دہشت گردی کی الم ناک واردات اور حقائق
دہشت گردی سے نمٹنے کی ضرورت کا ادراک وزیراعظم نواز شریف کے فاٹا ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات سے لگایا جاسکتا ہے
انتہا پسندی اور دہشت گردی ملکی سالمیت اور قومی بقا کے خلاف ایک ہلاکت خیز سازش ہے۔ فوٹو: پی پی آئی/ فائل
SYDNEY:
کراچی میں نیوٹاؤن بنوریہ مسجد کے قریب خوفناک خودکش بم دھماکے میں صدر آصف علی زرداری کے سیکیورٹی انچارج بلال شیخ ، ان کا ڈرائیور اور سپاہی جاں بحق ہوگئے جب کہ خودکش بمبار کا سراور ٹانگیں جائے وقوعہ سے مل گئیں جنھیں پولیس نے اپنے قبضے میں لے کر ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھیج دیا ۔دہشت گردی کی اس تازہ خونیں واردات کو بلاشبہ دوبارہ جارحیت strike back کی کارروائی کہا جاسکتا ہے۔اس سفاکی اور بربریت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
تاہم اس واردات نے ثابت کردیا کہ دہشت گرد قوتیں ملکی سلامتی اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ پر مامور حکام پر خندہ زن ہیں، اپنے اہداف پر مسلسل کامیاب حملے کرتے جارہے ہیں جب کہ حکام کے ترکش سے کوئی تیر کسی خود کش بمبار کے سینے کے آرپار نہیں ہوتا۔ منکشف ہونیوالے قومی حقائق قوم کو مزید رنجیدہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی ملکی سالمیت اور قومی بقا کے خلاف ایک ہلاکت خیز سازش ہے ، یہ ہولناک عفریت ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مسلسل ہزیمت، پسپائی، ناکامی اور خجالت سے دوچار ہونے کے بجائے جنگی بنیادوں پر نئی حکمت عملی بنانی چاہیے جس کا اولین ہدف خود کش بمبار کو واردات سے پہلے قابو کرنے کی اہلیت کا مظاہرہ کرنا ہے ۔
بلاشبہ دہشت گردی سے نمٹنے کی ضرورت کا ادراک وزیراعظم نواز شریف کے فاٹا ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی سے شدید متاثر ہوا ہے اور ہم مزید ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کے متحمل نہیں ہوسکتے، دہشت گردی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انھوںنے کہا کہ ہمارے پاس دہشت گردی کے مسئلے کا نتیجہ خیز حل تلاش کرنے کے لیے بہترین اور مربوط حکمت عملی پر سرگرمی سے عملدرآمد کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ فاٹا کے لوگوں کو امن کا تحفہ دینا چاہتے ہیں، ہم دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والوں اور مشکلات کا سامنا کرنے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ یہ حکومت کا چیلنج ہے کہ وہ معیشت کی بحالی کو ممکن بنائے گی اور معیشت کی بحالی کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔
وزیراعظم نے فاٹا کو امن کا تحفہ دینے کی بات کی ہے جب کہ قوم بھی چاہتی ہے کہ امن کا تحفہ پوری قوم کو ملے۔ دہشت گردی حد سے گزر چکی ، قوم کے صبر کا امتحان بھی لے چکی۔ اب مزید کسی طاقت کو خونیں کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔ یہ کھلی بربریت اور بے رحمی کی انتہا ہے کہ منی پاکستان میں عین اس وقت خون کی ہولی کھیلی گئی جب شہری رمضان المبارک کی تیاریوں میں مصروف تھے، لوگ جگہ جگہ مارکیٹوں میں رمضان کا راشن، پھل، سبزی ، گوشت اور دیگر اشیائے ضرورت خرید رہے تھے۔ مگر یہ لمحہ فکر یہ ہے کہ ملک و قوم سے انتقام لینے، ریاستی نظام کو کمزور کرنے، جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے اور بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے پر کمر بستہ عناصرکس درجہ فعال، منظم اور دیدہ دلیر ہیں ۔
