائیں گے۔
ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے سابق وکٹ کیپر بیٹسمین نے قومی ٹیسٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیم جنوبی افریقا کے خلاف پہلا ٹیسٹ جیت سکتی تھی تاہم ہاشم آملہ کا کیچ ڈراپ کرنا ناکامی کی ایک وجہ بنا، شکست کے دیگر اسباب میں بیٹنگ لائن کی مسلسل ناکامی اور خراب فیلڈنگ بھی ہے۔
وسیم باری نے کہا کہ پاکستانی بلے بازوں کو جنوبی افریقا کی مقامی کنڈیشنز کو سمجھنا ہوگا اور خرابیوں پر قابو پاتے ہوئے فیلڈنگ کو بہتر بنانا ہوگا کیونکہ ایک کیچ بھی چھوڑنا شکست کا سبب بن جاتا ہے۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ ٹیم میں سب نئے کھلاڑی شامل نہیں کیے جاسکتے، سینیئرز کو ٹیم میں رکھنا ضروری ہے تجربے کا نعم البدل نہیں ہے اور تجربے کی وجہ سے مجھے ہائی پرفارمنس سینٹر کی ذمہ داری ملی ہے، اسد شفیق اور محمد رضوان کو موقع دینے کا فیصلہ کپتان کا ہونا چاہیے۔
نوجوان کھلاڑیوں کے حوالے سے وسیم باری نے کہا کہ پی سی بی کے دیے گئے ٹاسک کے ساتھ اپنی حکمت عملی بھی بنائیں گے،کوشش ہوگی کہ اپنے تجربے سے نوجوان کرکٹرز کو مستفید کریں جب کہ تربیت کے ساتھ ساتھ آئی سی سی کے قوانین کے حوالے سے لیکچرز بھی منعقد کیے جائیں گے۔