عالم اسلام کواتحاد کی اشد ضرورت ہے

بہت سی قرآنی آیات اور احادیث میں رحمت، وحدت اور اسلامی وانسانی اخوت کی طرف دعوت دی گئی ہے

امتِ محمدیہ میں تفرقہ ڈالنا سب سے بڑا ظلم ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

اسلام نے سب سے زیادہ جس چیز پر زور دیا ہے وہ ہے بھائی چارہ۔ فرمان مصطفی ﷺ ہے کہ سب اہل اسلام بھائی بھائی ہیں۔ اس حدیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عالم اسلام کے تمام مومن ایک قوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ غیر مسلم طاقتوں کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ کسی نہ طرح عالم اسلام کی شیرازہ بندی کوتوڑا جائے اور قرآن پاک کی روشنی میں اس کام میں وہ یہودونصاریٰ پیش پیش ہیں۔ اسی لئے خالق کائنات نے بے عیب ولاریب کتاب میں واضح فرمادیا کہ ''یہودونصاری کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے''۔ اور جو دوست نہیں ہوسکتا اس سے اچھائی کی توقع رکھنا بے وقوفی کے مترادف ہے۔

یہود ونصاری شروع سے ہی مسلمانوں کا بھیس بدل کر مسلمانوں اور اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کی گواہی قرآن پاک کی سورہ منافقون میں موجود ہے۔
تاریخ اسلام گواہ ہے کہ مسلمان تو مسلمان پر جان نچھاور کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا، مگر اب پتہ نہیں مسلمان، مسلمان کے خون کا پیاسا کیوں بن گیا ہے؟ مسلمان، مسلمان کی تذلیل کرنے پر کیوں تلا ہوا ہے؟ مسلمان، مسلمان کی آزادی صلب کرنے پر کیوں آمادہ ہے؟ مسلمان، مسلمان کا حق مارنے کا کیوں سوچ رہا ہے؟ مسلمان، مسلمان سے آئے دن کیوں دور ہوتا چلا جارہا ہے۔

جبکہ ہماری مقدس کتاب قرآن پاک میں اللہ تعالی نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ ''اللہ کی رسی کو مظبوطی سے پکڑو اور تفرقوں میں نہ پڑو''۔ اگر یہ کہا جائے کہ قرآن کریم ہمیں ایک ہونے کا حکم دے رہا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ مگر ہم ہیں کہ تعلیمات اسلامی کو چھوڑ کر غیروں کے اشاروں پر چل رہے ہیں، اور دکھ کی بات یہ ہے کہ مسلمان، ایک دوسرے سے دست وگریباں نظر آتے ہیں۔ امتِ محمدیہ میں تفرقہ ڈالنا سب سے بڑا ظلم ہے۔ ہمیں قرآنی آیات، احادیث، اجتہادات اور ایسے لوگوں کی آرا جو امت کو اتحاد کی طرف بلاتی ہیں، ان سے استفادہ کرکے اس مہلک بیماری کا علاج تلاش کرنا ہوگا۔

بہت سی قرآنی آیات اور احادیث میں رحمت، وحدت اور اسلامی وانسانی اخوت کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ ان امور کو اسلامی معاشرے کے لئے اہم قرار دیا گیا ہے۔ اسلام کی اعلی و ارفع تعلیمات کے باوجود اسلامی ممالک میں غربت، افلاس، نفاق، ظلم، عدم مساوات، بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی وارداتیں اور طبقاتی فاصلے کا مرض دیکھنے کو ملتا ہے، جس کی وجہ سے ان ممالک میں اکثریت لوگوں کی زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی ہے۔ عالم اسلام میں مسلم امہ کا درد رکھنے والے لوگ اتحاد پر زور دے رہے ہیں، مگر کچھ ایسے عناصر بھی پائے جاتے ہیں جو الگ ذہنیت کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ مذہبی اختلافات اور بعض رسومات کو غلط رنگ اور غلط ہوا دے کر مسلمانوں کو کافر قرار دے رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ انہیں واجب القتل بھی قرار دیتے ہیں۔ جبکہ اسلام میں انسان کی جان اور اس کے تحفظ پر تاکید کی گئی ہے۔


ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ''جو شخص کسی کو نہ جان کے بدلے میں، نہ ملک میں فساد پھیلانے کی سزا میں (ناحق) قتل کردے، تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کرڈالا''۔ اسی طرح سورۃ النسا میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ ''کسی ایماندار کے لیے جائز نہیں کہ کسی مومن کو جان سے مارڈالے، مگر غلطی سے''۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ ''اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر مارڈالے تو اس کی سزا دوزخ ہے، اور ہمیشہ اس میں رہے گا''۔ اس پر اللہ تبارک وتعالی نے اپنا غضب ڈھایا ہے اور اس پر لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا سخت عذاب تیار کررکھا ہے۔

یہاں پر واضح ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن حکیم میں مسلمانوں کے لئے مومن کی تعبیر استعمال کی ہے۔ دور حاضر کے مسلمانوں کو کیا ہوگیا ہے کہ مسلمان ہرجگہ ذلت کا شکار ہیں، غیر مسلم آئے دن مسلمانوں پر ظلم ڈھارہے ہیں۔ جیسے فلسطین، عراق، لبنان، افغانستان، شام، برما، چیچنیا، کشمیر اور ان کے علاوہ بھی کئی اسلامی ممالک ہیں جہاں مسلمانوں کی عزتیں لوٹی جارہی ہیں، خواتین بچوں پر ظلم وستم کیے جارہے ہیں اور ان کی آزادی کو صلب کیا جارہا ہے۔ مگر مسلمانان عالم کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

ہر فرد کو اللہ کے احکامات پر عمل ہوتے ہوئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، اور اس نفرت، ذاتی انا اور مفادات کی سرد جنگ کو ختم کرکے ایک ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنے ذہن میں ایک ہونے کی فکر کو رواج دینا ضروری ہے۔ اس سے ایک دوسرے کا حترام کرنے کی فضاقائم ہوگی اور نفرت ایک بند گلی میں بند ہوکر رہ جائے گی۔ جس کے نتیجے میں امت مسلمہ کے درمیان تعاون اور مفاہمت بڑھے گی۔ اس عمل سے امت مسلمہ کی شیرازہ بندی ہوگی اور تمام مسلمان امت واحدہ بن کر عزت ووقار سے زندگی گزاریں گے، ان کو کبھی بھی ذلت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور کامیابی عالم اسلام کے قدم چومے گی۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
Load Next Story