حسب معمول صدر کے چیف سیکیورٹی انچارج کو قتل کرنے میں بھی خود کش بمبار کو راہ میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی ، وہ اگر پہلے سے پھل فروش کے قریب موجود تھا تو اپنی شناخت چھپانے میں کامیاب رہا اور اگر وہ اپنے ہدف کے مستقل تعاقب میں تھا تو ایسا منظر ہالی ووڈ کی فلموں میں ہی نظر آتا ہے۔ خود کش بمبار کی جسمانی ہئیت اور اس کی جیکٹ کس طرح نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ وہ اتنا بھاری وزن اٹھائے کس طرح شاہیں صفت بن کر شکار پر جھپٹتا ہے۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی تحقیقات میں اس نکتہ کا جواب دینا چاہیے۔ ستم تو یہ ہے کہ بلال شیخ اور دیگر کی الم ناک ہلاکت کے ساتھ ساتھ کراچی کے مختلف علاقوں میں اسی روز فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں 10 افراد ہلاک جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ منی پاکستان لاشوں کا شہر کیوں بن گیا ہے؟
ادھر کراچی پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو نے صحافیوں کو بتایا کہ بلال شیخ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنا راستہ تبدیل کرکے سفر کیا کرتے تھے اور بدھ کو وہ ڈیفنس میں واقع گھر سے خاموش کالونی گلبہار میں واقع اپنے دوسرے گھر ڈبل کیبن گاڑی نمبرAJKF-7830 میں جارہے تھے کہ اس دوران وہ نیو ٹاؤن کے قریب پھل خریدنے کے لیے رکے اور ان کا ڈرائیور عرفان زیدی باہر نکل کر پھل فروش بات چیت کر رہا تھا کہ اس دوران بلال شیخ نے جو کہ گاڑی کی اگلی سیٹ پر بیٹھے تھے پھل فروش سے بات کرنے کے لیے تھوڑا سا دروازہ کھولا ہی تھا کہ قریب ہی موجود خودکش حملہ آور نے ان پر حملہ کردیا جس میں بلال شیخ اور ان کا ڈرائیورجاں بحق ہوگئے ۔ حملہ آور کی عمر45 سال سے زائد بتائی گئی ہے ،
اس کے سر کے بال کالے سفید ہیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ہائی پروفائل واردات کی تحقیقات جلد مکمل کی جائے ، موت فطرت کا اک بہانہ ہے کیونکہ بلال شیخ کی ڈبل کیبن گاڑی کوبلٹ پروف بنایا گیا تھا ، تاہم گاڑی کا دروازہ کھولنا ان کے لیے ایک ایسی غلطی بن گیا جس میں وہ جان کی بازی ہار گئے ۔صدر نے کہا کہ بلال صرف ساتھی ہی نہ تھے بلکہ بیٹوں کی طرح تھے ۔یاد رہے بلال شیخ پی پی قیادت کی سیکیورٹی پر مامور تیسری اہم شخصیت تھے جنھیں قتل کر دیا گیا، ان سے پہلے بینظیر بھٹو اور صدر زرداری کی سیکیورٹی پر مامور منور سہروردی اور خالد شہنشاہ کو بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا تاہم آج تک قاتلوں کا سراغ نہیں مل سکا۔ محترمہ بینظیر بھٹو جب 2007 میں وطن واپس آئیں تو بلال شیخ اسوقت جاں نثار ران بینظیر کے سربراہ تھے۔
بعدازاں بلاول بھٹو زرداری اور صدر زرداری کے سیکیورٹی امور کے وہ نگران تھے۔ بلال شیخ نے اپنی سیاست کا آغاز 1986میں پی ایس ایف سے کیا تھا، انھوں نے ضیاء الحق، جام صادق اور نواز شریف کے دور میں طویل جیل کاٹی، وہ صدر زرداری کے ساتھ بھی جیل میں رہے۔
ارباب اختیار سے التجا یہی ہے کہ وہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے سخت موقف اختیار کریں، داخلی و خارجی محاذوں پر آستین کے سانپوں سے ہوشیار رہیں جب کہ دہشت گردی کے خلاف مجوزہ قومی سلامتی پالیسی کو امن کے قیام کے لیے سنگ میل کا درجہ دیتے ہوئے پیش قدمی کریں ۔ زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر دیکھیں کہ عسکری قیادت نے اپنے ڈاکٹرائن کے تحت ملک کی داخلی صورتحال کو اہمیت دی ہے اور اندر کے دشمن سے خبردار رہنے کا مشورہ دیا ہے ۔ دہشت گردی کی کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے قوم کو اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے ۔میڈیا پر بلیم گیم کا منظر نامہ تبدیل ہونا چاہیے۔ مسئلہ صرف کراچی کا نہیں پورے ملک میں پھیلی بلاجواز لاقانونیت ، قتل وغارت ، انارکی، بے یقینی اور انتہا پسندی کا ہے ۔حکمراںدہشت گردی کے ساتھ ساتھ غربت اور مہنگائی کے خلاف بھی جنگ لڑیں جب کہ اقتصادی وسیاسی استحکام کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا بھی ان کی ذمے داری ہے۔
