جائے نماز صفیں تسبیح اور ٹوپیوں کی فروخت میں ا ضافہ ہو گیا

شہر کی مساجد میں نمازیوں کی کثیر تعداد کی جانب سے ٹوپیاں پہن کر نماز پڑھنے کا رحجان واپس آنے لگا

ماہ صیام کے آغاز پر ایک مسجد کے باہر لگے اسٹال سے شہری ٹوپیاں اور تسبیح خرید رہے ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

رمضان کی آمد پر عبادات میں استعمال ہونے والی اشیا جائے نماز ، مساجد کی صفوں، تسبیح اور ٹوپیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔

تاہم ان اشیا کے تھوک مارکیٹ کے بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ عوام کی قوت خرید نہ بڑھنے اور اولڈ سٹی ٹریڈنگ ایریا میں امن وامان کی خراب صورتحال کی وجہ سے ٹوپیوں، تسبیح سمیت دیگر اشیا کی فروخت پچھلے سال سے 70 فیصد تک کم ہے، ''ایکسپریس'' سروے کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ رمضان المبارک کی نسبت رواں سال پیداواری وکاروباری لاگت بڑھنے کی وجہ سے مقامی ودرآمد شدہ مختلف اقسام کی ٹوپیوں کی قیمت میں 25 فیصد تک کا اضافہ ہوا ، ٹوپیوں، تسبیح کے ایک بڑے بیوپاری عبدالقادر نے ''ایکسپریس'' کے استفسار پر بتایا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، جنرل سیلزٹیکس کی شرح میں اضافے کی وجہ سے رواں سال بھی گزشتہ سال کی نسبت چین سے ٹوپیوں کی درآمدی سرگرمیاں30 فیصد تک محدود رہی ہیں۔


جبکہ تھائی لینڈ ، بنگلہ دیش اور ملائشیا سے بھی ٹوپیوں کی درآمدات نہ ہونے کے برابر رہی ہیں، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں سال مساجد میں نمازیوں کی ایک کثیر تعداد میں ٹوپیاں پہن کر نماز پڑھنے کا رحجان پیدا ہوگیاہے، بیوپاری عبدالقادر نے بتایا کہ کراچی میں گزشتہ پانچ سال کے دوران امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے سب سے زیادہ اولڈ سٹی ٹریڈنگ ایریا متاثر ہوا ہے جہاں پانچ سال قبل تک ٹوپیاں، تسبیح سمیت ماہ رمضان کے دوران عبادات میں استعمال ہونے والی دیگر اشیائے ضروریہ کے سیکڑوں پتھارے مارکیٹوں اور مساجد کے اطراف میں قائم ہوجاتے تھے آرام باغ کی جامع مسجد اور بولٹن مارکیٹ کی نیو میمن مسجد کے باہر چند سال قبل تک 26 سے زائد ٹوپیوں اور تسبیح کے مستقل پتھارے قائم ہوا کرتے تھے جو اب 4 تا2 پتھاروں تک محدود ہوگئے ہیں۔

بیشتر دکانداروں کا کہنا ہے کہ کراچی بالخصوص اولڈ سٹی ٹریڈنگ ایریا میں مستقل بنیادوں پر خراب حالات کی وجہ سے ان علاقوں کے تجارتی مراکز میں خریداروں کی آمدورفت بھی انتہائی محدود ہوگئی ہے ، بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ اولڈ سٹی ایریا میں قائم ہونیوالے چند ٹوپیوں کے پتھاروں پرپہلے رمضان المبارک سے ہی شوقین افراد کی گہما گہمی بڑھ گئی ہے، مارکیٹ سروے کے دوران معلوم ہوا ہے کہ تھوک مارکیٹ میں چائنہ کی کپڑے والی ٹوپی کی فی درجن قیمت60 روپے کے اضافے سے300 روپے ہوگئی ہے، انڈونیشیا کی ٹوپی کی فی درجن قیمت20 روپے کے اضافے سے180 روپے جبکہ سوات کی تیار ٹوپیوں کی فی درجن قیمت400 روپے کے اضافے سے2400 روپے فی درجن ہوگئی ہے، بنگلہ دیشی ٹوپی کی فی درجن قیمت60 روپے کے اضافے سے480 روپے، مقامی طور پر تیار ہونے والی عام کپڑے کی فی ٹوپی 25 روپے، 40 روپے اور60 روپے میں فروخت کی جارہی ہیں اسی طرح نٹنگ ٹوپی کی فی درجن قیمت40 روپے کے اضافے سے520 روپے ہوگئی ہے۔؎
Load Next Story