کراچی میں نیوٹاؤن بنوریہ مسجد کے قریب خوفناک خودکش بم دھماکے میں صدر آصف علی زرداری کے سیکیورٹی انچارج بلال شیخ ، ان کا ڈرائیور اور سپاہی جاں بحق ہوگئے جب کہ خودکش بمبار کا سراور ٹانگیں جائے وقوعہ سے مل گئیں جنھیں پولیس نے اپنے قبضے میں لے کر ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھیج دیا ۔دہشت گردی کی اس تازہ خونیں واردات کو بلاشبہ دوبارہ جارحیت strike back کی کارروائی کہا جاسکتا ہے۔اس سفاکی اور بربریت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
تاہم اس واردات نے ثابت کردیا کہ دہشت گرد قوتیں ملکی سلامتی اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ پر مامور حکام پر خندہ زن ہیں، اپنے اہداف پر مسلسل کامیاب حملے کرتے جارہے ہیں جب کہ حکام کے ترکش سے کوئی تیر کسی خود کش بمبار کے سینے کے آرپار نہیں ہوتا۔ منکشف ہونیوالے قومی حقائق قوم کو مزید رنجیدہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی ملکی سالمیت اور قومی بقا کے خلاف ایک ہلاکت خیز سازش ہے ، یہ ہولناک عفریت ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مسلسل ہزیمت، پسپائی، ناکامی اور خجالت سے دوچار ہونے کے بجائے جنگی بنیادوں پر نئی حکمت عملی بنانی چاہیے جس کا اولین ہدف خود کش بمبار کو واردات سے پہلے قابو کرنے کی اہلیت کا مظاہرہ کرنا ہے ۔
بلاشبہ دہشت گردی سے نمٹنے کی ضرورت کا ادراک وزیراعظم نواز شریف کے فاٹا ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی سے شدید متاثر ہوا ہے اور ہم مزید ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کے متحمل نہیں ہوسکتے، دہشت گردی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انھوںنے کہا کہ ہمارے پاس دہشت گردی کے مسئلے کا نتیجہ خیز حل تلاش کرنے کے لیے بہترین اور مربوط حکمت عملی پر سرگرمی سے عملدرآمد کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ فاٹا کے لوگوں کو امن کا تحفہ دینا چاہتے ہیں، ہم دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والوں اور مشکلات کا سامنا کرنے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ یہ حکومت کا چیلنج ہے کہ وہ معیشت کی بحالی کو ممکن بنائے گی اور معیشت کی بحالی کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔
وزیراعظم نے فاٹا کو امن کا تحفہ دینے کی بات کی ہے جب کہ قوم بھی چاہتی ہے کہ امن کا تحفہ پوری قوم کو ملے۔ دہشت گردی حد سے گزر چکی ، قوم کے صبر کا امتحان بھی لے چکی۔ اب مزید کسی طاقت کو خونیں کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔ یہ کھلی بربریت اور بے رحمی کی انتہا ہے کہ منی پاکستان میں عین اس وقت خون کی ہولی کھیلی گئی جب شہری رمضان المبارک کی تیاریوں میں مصروف تھے، لوگ جگہ جگہ مارکیٹوں میں رمضان کا راشن، پھل، سبزی ، گوشت اور دیگر اشیائے ضرورت خرید رہے تھے۔ مگر یہ لمحہ فکر یہ ہے کہ ملک و قوم سے انتقام لینے، ریاستی نظام کو کمزور کرنے، جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے اور بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے پر کمر بستہ عناصرکس درجہ فعال، منظم اور دیدہ دلیر ہیں ۔
حسب معمول صدر کے چیف سیکیورٹی انچارج کو قتل کرنے میں بھی خود کش بمبار کو راہ میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی ، وہ اگر پہلے سے پھل فروش کے قریب موجود تھا تو اپنی شناخت چھپانے میں کامیاب رہا اور اگر وہ اپنے ہدف کے مستقل تعاقب میں تھا تو ایسا منظر ہالی ووڈ کی فلموں میں ہی نظر آتا ہے۔ خود کش بمبار کی جسمانی ہئیت اور اس کی جیکٹ کس طرح نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ وہ اتنا بھاری وزن اٹھائے کس طرح شاہیں صفت بن کر شکار پر جھپٹتا ہے۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی تحقیقات میں اس نکتہ کا جواب دینا چاہیے۔ ستم تو یہ ہے کہ بلال شیخ اور دیگر کی الم ناک ہلاکت کے ساتھ ساتھ کراچی کے مختلف علاقوں میں اسی روز فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں 10 افراد ہلاک جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ منی پاکستان لاشوں کا شہر کیوں بن گیا ہے؟
ادھر کراچی پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو نے صحافیوں کو بتایا کہ بلال شیخ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنا راستہ تبدیل کرکے سفر کیا کرتے تھے اور بدھ کو وہ ڈیفنس میں واقع گھر سے خاموش کالونی گلبہار میں واقع اپنے دوسرے گھر ڈبل کیبن گاڑی نمبرAJKF-7830 میں جارہے تھے کہ اس دوران وہ نیو ٹاؤن کے قریب پھل خریدنے کے لیے رکے اور ان کا ڈرائیور عرفان زیدی باہر نکل کر پھل فروش بات چیت کر رہا تھا کہ اس دوران بلال شیخ نے جو کہ گاڑی کی اگلی سیٹ پر بیٹھے تھے پھل فروش سے بات کرنے کے لیے تھوڑا سا دروازہ کھولا ہی تھا کہ قریب ہی موجود خودکش حملہ آور نے ان پر حملہ کردیا جس میں بلال شیخ اور ان کا ڈرائیورجاں بحق ہوگئے ۔ حملہ آور کی عمر45 سال سے زائد بتائی گئی ہے ،
اس کے سر کے بال کالے سفید ہیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ہائی پروفائل واردات کی تحقیقات جلد مکمل کی جائے ، موت فطرت کا اک بہانہ ہے کیونکہ بلال شیخ کی ڈبل کیبن گاڑی کوبلٹ پروف بنایا گیا تھا ، تاہم گاڑی کا دروازہ کھولنا ان کے لیے ایک ایسی غلطی بن گیا جس میں وہ جان کی بازی ہار گئے ۔صدر نے کہا کہ بلال صرف ساتھی ہی نہ تھے بلکہ بیٹوں کی طرح تھے ۔یاد رہے بلال شیخ پی پی قیادت کی سیکیورٹی پر مامور تیسری اہم شخصیت تھے جنھیں قتل کر دیا گیا، ان سے پہلے بینظیر بھٹو اور صدر زرداری کی سیکیورٹی پر مامور منور سہروردی اور خالد شہنشاہ کو بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا تاہم آج تک قاتلوں کا سراغ نہیں مل سکا۔ محترمہ بینظیر بھٹو جب 2007 میں وطن واپس آئیں تو بلال شیخ اسوقت جاں نثار ران بینظیر کے سربراہ تھے۔
بعدازاں بلاول بھٹو زرداری اور صدر زرداری کے سیکیورٹی امور کے وہ نگران تھے۔ بلال شیخ نے اپنی سیاست کا آغاز 1986میں پی ایس ایف سے کیا تھا، انھوں نے ضیاء الحق، جام صادق اور نواز شریف کے دور میں طویل جیل کاٹی، وہ صدر زرداری کے ساتھ بھی جیل میں رہے۔
ارباب اختیار سے التجا یہی ہے کہ وہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے سخت موقف اختیار کریں، داخلی و خارجی محاذوں پر آستین کے سانپوں سے ہوشیار رہیں جب کہ دہشت گردی کے خلاف مجوزہ قومی سلامتی پالیسی کو امن کے قیام کے لیے سنگ میل کا درجہ دیتے ہوئے پیش قدمی کریں ۔ زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر دیکھیں کہ عسکری قیادت نے اپنے ڈاکٹرائن کے تحت ملک کی داخلی صورتحال کو اہمیت دی ہے اور اندر کے دشمن سے خبردار رہنے کا مشورہ دیا ہے ۔ دہشت گردی کی کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے قوم کو اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے ۔میڈیا پر بلیم گیم کا منظر نامہ تبدیل ہونا چاہیے۔ مسئلہ صرف کراچی کا نہیں پورے ملک میں پھیلی بلاجواز لاقانونیت ، قتل وغارت ، انارکی، بے یقینی اور انتہا پسندی کا ہے ۔حکمراںدہشت گردی کے ساتھ ساتھ غربت اور مہنگائی کے خلاف بھی جنگ لڑیں جب کہ اقتصادی وسیاسی استحکام کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا بھی ان کی ذمے داری ہے۔